Tag: مصنف

  • برطانیہ کے بڑے پبلشرز سے مسترد ہونے کے باوجود ناول کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت کرنے والے مصنف پیٹر مے کون تھے؟

    برطانیہ کے بڑے پبلشرز سے مسترد ہونے کے باوجود ناول کی ڈیڑھ کروڑ سے زائد کاپیاں فروخت کرنے والے مصنف پیٹر مے کون تھے؟

    سکاٹش مصنف پیٹر مے 74 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔

    سکاٹ لینڈ کے معروف ناول نگار، صحافی اور ٹیلی ویژن اسکرین رائٹر پیٹر مے 74 برس کی عمر میں جنوبی فرانس میں انتقال کر گئے۔ ان کی اہلیہ اور مصنفہ جینس ہیلی نے پیر کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔ پیٹر مے جمعے کی شب جنوبی فرانس میں واقع اپنے تعطیلاتی گھر میں انتقال کر گئے۔

    پیٹر مے کو دنیا بھر میں جرائم پر مبنی ناولوں کے لیے شہرت حاصل ہوئی، تاہم ان کی ادبی شناخت صرف کرائم فکشن تک محدود نہیں تھی۔ وہ صحافت، ٹیلی ویژن اور ادب، تینوں شعبوں میں طویل اور کامیاب کیریئر رکھتے تھے۔ ان کی 31 کتابیں شائع ہوئیں، جو 40 سے زائد ممالک میں 15 ملین سے زیادہ کی تعداد میں فروخت ہوئیں۔ انہیں برطانیہ، فرانس، ڈنمارک اور امریکہ میں ادبی اعزازات بھی ملے۔

    پیٹر مے 20 دسمبر 1951 کو گلاسگو، اسکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کم عمری میں صحافت کا آغاز کیا اور 21 برس کی عمر میں اسکاٹش ینگ جرنلسٹ آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا۔ 26 برس کی عمر میں ان کا پہلا ناول ‘The  Reporter’  شائع ہوا۔ اس ناول کو بعد میں بی بی سی نے ڈرامائی سیریز میں ڈھالا، جس کے بعد مے نے صحافت چھوڑ کر ٹیلی ویژن کے شعبے میں قدم رکھا۔

    ٹیلی ویژن میں اگلے تقریباً 15 برس کے دوران وہ اسکاٹ لینڈ کے نمایاں ڈرامہ رائٹرز میں شمار ہونے لگے۔ انہوں نے اسکرپٹ رائٹر اور اسکرپٹ ایڈیٹر کے طور پر ایک ہزار سے زیادہ ٹی وی اقساط پر کام کیا اور کئی معروف ڈرامہ سیریز تخلیق کیں۔ ان میں ‘Take the High Road’ اور گیلک زبان میں بنائی گئی ‘Machair’ خاص طور پر نمایاں تھیں۔

    ‘Machair’ پر کام کے دوران پیٹر مے کو اسکاٹ لینڈ کے جزائر پر مشتمل علاقے ہیبرڈیز اور خاص طور پر آئل آف لیوس سے گہری وابستگی پیدا ہوئی۔ بعد میں یہی علاقہ ان کی سب سے مشہور ادبی تخلیقات کا پس منظر بنا۔

    پیٹر مے نے 1996 میں ٹیلی ویژن چھوڑ کر دوبارہ ناول نگاری پر توجہ مرکوز کی۔ ان کے ابتدائی معروف ناولوں میں چین کے پس منظر میں لکھی گئی ‘China Thrillers’ سیریز شامل تھی، جبکہ بعد میں ‘Enzo Files’ سیریز نے بھی انہیں عالمی قارئین تک پہنچایا۔

