Tag: معراج محمد خان

  • تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل کا استعفیٰ، 2003 میں عمران خان کو لکھا خط آج بھی کیوں اہم؟

    تحریک انصاف کے سابق سیکرٹری جنرل کا استعفیٰ، 2003 میں عمران خان کو لکھا خط آج بھی کیوں اہم؟

    سنہ 2003 میں پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کو اُس وقت کے سیکرٹری جنرل معراج محمد خان کی جانب سے لکھا گیا ایک تفصیلی استعفیٰ اور تنقیدی خط آج بھی پاکستان کی سیاست میں غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ اس خط میں سیاسی جماعت کی تنظیم، قیادت، فیصلہ سازی، انتخابی حکمت عملی، جمہوری روایات اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر جو سوالات اٹھائے گئے تھے، سیاسی مبصرین کے مطابق ان میں سے کئی نکات آج بھی ملکی سیاست میں زیر بحث ہیں۔

    بائیں بازو کی سیاست سے وابستہ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی رہنماؤں میں شمار ہونے والے معراج محمد خان نے جب عمران خان کی نو قائم ہونے والی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی تو اس فیصلے نے سیاسی حلقوں، تجزیہ نگاروں اور صحافیوں کو حیران کر دیا تھا۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ عمران خان کو ابتدا ہی سے اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھا جاتا تھا، خصوصاً اُس وقت جب معروف سماجی شخصیت مولانا عبدالستار ایدھی نے انکشاف کیا کہ عمران خان نے اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل حمید گل کے ہمراہ ان سے ملاقات کر کے انہیں بھی سیاست میں آنے کی دعوت دی تھی۔

    تاہم تقریباً پانچ برس تک تحریک انصاف میں فعال کردار ادا کرنے کے بعد جب معراج محمد خان نے پارٹی سے استعفیٰ دیا تو اس فیصلے نے سیاسی اور صحافتی حلقوں میں کوئی غیر معمولی حیرت پیدا نہیں کی۔ بہت سے مبصرین کے نزدیک یہ استعفیٰ اُن اختلافات کا منطقی نتیجہ تھا جن کی جھلک معراج محمد خان نے اپنے تفصیلی استعفے میں بھی پیش کی۔

    اس خط کی نقل پاکستان تحریک انصاف سندھ کے رہنما راشد میمن نے ساگا ڈیجیٹل کو فراہم کی، جس کی بنیاد پر اس تاریخی دستاویز کا جائزہ لیا گیا۔ یہ خط دو مئی 2003 کو معراج محمد خان نے پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے نام تحریر کیا تھا، جس میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن کے عہدے سے استعفیٰ دیتے ہوئے پارٹی کے اندر موجود متعدد سیاسی اور تنظیمی مسائل کی نشاندہی کی تھی۔

    معراج محمد خان نے اپنے خط میں لکھا کہ وہ پانچ برس سے زیادہ عرصہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ وابستہ رہے، مگر اس دوران وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ عمران خان کے اردگرد موجود چند غیر سیاسی ساتھی پارٹی کو جس انداز سے چلانا چاہتے ہیں، وہ ان کی سیاسی سمجھ اور تجربے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی وجہ سے انہوں نے اپنی ذمہ داریوں سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا۔

    انہوں نے لکھا کہ عمران خان جیسی معروف اور باصلاحیت شخصیت کی موجودگی، ملک میں سیاسی خلا اور اُس وقت کے سازگار حالات کے باوجود پاکستان تحریک انصاف اپنے قیام کے سات برس بعد بھی ایک مضبوط عوامی سیاسی جماعت نہیں بن سکی۔ ان کے مطابق کسی بھی بڑے مقصد کے حصول کے لیے مضبوط تنظیم، اجتماعی قیادت، سیاسی کارکنوں کی تربیت اور مسلسل عوامی جدوجہد ضروری ہوتی ہے، لیکن پارٹی اس سمت میں پیش رفت نہ کر سکی۔

    معراج محمد خان نے پارٹی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض بااثر افراد کو یہ خدشہ تھا کہ اگر تحریک انصاف ایک حقیقی جمہوری جماعت بن گئی اور باصلاحیت سیاسی کارکن بڑی تعداد میں شامل ہو گئے تو ان کا اثر و رسوخ ختم ہو جائے گا۔ ان کے بقول اسی سوچ کے باعث پارٹی کے اندر گروہ بندی، بداعتمادی اور انتشار کو فروغ ملا، جبکہ ایسے افراد کو بھی شامل کیا گیا جن کی شہرت متنازع تھی، جس سے پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی۔

    انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد تبدیلی کی امید لے کر تحریک انصاف میں شامل ہوئے تھے، لیکن انہیں منظم کرنے، سیاسی تربیت دینے اور قیادت تیار کرنے کے بجائے پارٹی میں اجتماعی قیادت کے فقدان، غیر واضح حکمت عملی اور فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں کارکن مایوس ہو کر الگ ہو گئی۔ ان کے مطابق پارٹی رفتہ رفتہ ایک محدود حلقے تک سمٹ کر رہ گئی۔

    خط میں 2002 کے عام انتخابات کی حکمت عملی پر بھی سخت تنقید کی گئی۔ معراج محمد خان نے لکھا کہ پارٹی کے بعض اہم عہدیداروں نے یہ تاثر دیا کہ فوجی حکومت عمران خان کو اپنی پہلی ترجیح بنائے گی اور مضبوط انتخابی امیدوار خود تحریک انصاف میں شامل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق اسی سوچ کے تحت پارٹی نے ایسی سیاسی حکمت عملی اختیار کی جس کا نہ اخلاقی، نہ قانونی اور نہ ہی سیاسی جواز موجود تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جمہوری حلقوں میں پارٹی کی ساکھ متاثر ہوئی، جبکہ جن امیدواروں کی آمد کی توقع کی جا رہی تھی وہ بھی شامل نہ ہوئے۔

    انہوں نے لکھا کہ سیاست اتفاق سے نہیں بلکہ مسلسل منصوبہ بندی، تنظیم سازی اور عوامی رابطوں سے آگے بڑھتی ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ پارٹی کے امیدوار محدود وسائل کے باوجود انتخابات لڑے، لیکن تنظیمی کمزوریوں کی وجہ سے مطلوبہ نتائج حاصل نہ کیے جا سکے۔

    معراج محمد خان نے اس خط میں عمران خان کی میانوالی سے کامیابی میں مقامی کارکنوں، خصوصاً حفیظ اللہ خان نیازی کی کوششوں کو سراہا۔ اسی طرح انہوں نے اکبر ایس بابر کی جانب سے میڈیا میں پارٹی کا مؤقف اجاگر کرنے اور حامد خان کی آئین کی بحالی اور ایل ایف او کے خلاف قانونی جدوجہد کو بھی قابل تحسین قرار دیا۔

    انہوں نے اُس وقت کے ملکی حالات کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ مہنگائی، بے روزگاری، دہشت گردی، فرقہ واریت، خواتین کے خلاف جرائم، اقلیتوں کے تحفظ، صوبائی حقوق، عدلیہ کی کمزوری اور آئین میں مداخلت جیسے متعدد مسائل موجود تھے۔ ان کے مطابق یہ تمام حالات ایک مضبوط عوامی تحریک چلانے کے لیے سازگار تھے، لیکن تحریک انصاف ان عوامی مسائل پر مؤثر احتجاجی اور سیاسی جدوجہد نہ کر سکی۔

    خط میں الزام عائد کیا گیا کہ پارٹی نے عوامی تحریک منظم کرنے کے بجائے اسٹیبلشمنٹ کی حمایت حاصل کرنے پر زیادہ توجہ دی، جس سے نہ صرف ایک اہم سیاسی موقع ضائع ہوا بلکہ پارٹی کی عوامی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔

    تنظیمی معاملات پر اظہار خیال کرتے ہوئے معراج محمد خان نے کہا کہ پارٹی آئین کے مطابق سیکرٹری جنرل تنظیمی امور کا ذمہ دار ہوتا ہے، مگر فیصلے مسلسل عارضی بنیادوں پر کیے گئے۔ مختلف اوقات میں چیف آرگنائزر مقرر کر کے سیکرٹری جنرل کے کردار کو کمزور کیا گیا، جس کے نتیجے میں اختیارات کا ٹکراؤ، بدانتظامی اور انتشار پیدا ہوا۔

    انہوں نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ سیاسی جماعت کو ذاتی دوستوں، ریٹائرڈ افسران یا غیر منتخب افراد کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔ ان کے مطابق اس طریقے سے زیادہ سے زیادہ ایک دباؤ ڈالنے والا گروہ یا غیر سرکاری تنظیم تو بن سکتی ہے، مگر عوامی سیاسی جماعت تشکیل نہیں دی جا سکتی۔

    خط میں قیادت کے حوالے سے بھی اہم مشاہدات پیش کیے گئے۔ معراج محمد خان نے لکھا کہ اگرچہ عمران خان ورلڈ کپ جیتنے اور شوکت خانم ہسپتال کے قیام کی وجہ سے عوام میں مقبول شخصیت ہیں، لیکن صرف ذاتی مقبولیت کسی سیاسی جماعت کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتی۔ ان کے مطابق عوام نے پارٹی کو نظام میں تبدیلی کا مؤثر ذریعہ نہیں سمجھا، جس کا اظہار انتخابی نتائج سے بھی ہوا۔

    انہوں نے پارٹی کے سیاسی بیانیے کو بھی غیر واضح قرار دیا۔ ان کے مطابق تحریک انصاف عوام کو یہ واضح طور پر نہیں بتا سکی کہ وہ کن طبقات کی نمائندہ جماعت ہے، اس کا معاشی اور سماجی پروگرام کیا ہے اور وہ موجودہ نظام کے متبادل کے طور پر کس قسم کا نظام نافذ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے خیال میں صرف بدعنوانی کے خاتمے کا نعرہ عوام کے اعتماد کے لیے کافی نہیں تھا۔

    معراج محمد خان نے مزید لکھا کہ پارٹی نے دوسری ہم خیال سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کے ساتھ اتحاد یا مشترکہ جدوجہد سے بھی گریز کیا، جس کے باعث وہ اپنی سیاسی بنیاد کو وسیع کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔

    اپنے خط کے اختتام پر انہوں نے لکھا کہ انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کے تجربے کی بنیاد پر عمران خان کی بھرپور مدد کرنے کی کوشش کی، مگر موجودہ حالات میں وہ پارٹی کا حصہ رہنے کو مناسب نہیں سمجھتے۔ انہوں نے واضح

    کیا کہ ان کا مقصد تنقید برائے تنقید نہیں بلکہ دیانتداری کے ساتھ اپنا مؤقف سامنے رکھنا ہے تاکہ مستقبل میں اس پر غور کیا جا سکے۔

    سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ دو دہائیاں گزرنے کے باوجود اس خط میں اٹھائے گئے کئی سوالات، جن میں پارٹی کے اندر جمہوریت، تنظیم سازی، اجتماعی قیادت، سیاسی بیانیہ، فیصلہ سازی اور عوامی رابطے جیسے موضوعات شامل ہیں، آج بھی پاکستان کی سیاست میں اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے معراج محمد خان کا یہ خط نہ صرف تحریک انصاف کی ابتدائی تاریخ بلکہ مجموعی پاکستانی سیاسی نظام کو سمجھنے کے لیے بھی ایک اہم تاریخی دستاویز تصور کیا جاتا ہے۔