Tag: مراد علی شاہ

  • ‘قومی ضروریات’ کے لیے سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے 175 ارب روپے وفاق کو دیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    ‘قومی ضروریات’ کے لیے سندھ کے ترقیاتی بجٹ سے 175 ارب روپے وفاق کو دیے: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں صوبے کا ترقیاتی پروگرام 575 ارب روپے سے کم کرکے 400 ارب روپے کر دیا گیا۔

    جمعرات کو پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے تحت قومی سطح کی اہم ضروریات کے لیے سندھ کو اپنے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنا پڑ رہی ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ وفاق کے ساتھ ہونے والے اس انتظام کی بنیاد ایک مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ہے، جس کے تحت ساتویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں سندھ کے آئینی حق کا مکمل تحفظ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت سندھ کے لیے وفاقی محصولات میں 13.350 کھرب روپے کی بنیاد پر حصہ یقینی بنایا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 160 کے تحت صوبوں کو وفاق کو گرانٹس دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی دفاع اور قومی یکجہتی کے مفاد میں چاروں صوبائی حکومتوں نے مشترکہ طور پر وفاق کی مالی معاونت کی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے محصولات کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ 13 ہزار 350 ارب روپے تک ملنے کی توقع ہے۔

    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس حد سے زیادہ حاصل ہونے والی آمدنی پہلے صوبوں کے ذریعے منتقل ہوگی اور بعد ازاں وفاق کو دی جائے گی۔

    انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایف بی آر رواں سال اپنا ہدف حاصل کر لے گا کیونکہ محصولات میں 23 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قومی اسٹریٹجک اقدامات کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے وفاقی حکومت ٹیکس حکام پر مزید دباؤ ڈال سکتی ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ مئی تک سندھ کو وفاقی منتقلیوں میں 441 ارب روپے کی کمی کا سامنا ہے، جبکہ صوبائی وصولیوں میں بھی 52 ارب روپے کا خسارہ ہے، جس کے باعث مجموعی بجٹ خسارہ تقریباً 300 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ مالی دباؤ کے باوجود صوبے کے مجموعی اخراجات 850 ارب روپے سے تجاوز ہونے کی توقع ہے۔ ان اخراجات میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز، کسانوں کے لیے امدادی پیکیج، ایندھن اور بجلی پر سبسڈی، اور گل پلازہ واقعے سے متعلق اضافی اخراجات شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبہ ماضی میں ایک ہزار ارب روپے کے ریکارڈ ترقیاتی پروگرام پر عمل درآمد کر چکا ہے اور رواں سال بھی ترقیاتی اخراجات کی رفتار برقرار رکھی گئی ہے۔

    زرعی شعبے کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ حکومتی معاونت کے نتیجے میں گندم کی پیداوار گزشتہ سال کے 35 لاکھ ٹن کے مقابلے میں بڑھ کر 49 لاکھ ٹن تک پہنچ گئی ہے، جو زرعی شعبے کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ طے شدہ 260 ارب روپے سے زائد اگر کوئی قومی ضرورت سامنے آتی ہے تو اس کی مالی ذمہ داری وفاقی حکومت اپنے وسائل سے پوری کرے گی۔

    مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت نے مالی نظم و ضبط کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے ہیں تاکہ ترقیاتی کام متاثر نہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مالی احتیاط ترقی کے راستے میں رکاوٹ نہیں بلکہ اس کے فروغ کا ذریعہ بننی چاہیے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ کو وفاقی منتقلیوں کی مد میں 2 ہزار 263 ارب روپے ملنے کی توقع ہے، جبکہ صوبائی آمدنی کا ہدف 456 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے کی مجموعی آمدنی 3 ہزار 83 ارب روپے ہے، جبکہ مجموعی بجٹ کا حجم 3 ہزار 525 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن کے لیے ایک ہزار 264 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے یاد دلایا کہ 2022 میں 15 فیصد اور 2025 میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا گیا تھا، جس کے بعد کم از کم ماہانہ اجرت 43 ہزار روپے ہو جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیاتی اداروں کے لیے 155 ارب روپے اور جامعات کے لیے 48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ صحت کے شعبے میں اہم اداروں کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن (ایس آئی یو ٹی) کے لیے 26.4 ارب روپے، قومی ادارہ برائے امراضِ قلب (این آئی سی وی ڈی) کے لیے 12 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیزز (ایس آئی سی وی ڈی) کے لیے 14 ارب روپے، انڈس اسپتال کے لیے 8 ارب روپے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ (ایس آئی سی ایچ) کے لیے 1.7 ارب روپے، چائلڈ لائف فاؤنڈیشن کے لیے 3.5 ارب روپے اور پیشنٹ ایڈ فاؤنڈیشن کے لیے 2.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر گرانٹس حاصل کرنے والے بڑے اداروں کے لیے 686 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ بجٹ میں مالی نظم و ضبط کو ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبوں کی معاونت کو بھی جاری رکھا گیا ہے۔

    وزیراعلیٰ نے بتایا کہ غیر ملکی منصوبوں کے لیے تقریباً 225 ارب روپے کی امداد متوقع ہے، جبکہ امدادی اداروں کے تعاون سے چلنے والے منصوبوں کے لیے صوبائی حصہ اور مساوی گرانٹس بھی اخراجات کا اہم حصہ ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال تقریباً 400 ارب روپے غیر ملکی منصوبہ جاتی امداد سے منسلک تھے، تاہم رواں سال نظرثانی شدہ تخمینے کے مطابق یہ رقم تقریباً 225 ارب روپے رہنے کی توقع ہے، جس کا انحصار منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار پر ہوگا۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ وفاقی ترقیاتی معاونت، جس میں عالمی بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی امداد شامل ہے، تقریباً 64 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے پہلے سے کیے گئے مالی وعدوں کو موصول ہونے والی حقیقی رقوم کے مطابق ایڈجسٹ کیا جا رہا ہے۔