    تاہم عالمی سطح پر ان کی سب سے بڑی شناخت ‘The Blackhouse’ سے بنی، جو 2011 میں انگریزی میں شائع ہوا اور بعد میں ‘Lewis Trilogy’ کا پہلا ناول بنا۔ اس کے بعد ‘The Lewis Man’ اور ‘The Chessmen’ شائع ہوئے۔ یہ تینوں ناول اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ آئل آف لیوس کے ماحول، معاشرے، تاریخ اور انسانی رشتوں کے پس منظر میں جرائم کی کہانیاں بیان کرتے ہیں۔

    ‘The Blackhouse’ کی کامیابی کی کہانی بھی غیر معمولی ہے۔ بڑے برطانوی پبلشرز کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد یہ ناول پہلے فرانس میں شائع ہوا، جہاں اسے غیر معمولی پذیرائی ملی اور اسے فرانسیسی ادبی ایوارڈ ‘Prix Cezam’ سے نوازا گیا۔ بعد میں انگریزی ایڈیشن ایک بین الاقوامی بیسٹ سیلر بنا اور امریکہ میں بیری ایوارڈ بھی حاصل کیا۔

    فرانس میں پیٹر مے کو خاص طور پر مضبوط ادبی پذیرائی حاصل ہوئی۔ وہ دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک فرانس میں مقیم رہے اور فرانسیسی و برطانوی شہریت رکھتے تھے۔ 2025 میں انہیں فرانس کے معروف کرائم فکشن اعزاز ‘Grand Prix de Littérature Policière’ سے نوازا گیا۔ اس سے قبل 2021 میں انہیں برطانیہ کے کرائم رائٹرز ایسوسی ایشن کا ‘Dagger in the Library’ ایوارڈ بھی ملا تھا۔

    ان کی تحریروں میں اسکاٹ لینڈ کے مناظر، جزیرے کی زندگی، انسانی رشتے، تنہائی اور ماحول نمایاں موضوعات رہے۔ ان کے ناول ‘Coffin Road’ میں ماحول اور کرۂ ارض کے مستقبل سے متعلق خدشات بھی نمایاں ہوئے۔

    پیٹر مے ادب کے ساتھ موسیقی سے بھی وابستہ رہے۔ 2025 میں انہوں نے ‘Towards the Light’ کے نام سے ایک البم جاری کیا، جس میں ان کے ناولوں اور ذاتی دلچسپیوں سے متاثر گیت شامل تھے۔

    ان کی آخری کتاب بھی ان کی وفات کے بعد قارئین تک پہنچے گی۔ ‘Island of the Dead’ جنوری 2027 میں شائع ہونے والی ہے۔ پیٹر مے نے اسے اپنا آخری ناول قرار دیا تھا اور اس کی اشاعت کے موقع پر اسکاٹ لینڈ اور آئل آف لیوس کا ایک الوداعی دورہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

    ان کے ناشر اور دیرینہ دوست جون رائلی نے انہیں ‘ناقابلِ تلافی’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیٹر مے نہ صرف اپنی نسل کے مقبول اور پسندیدہ کرائم رائٹرز میں شامل تھے بلکہ ان کی شخصیت نے قارئین اور ان کے ساتھ کام کرنے والوں میں بھی گہری محبت اور وابستگی پیدا کی۔ اسکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر جان سوینی نے بھی ان کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے خاص طور پر ہیبرڈیز کے بارے میں ان کی تحریروں کو سراہا۔

    پیٹر مے کی ادبی میراث کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ انہوں نے جرائم کی کہانی کو صرف قتل، تفتیش اور مجرم کی تلاش تک محدود نہیں رکھا۔ انہوں نے اپنے ناولوں میں جگہ، تاریخ، موسم، تنہائی، معاشرہ اور انسانی نفسیات کو بھی کہانی کا حصہ بنایا۔ خاص طور پر آئل آف لیوس اور ہیبرڈیز ان کی تحریروں میں محض پس منظر نہیں بلکہ کہانی کی شناخت بن گئے۔

    پیٹر مے کے انتقال کے ساتھ اسکاٹ لینڈ کے ایک ایسے مصنف کا سفر اختتام پذیر ہوا جس نے صحافت سے آغاز کیا، ٹیلی ویژن میں ایک ہزار سے زیادہ اقساط پر کام کیا، پھر ناول نگاری میں عالمی کامیابی حاصل کی اور اپنی کہانیوں کے ذریعے اسکاٹ لینڈ کے دور افتادہ جزائر اور ان کے لوگوں کو دنیا بھر کے قارئین تک پہنچایا۔ ان کی آخری کتاب ‘Island of the Dead’ اب ان کی ادبی زندگی کا آخری باب بن کر جنوری 2027 میں سامنے آئے گی۔

  • ایک مصنف کا 2047 کے پاکستان کا خواب پورا ہونا کتنا ممکن؟

    ایک مصنف کا 2047 کے پاکستان کا خواب پورا ہونا کتنا ممکن؟

    ایک ضخیم  566صفحات اور 100 ابواب پر مشتمل کتاب کا جائزہ لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ خاص طور پر ایسی کتاب کا، جس میں پاکستان کے تقریباً ہر اہم شعبے پر بات کی گئی ہو۔ اس لیے میں شروع ہی میں یہ اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ نوجوان مصنف شاہ رخ ندیم کی انگریزی زبان میں لکھی گئی کتاب ’100: 100 Things Pakistan Needs to Do Before Turning 100‘ میں زیر بحث تمام موضوعات کا احاطہ اس مختصر جائزے میں ممکن نہیں۔

    تاہم اس کتاب کی یہی وسعت اسے دلچسپ بھی بناتی ہے۔

    کتاب کا ذیلی عنوان ہے  ’پاکستان کو 100 سال کا ہونے سے پہلے 100 کام کرنے چاہئیں‘۔ یہ دراصل شاہ رخ ندیم کا 2047 کے پاکستان کا خواب ہے۔ 2047 میں پاکستان اپنے قیام کے 100 سال مکمل کرے گا۔ آج سے تقریباً 20 سال بعد کا یہ پاکستان مصنف کی نظر میں ایک ایسا ملک ہونا چاہیے جو خوشحال، تعلیم یافتہ، جمہوری، سائنسی اور ٹیکنالوجی کے میدان میں دنیا کے اہم ممالک میں شامل ہو۔

    یہ کتاب لبرٹی پبلشنگ کے زیراہتمام فاضلی سنز نےشائع کی ہے۔ ہارڈ کور میں شائع ہونے والی اس کتاب پر قیمت درج نہیں کی گئی۔

    شاہ رخ ندیم صرف مصنف نہیں۔ وہ کتابوں کے شوقین، کتاب دوست اور ایک متحرک مقرر بھی ہیں۔ ان کا کتابوں پر تبصروں کا ایک یوٹیوب چینل بھی ہے۔ وہ نوجوانوں کو آگے بڑھنے، علم حاصل کرنے اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ وہ سیاست میں آنے کی خواہش کا بھی کئی مرتبہ اظہار کر چکے ہیں۔ ان کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان کی مرکزی سیاست کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔

    یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ کب سیاست میں آئیں گے اور کس سیاسی جماعت کا انتخاب کریں گے۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ وہ موجودہ سیاسی نظام کے بھی ناقد ہیں۔ ان کے بعض خیالات اتنے مختلف اور بعض اوقات سخت محسوس ہوتے ہیں کہ موجودہ بڑی سیاسی جماعتوں، پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف میں سے کسی ایک کے ساتھ ان کی مکمل مطابقت مشکل نظر آتی ہے۔ البتہ  ان کے خیالات وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے موجودہ نظام حکومت کی ناکامی سے کافی مختلف ہیں۔ وہ کافی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور موجودہ نظام کی خرابیوں کی بھی شدید ناقد دکھائی دیتے ہیں۔

    شاید یہی اس کتاب کی ایک خاص بات بھی ہے۔

    ’100‘  کسی روایتی سیاسی جماعت کا منشور نہیں۔ یہ ایک نوجوان پاکستانی کا اپنے ملک کے بارے میں خواب ہے۔ ایسا خواب جس میں موجودہ سیاسی بندشوں سے آگے بڑھ کر ایک مختلف پاکستان کا تصور پیش کیا گیا ہے۔

    پاکستان کے قیام کو 80 سال مکمل ہونے والے ہیں۔ اس دوران ملک نے ترقی کے کچھ اہم مراحل ضرور دیکھے، لیکن مجموعی سفر بہت ہموار نہیں رہا۔ ملک نے مشرقی پاکستان کھویا، تین فوجی آمریتوں کا سامنا کیا اور بلوچستان، خیبر پختونخوا، سابق قبائلی علاقوں اور دوسرے حصوں میں مختلف فوجی کارروائیاں دیکھیں۔

    جنرل ضیا الحق کے دور میں جمہوریت کی بحالی کے لیے چلنے والی تحریک کے دوران سندھ میں بھی شدید ریاستی تشدد ہوا۔ مارشل لا کے خلاف تحریک میں بڑی تعداد میں لوگ گرفتار ہوئے، زخمی ہوئے اور کئی افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

    ملک نے معاشی میدان میں بھی وہ مقام برقرار نہیں رکھا جس کی امید 1960 کی دہائی میں پیدا ہوئی تھی۔ اس دور میں صنعتی اور زرعی ترقی کو پاکستان کی معاشی کامیابی کی مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اس ترقی کو مشرقی پاکستان کے ساتھ موجود معاشی ناانصافی سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔

    صنعتی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ مغربی پاکستان میں ہوا جبکہ مشرقی پاکستان کو ترقی کے معاملے میں پیچھے رکھا گیا۔ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے اس خطے کی مشکلات کو بھی مناسب اہمیت نہیں دی گئی۔ بالآخر سیاسی اور معاشی محرومیوں نے ملک کو 1971 کے سانحے تک پہنچا دیا۔

    شاہ رخ ندیم کی کتاب کو اسی تاریخی پس منظر میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔

    مصنف کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان کو 2047 میں اپنی آزادی کے 100 سال مکمل کرنے ہیں تو اسے اس وقت تک کیا کچھ بدلنا ہوگا؟

    ان کا جواب بہت وسیع اور 100 چیپٹرز تک پھیلا ہوا ہے۔

    وہ ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کرتے ہیں جہاں اسکولوں میں جدید اور آزاد سوچ کی تعلیم دی جائے، مذہبی مواد کے بجائے سیکیولر نصاب ہو، حکمرانی جمہوری اور مؤثر ہو، نوجوان سائنس اور ٹیکنالوجی میں آگے بڑھیں، مصنوعی ذہانت کے میدان میں پاکستان عالمی سطح پر نمایاں ہو اور ملک ایک فلاحی ریاست بنے۔

    یہ تصور بعض مقامات پر حقیقت سے بہت دور بھی محسوس ہوتا ہے۔ لیکن مصنف کی کوشش یہی ہے کہ قاری موجودہ پاکستان سے باہر نکل کر مستقبل کے پاکستان کے بارے میں سوچے۔

    شاہ رخ ندیم ٹیکنالوجی کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں اور دو ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔ اس لیے سائنس، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے بارے میں ان کی گفتگو محض کتابی علم تک محدود نہیں۔ وہ نوجوانوں کے مسائل اور اس شعبے میں موجود مواقع سے بھی واقف ہیں۔

    کتاب میں سائنس، ٹیکنالوجی، معلوماتی ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کو پاکستان کے مستقبل کے لیے بہت اہم قرار دیا گیا ہے۔ مصنف سمجھتے ہیں کہ اگر پاکستان نے اپنے نوجوانوں کو جدید تعلیم اور ضروری مواقع فراہم کیے تو یہ نوجوان ملک کی معاشی حالت بدل سکتے ہیں۔

