دنیا بھر میں موسم کی تبدیلی کو عموماً انسانی مزاج، نیند، خوراک یا بیماریوں سے جوڑا جاتا ہے، لیکن اب سائنسدانوں نے انسانی تولیدی صحت سے متعلق بھی ایک دلچسپ پہلو سامنے رکھا ہے۔ نئی طبی تحقیق کے مطابق مردوں میں نطفے کی کارکردگی سال کے مختلف مہینوں میں تبدیل ہوتی رہتی ہے، اور حیران کن طور پر گرم مہینوں میں اس کی کارکردگی نسبتاً بہتر دیکھی گئی ہے۔
برطانیہ، کینیڈا اور ڈنمارک کے ماہرین کی مشترکہ تحقیق میں پندرہ ہزار سے زائد مردوں کے سیمین سیمپلز کا تجزیہ کیا گیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا موسم اور درجہ حرارت انسانی تولیدی نظام پر اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔
ماہرین نے پایا کہ جون اور جولائی کے مہینوں میں نطفے کی حرکت کرنے کی صلاحیت میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ طبی زبان میں اسے ‘موٹیلٹی’ کہا جاتا ہے، اور یہی خصوصیت نطفے کو بارآوری کے قابل بناتی ہے۔ اگر سپرم مناسب انداز میں حرکت نہ کرسکے تو حمل کے امکانات کم ہوسکتے ہیں، چاہے نطفوں کی تعداد نارمل ہی کیوں نہ ہو۔
تحقیق کے مطابق دلچسپ بات یہ رہی کہ سپرم کی تعداد میں زیادہ فرق ریکارڈ نہیں کیا گیا، البتہ ان کی حرکت اور فعالیت موسم کے ساتھ واضح طور پر تبدیل ہوتی رہی۔ سردیوں کے مہینوں، خاص طور پر دسمبر اور جنوری میں، یہ صلاحیت کم ترین سطح پر دیکھی گئی۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم کا تولیدی نظام درجہ حرارت کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ مردانہ خصیے جسم کے بیرونی حصے میں اس لیے موجود ہوتے ہیں تاکہ ان کا درجہ حرارت باقی جسم سے قدرے کم رہ سکے۔ عام انسانی جسم تقریباً 37 ڈگری سینٹی گریڈ پر کام کرتا ہے، جبکہ خصیوں کا درجہ حرارت اس سے دو سے چار ڈگری کم ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ قدرتی توازن متاثر ہو تو سپرم کی ساخت، حرکت اور مجموعی معیار متاثر ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت زیادہ گرمی، تنگ لباس، مسلسل بیٹھے رہنے یا لیپ ٹاپ کو گود میں استعمال کرنے جیسے عوامل کو بھی بعض اوقات مردانہ زرخیزی میں کمی سے جوڑا جاتا ہے۔
تحقیق میں ایک اور دلچسپ پہلو یہ سامنے آیا کہ مختلف خطوں میں رہنے والے مردوں میں بھی تقریباً ایک جیسا موسمی پیٹرن دیکھا گیا۔ یعنی سرد ممالک ہوں یا گرم، دونوں میں سپرم کی حرکت موسم کے ساتھ بدلتی رہی۔
یونیورسٹی آف مانچسٹر کے پروفیسر ایلن پیسی، جو اس تحقیق کا حصہ تھے، کے مطابق انہیں توقع تھی کہ گرم علاقوں میں نتائج مختلف ہوسکتے ہیں، لیکن فلوریڈا جیسے خطوں میں بھی وہی رجحان دیکھا گیا۔ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ معاملہ صرف بیرونی درجہ حرارت کا نہیں بلکہ جسم کے اندر ہونے والی موسمی حیاتیاتی تبدیلیوں کا بھی ہوسکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق انسانی جسم میں ہارمونز، نیند، دھوپ کے دورانیے اور روزمرہ سرگرمیوں میں موسمی تبدیلیاں بھی تولیدی نظام پر اثر ڈال سکتی ہیں۔ کچھ سائنسدان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ سورج کی روشنی اور وٹامن ڈی کی مقدار بالواسطہ طور پر سپرم کی کارکردگی سے جڑی ہوسکتی ہے، اگرچہ اس پہلو پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے بانجھ پن کے علاج اور فرٹیلٹی ٹیسٹس کو بہتر انداز میں سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مستقبل میں ممکن ہے کہ ڈاکٹروں کی جانب سے ٹیسٹنگ یا علاج کے اوقات کا تعین بھی موسمی عوامل کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔
ماہرین کے مطابق یہ تحقیق اس حقیقت کو مزید واضح کرتی ہے کہ انسانی جسم فطرت اور موسم سے گہرے طور پر جڑا ہوا ہے۔ موسم صرف درجہ حرارت یا لباس تبدیل نہیں کرتا بلکہ یہ انسانی جسم کے اندر خاموشی سے چلنے والے کئی اہم نظاموں کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔


