دنیا میں کچھ عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر کا مجموعہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ تاریخ، عقیدت اور انسانی تخلیقی صلاحیت کی زندہ علامت بن جاتی ہیں۔ مساجد بھی ایسی ہی عمارتیں ہیں جہاں عبادت کے ساتھ ساتھ فن تعمیر کی عظمت بھی نظر آتی ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں ایسی کئی مساجد موجود ہیں جو اپنے حجم، تاریخ اور طرز تعمیر کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ یہ مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ تہذیب اور ثقافت کی عکاسی بھی کرتی ہیں۔
ان مساجد میں سب سے پہلے مسجد الحرام، مکہ مکرمہ کا نام آتا ہے، جو دنیا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس کا کل رقبہ چار ملین مربع میٹر سے بھی زیادہ ہے اور یہاں تقریباً چالیس لاکھ نمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اسی مسجد کے مرکز میں خانہ کعبہ واقع ہے، جس کی طرف دنیا بھر کے مسلمان رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ موجودہ دور میں اس مسجد کی توسیع بیسویں اور اکیسویں صدی میں کئی مراحل میں مکمل ہوئی، جس کے نتیجے میں یہاں دنیا کا سب سے بڑا مسلسل نماز کا صحن وجود میں آیا۔
مسجد نبوی، مدینہ منورہ بھی اسلامی دنیا کی عظیم ترین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں تقریباً پندرہ لاکھ نمازی بیک وقت نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد کی سب سے بڑی روحانی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ یہاں روضہ رسول ﷺ واقع ہے۔ مسجد کے وسیع صحن میں نصب جدید خودکار چھتریاں چند منٹوں میں کھل اور بند ہو جاتی ہیں، جو شدید گرمی میں ہزاروں نمازیوں کو سایہ فراہم کرتی ہیں۔
ایران کے شہر مشہد میں واقع حرم امام رضا بھی دنیا کے بڑے مذہبی مقامات میں شامل ہے۔ اس وسیع کمپلیکس میں تقریباً بارہ لاکھ افراد کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ یہاں کے صحن، سنہری گنبد اور نفیس ٹائل ورک ایرانی فن تعمیر کی صدیوں پرانی روایت کی جھلک پیش کرتے ہیں، جو اسے نہ صرف ایک مقدس مقام بلکہ فن کا شاہکار بھی بناتے ہیں۔
افریقہ میں الجزائر کے دارالحکومت میں واقع جامع الجزائر بھی اپنی عظمت کی وجہ سے نمایاں ہے۔ یہ افریقہ کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں تقریباً ایک لاکھ بیس ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس مسجد کا مینار دو سو پینسٹھ میٹر بلند ہے جو دنیا کے بلند ترین میناروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس جدید کمپلیکس میں مسجد کے ساتھ ساتھ ایک بڑی لائبریری اور ثقافتی مرکز بھی قائم کیا گیا ہے۔
قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں واقع آستانہ گرینڈ مسجد وسطی ایشیا کی نمایاں مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ یہاں دو لاکھ سے زائد نمازی ایک وقت میں نماز ادا کر سکتے ہیں۔ اس مسجد کے گنبد کا قطر خطے میں سب سے بڑا سمجھا جاتا ہے اور اس کی اندرونی آرائش میں روایتی اسلامی خطاطی اور جدید طرز تعمیر کا خوبصورت امتزاج دکھائی دیتا ہے۔
جنوب مشرقی ایشیا میں انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں واقع مسجد استقلال اس خطے کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس میں تقریباً دو لاکھ نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس مسجد کا نام “استقلال” انڈونیشیا کی آزادی کی علامت کے طور پر رکھا گیا تھا۔ اس کے سات داخلی دروازے علامتی طور پر سات آسمانوں کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اس کے ڈیزائن کو ایک منفرد روحانی معنی دیتے ہیں۔
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں واقع فیصل مسجد بھی اپنی منفرد طرز تعمیر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ اس مسجد میں تقریباً تین لاکھ نمازیوں کے نماز ادا کرنے کی گنجائش ہے۔ اس کا ڈیزائن روایتی گنبد کے بجائے خیمے کی شکل پر مبنی ہے، جو اسے دیگر مساجد سے مختلف بناتا ہے۔ یہ مسجد سعودی فرمانروا شاہ فیصل کے تعاون سے تعمیر ہوئی اور مارگلہ پہاڑیوں کے دامن میں واقع ہے۔
مراکش کے شہر کاسابلانکا میں واقع مسجد حسن ثانی بھی اپنی شان و شوکت کی وجہ سے دنیا کی عظیم مساجد میں شامل ہے۔ اس میں ایک لاکھ پانچ ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ اس کا مینار دو سو دس میٹر بلند ہے۔ یہ مسجد جزوی طور پر سمندر کے اوپر تعمیر کی گئی ہے اور اس کے فرش کے بعض حصے شفاف شیشے سے بنائے گئے ہیں جہاں سے نیچے پانی دیکھا جا سکتا ہے۔
برصغیر میں لاہور کی بادشاہی مسجد اپنی تاریخی عظمت کی وجہ سے خاص مقام رکھتی ہے۔ اسے مغل بادشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں سترہویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس مسجد میں تقریباً ایک لاکھ نمازی نماز ادا کر سکتے ہیں۔ سرخ پتھر اور سفید سنگ مرمر کا حسین امتزاج اسے برصغیر کی نمایاں ترین مساجد میں شامل کرتا ہے۔
اسی طرح دہلی کی جامع مسجد بھی مغل دور کی عظیم یادگار ہے۔ اسے سترہویں صدی میں شہنشاہ شاہ جہاں نے تعمیر کروایا تھا۔ اس مسجد میں تقریباً پچاسی ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے۔ اس کی بلند سیڑھیاں، کشادہ صحن اور مینار آج بھی دہلی کی پہچان سمجھے جاتے ہیں۔
یہ تمام مساجد صرف عبادت کی جگہیں نہیں بلکہ انسانی تہذیب، فن تعمیر اور روحانی وابستگی کی علامت بھی ہیں۔ ان کے گنبدوں اور میناروں میں تاریخ بولتی ہے اور ان کے صحنوں میں لاکھوں لوگوں کی مشترکہ دعا کی گونج سنائی دیتی ہے۔ دنیا بھر میں نئی مساجد تعمیر ہو رہی ہیں اور پرانی مساجد کی توسیع بھی جاری ہے۔ فن تعمیر بدلتا رہتا ہے، مگر مقصد ہمیشہ ایک ہی رہتا ہے، یعنی عبادت، اجتماع اور امت کی وحدت۔
یہی وہ مقامات ہیں جہاں ایمان اور فن تعمیر ایک دوسرے سے مل کر ایک ایسی داستان تخلیق کرتے ہیں جو صدیوں تک زندہ رہتی ہے۔