    لیکن شاہ رخ ندیم کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ تعلیم نوجوانوں میں سوچنے اور سوال کرنے کی صلاحیت بھی پیدا کرے۔

    اسی سلسلے میں وہ علامہ محمد اقبال اور جرمن فلسفی فریڈرک نطشے سمیت کئی بڑے مفکرین کو نصاب میں شامل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ وہ علامہ اقبال کی کتاب ’تشکیل جدید الٰہیات اسلامیہ‘ کو اسکولوں اور جامعات میں پڑھانے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں اور اسے نطشے اور دوسرے جدید فلسفیوں کے کام کے ساتھ پڑھانے کی تجویز دیتے ہیں۔

    کتاب میں برٹرینڈ رسل، باروخ اسپینوزا، رینے ڈیکارٹ، کارل پوپر اور نوم چومسکی جیسے مفکرین کا بھی ذکر ملتا ہے۔

    نطشے کا مصنف کی ذہنی تربیت میں اثر کتاب کے مختلف حصوں میں محسوس ہوتا ہے۔ مصنف فلسفے کو محض ایک علمی مضمون نہیں سمجھتے بلکہ اسے نوجوانوں میں آزاد سوچ پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہیں۔

    یہ تجویز ہمارے موجودہ تعلیمی نظام کے تناظر میں خاصی اہم ہے۔ پاکستان میں تعلیم کا بڑا حصہ اب بھی رٹا لگانے، امتحان پاس کرنے اور ڈگری حاصل کرنے کے گرد گھومتا ہے۔ سوال اٹھانے، اختلاف کرنے اور دلیل کے ساتھ اپنی بات رکھنے کی تربیت نسبتاً کم ہے۔

    شاہ رخ ندیم اس صورتحال کو بدلنا چاہتے ہیں۔

    وہ اپنی کتاب کو پاکستان کی تبدیلی کا منشور اور مستقبل کا خاکہ قرار دیتے ہیں۔ تاہم یہاں کتاب کا سب سے بڑا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ کیا ان کے تجویز کردہ اقدامات عملی طور پر ممکن ہیں؟

    کتاب کو دس بڑے حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلا حصہ فکری اور تعلیمی اصلاحات سے متعلق ہے اور اس میں 17 ابواب شامل ہیں۔ اس کے بعد حکمرانی، ادارہ جاتی اصلاحات اور خارجہ تعلقات پر بات کی گئی ہے۔

    کتاب کے دوسرے حصوں میں معاشی پالیسی، مالیاتی اصلاحات، زراعت، زمین اور دیہی اصلاحات، ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی، پائیدار ترقی، ٹیکنالوجی، جدت، ڈیجیٹل تبدیلی، صحت، ثقافت، شناخت، نوجوانوں، ہنر اور سماجی ترقی جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔

    یعنی مصنف نے پاکستان کے تقریباً ہر بڑے مسئلے کو اپنی بحث کا حصہ بنایا ہے۔

    حکمرانی کے بارے میں ان کا ایک اہم خیال یہ ہے کہ پاکستان کو ایک ’سکیورٹی ریاست‘ سے ’فلاحی ریاست‘ کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

    یہ تجویز سننے میں تو بہت آسان ہے لیکن عملی طور پر انتہائی مشکل ہے۔ پاکستان میں سیکیولر لفظ کا اردو ترجمہ لادینیت کیا گیا ہے، جب کہ مذہبی جماعتیں ملک میں اسلامی نظام حکومت نافذ کرنے کے لیے عمل پیرا ہیں۔ وہ انڈیا میں تو سیکیولر حکومت دیکھنا چاہتی ہیں، مگر پاکستان میں سیکیولر لفظ سے ان کو چڑ سی ہے۔

