Tag: ممبئی

  • باپ پر معذور بیٹی سے جنسی زیادتی اور حمل کا الزام، ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق

    باپ پر معذور بیٹی سے جنسی زیادتی اور حمل کا الزام، ڈی این اے رپورٹ میں تصدیق

    بھارت کے شہر ممبئی کے علاقے کف پریڈ میں ایک شخص پر اپنی 20 سالہ معذور بیٹی سے طویل عرصے تک جنسی زیادتی کرنے اور اسے حاملہ کرنے کا الزام ثابت ہوا ہے۔ پولیس کے مطابق جنین کے ڈی این اے نمونے کا میچ متاثرہ لڑکی کے والد سے ہوا، جس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔

    انڈین میڈیا کے مطابق متاثرہ لڑکی پیدائشی طور پر بہری اور گونگی ہے اور ذہنی معذوری کا بھی شکار بتائی جاتی ہے۔ وہ بات چیت اور اپنی ضروریات یا تکالیف کے اظہار میں شدید مشکلات کا سامنا کرتی ہے۔ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب ستمبر 2025 میں لڑکی نے پیٹ میں درد کی شکایت کی، جس پر اس کی دادی اسے ہسپتال لے گئیں۔ طبی معائنے کے دوران معلوم ہوا کہ لڑکی پانچ ماہ کی حاملہ ہے۔

    ہسپتال انتظامیہ نے پولیس کو اطلاع دی، جس کے بعد 22 ستمبر 2025 کو کف پریڈ پولیس اسٹیشن میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی سفارش پر حمل کو طبی بنیادوں پر ختم کیا گیا اور فرانزک جانچ کا فیصلہ کیا گیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس تفتیش کے دوران متاثرہ لڑکی کی جانب سے براہ راست بیان دینا ممکن نہیں تھا، جسے تفتیش کاروں نے ایک بڑا چیلنج قرار دیا۔ اس مرحلے پر اشاروں کی زبان، کونسلنگ اور ماہرین کی مدد سے معلومات حاصل کی گئیں۔ ابتدائی طور پر لڑکی نے اشاروں کے ذریعے بتایا کہ مختلف افراد نے اس کے ساتھ زیادتی کی ہے، جس پر پولیس نے 17 افراد، جن میں رشتہ دار اور قریبی افراد شامل تھے، کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے۔

    پولیس کے مطابق 27 جنوری 2026 کو موصول ہونے والی فرانزک رپورٹ میں صرف ایک ڈی این اے نمونہ جنین سے میچ ہوا، جو متاثرہ لڑکی کے والد کا تھا۔ اس پیش رفت کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل بھی ایک بالغ شخص کو گرفتار اور ایک نابالغ لڑکے کو حراست میں لیا گیا تھا، جن سے تفتیش جاری ہے۔

    سماجی کارکنوں نے اس واقعے کے بعد معذور افراد کے تحفظ، ایسے جرائم کی بروقت نشاندہی اور انصاف کی فراہمی سے متعلق خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے مقدمات میں تیز رفتار عدالتی کارروائی اور متاثرین کے لیے مؤثر تحفظ اور بحالی کے اقدامات ضروری ہیں۔

    پولیس کے مطابق کیس کی تفتیش تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ اگر مزید شواہد سامنے آئے تو مزید گرفتاریاں بھی ہو سکتی ہیں، جبکہ مقدمہ سخت دفعات کے تحت درج کیا گیا ہے۔