    پاکستان کی ریاستی ترجیحات میں سکیورٹی کا عنصر کئی دہائیوں سے بہت مضبوط رہا ہے، اور موجودہ حکومت کے دوران تو مزید سخت ہوا ہے۔ شاہ رخ ندیم سمجھتے ہیں کہ قومی بجٹ میں تعلیم، صحت، انسانی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے لیے زیادہ وسائل مختص ہونے چاہئیں اور دفاع پر کم خرچہ۔

    وہ سول اداروں کو مضبوط بنانے، انسانی سرمائے میں سرمایہ کاری بڑھانے، فوج کے تجارتی کاروبار میں کردار کو ختم کرنے اور سماجی بہبود کے پروگراموں کو زیادہ اہمیت دینے کی بات کرتے ہیں۔

    ان تجاویز میں بعض باتیں سیاسی طور پر حساس بھی ہیں۔ اسی لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ موجودہ حالات میں ان پر عمل کیسے ہوگا۔

    مصنف قومی بجٹ کی ترجیحات بدلنے کی بات کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں تعلیم، صحت اور انسانی ترقی پر زیادہ خرچ ہونا چاہیے۔ یہ بات بظاہر ہر شخص کو درست محسوس ہوتی ہے، لیکن پاکستان جیسے ملک میں جہاں قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات، توانائی کا بحران اور مالیاتی مشکلات پہلے ہی موجود ہیں، وسائل کی تقسیم بدلنا ایک آسان کام نہیں۔

    یہاں کتاب کا ایک کمزور پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ بعض تجاویز بہت زیادہ مثالی اور بلند پرواز محسوس ہوتی ہیں۔ مصنف کئی جگہ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ اگر صحیح پالیسی بنا دی جائے تو تبدیلی ممکن ہو جائے گی۔

    لیکن پاکستان کا مسئلہ صرف پالیسی کا نہیں۔ مسئلہ سیاسی مزاحمت، کمزور اداروں، مفادات کے ٹکراؤ، وسائل کی کمی اور پالیسیوں کے تسلسل کا بھی ہے۔

    ایک حکومت کوئی منصوبہ شروع کرتی ہے تو دوسری حکومت اکثر اسے تبدیل یا ختم کر دیتی ہے۔ اس صورتحال میں 20 سال کا مستقل منصوبہ بنانا اور اس پر مسلسل عمل کرنا ایک بڑا چیلنج ہے۔

    اس کے باوجود کتاب کو صرف اس بنیاد پر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اس میں کچھ تجاویز غیر حقیقی ہیں۔

    کتاب کا اصل مقصد شاید یہی نہیں کہ اس کی ہر تجویز اگلے دن نافذ کردی جائے۔ اس کا مقصد یہ سوال اٹھانا ہے کہ پاکستان کو آخر بننا کیا چاہیے؟

    میڈیا کے بارے میں بھی شاہ رخ ندیم کا مؤقف قابل توجہ ہے۔ وہ سنسنی خیز ٹی وی پروگراموں اور شور شرابے پر مبنی سیاسی مباحث کے بجائے ایسے مباحث کی حمایت کرتے ہیں جن میں ماہرین، اساتذہ، محققین اور دانشور شامل ہوں۔

    پاکستان میں ٹی وی ٹاک شوز کی بڑی تعداد سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کے درمیان تکرار تک محدود رہتی ہے۔ مصنف چاہتے ہیں کہ میڈیا عوام کو معلومات فراہم کرے، انہیں سوچنے پر مجبور کرے اور قومی مسائل پر سنجیدہ بحث کا ماحول پیدا کرے۔

    یہ تجویز شاید میڈیا کے لیے سب سے مشکل لیکن سب سے ضروری اصلاحات میں سے ایک ہے۔

    ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی بھی کتاب کا اہم موضوع ہے۔ پاکستان پہلے ہی سیلاب، شدید گرمی، پانی کی کمی، فضائی آلودگی اور ماحولیاتی تباہی جیسے مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ اس لیے معاشی ترقی کو ماحول کے تحفظ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

    شاہ رخ ندیم کی اس کتاب کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ ترقی کو صرف سڑکوں، عمارتوں اور صنعتوں کی تعمیر کے معنی میں نہیں دیکھتے۔ ان کے نزدیک ترقی کا مطلب بہتر تعلیم، بہتر صحت، بہتر ماحول، بہتر ادارے اور بہتر مواقع بھی ہیں۔

    کتاب کا ایک اور اہم پہلو نوجوان ہیں۔ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اگر انہیں معیاری تعلیم، ہنر، روزگار اور فیصلہ سازی میں جگہ نہ دی گئی تو یہ آبادی ایک موقع کے بجائے مسئلہ بن سکتی ہے۔

    مصنف نوجوانوں کو پاکستان کی سب سے بڑی طاقت سمجھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جدید ٹیکنالوجی اور تعلیم کے ذریعے نوجوان ملک کی سمت تبدیل کر سکتے ہیں۔

    یہاں مصنف کی اپنی شخصیت بھی کتاب سے جڑ جاتی ہے۔ ایک نوجوان مصنف، ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ شخص، مقرر اور سیاست میں آنے کی خواہش رکھنے والا شہری جب اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں لکھتا ہے تو اس کی تحریر میں ایک خاص بے چینی محسوس ہوتی ہے۔

    وہ موجودہ صورتحال سے مطمئن نہیں اور اسے بدلنا چاہتے ہیں۔ شاید ’100‘ کی سب سے بڑی خوبی بھی یہی ہے۔

    کتاب ہر سوال کا مکمل جواب نہیں دیتی۔ اس میں بعض جگہ خواب حقیقت سے بہت آگے نکل جاتا ہے۔ بعض تجاویز پر عمل درآمد کا واضح راستہ بھی نظر نہیں آتا۔ بعض سفارشات بہت زیادہ مثالی محسوس ہوتی ہیں۔

    لیکن ایک نوجوان کا یہ حق ضرور ہے کہ وہ اپنے ملک کے لیے بڑا خواب دیکھے۔

    پاکستان نے گزشتہ 80 برس میں بہت کچھ کھویا بھی ہے اور حاصل بھی کیا ہے۔ 2047 تک ابھی تقریباً 20 سال باقی ہیں۔ یہ مدت ایک قوم کی تقدیر بدلنے کے لیے کم بھی ہے اور کافی بھی، بشرطیکہ سیاسی قیادت، ریاستی ادارے اور معاشرہ ایک مشترکہ سمت اختیار کریں۔

    شاہ رخ ندیم نے اپنی کتاب کے ذریعے وہ سمت تجویز کرنے کی کوشش کی ہے۔

    یہ دیکھنا باقی ہے کہ پاکستان 2047 تک ان 100 تجاویز میں سے کتنی پر عمل کرتا ہے۔ شاید چند پر، شاید بہت سی پر، یا شاید کسی پر بھی نہیں۔

    لیکن اگر یہ کتاب نوجوانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ پاکستان صرف ایسا ملک نہیں جو اسے ورثے میں ملا ہے بلکہ ایسا ملک بھی ہے جسے وہ اپنے مستقبل کے لیے تشکیل دے سکتے ہیں تو ’100‘ اپنا مقصد حاصل کر چکی ہے۔

    آخر میں اس کتاب کو ایک مکمل عملی منصوبے کے بجائے ایک نوجوان ذہن کی طرف سے پاکستان کے مستقبل کے بارے میں پیش کیا گیا ایک بڑا سوال سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔

    سوال یہ ہے کہ 2047 میں پاکستان کیسا ہوگا؟

    شاہ رخ ندیم نے اس سوال کا اپنا جواب دے دیا ہے۔ اب جواب دینے کی باری پاکستانی عوام اور ریاست کی ہے۔