Tag: مذہبی

  • پاکستان میں شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں دو تہائی کمی، رائٹرز

    پاکستان میں شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں دو تہائی کمی، رائٹرز

    پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات اور ان سے جڑے پرتشدد واقعات میں رواں سال نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کی بڑی وجہ فوج کی جانب سے شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف سخت کارروائیاں اور ان کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھی جانا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں اختیار کی گئی نئی پالیسی کے بعد توہین مذہب کے مقدمات میں تقریباً دو تہائی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ ہجوم کے تشدد کے واقعات بھی پہلے کے مقابلے میں بہت کم ہوئے ہیں۔

    رائٹرز کے مطابق گزشتہ ماہ کراچی میں ایک مسیحی خاندان پر توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد سینکڑوں افراد جمع ہوگئے تھے۔ ماضی میں ایسے واقعات اکثر پرتشدد ہجوم، املاک کو نقصان پہنچانے اور انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بنتے رہے ہیں، تاہم اس مرتبہ پولیس نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے چار خواتین اور ایک بچے کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا اور صورتحال کو قابو میں رکھا۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 1990 کے بعد سے توہین مذہب کے الزامات سے جڑے تقریباً 90 ہجومی قتل ہو چکے ہیں۔

    ماضی میں ایسے واقعات کے دوران مذہبی شدت پسند تنظیمیں متحرک کردار ادا کرتی تھیں، لیکن حالیہ مہینوں میں ان کی سرگرمیوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ اس تبدیلی کے بعد کئی شہروں میں ایسے واقعات کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکنے میں کامیابی ملی ہے۔

    رائٹرز کے مطابق فوجی قیادت نے شدت پسند مذہبی گروہوں کے خلاف "زیرو ٹالرنس’ کی پالیسی اختیار کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بعض مذہبی تنظیموں پر پابندی لگائی گئی، ان کے رہنماؤں کو گرفتار کیا گیا اور ان کے مالی وسائل کو بھی محدود کیا گیا۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف داخلی امن کو بہتر بنانا بلکہ پاکستان کا بین الاقوامی تشخص بھی بہتر بنانا بتایا گیا ہے۔

    خبر رساں ادارے کے مطابق سفارتی اور معاشی حلقوں کا خیال ہے کہ پاکستان اپنی معیشت کو مستحکم کرنے، یورپی ممالک اور مغربی دنیا کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے اور تجارتی سہولتوں کو برقرار رکھنے کے لیے بھی مذہبی انتہا پسندی کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حکام سمجھتے ہیں کہ قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے سے بیرونی سرمایہ کاری اور عالمی اعتماد میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

    رائٹرز نے لکھا ہے کہ اگرچہ پرتشدد واقعات میں کمی آئی ہے، لیکن مذہبی اقلیتوں میں خوف اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

    کراچی میں پولیس کی جانب سے بچائی جانے والی ایک مسیحی خاتون نے رائٹرز کو بتایا کہ وہ جسمانی طور پر تو محفوظ ہیں، مگر ذہنی خوف اب بھی ان کے دل میں موجود ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی نئے الزام کے بعد دوبارہ ایسی ہی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔

    رپورٹ میں انسانی حقوق کے ماہرین کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جن کا کہنا ہے کہ صرف شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کافی نہیں ہوگی۔

    ان کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ قانون کے غلط استعمال کو بھی روکا جائے، جھوٹے الزامات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور ملزمان کو منصفانہ قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ بے گناہ افراد نشانہ نہ بنیں۔

    رائٹرز کے مطابق بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پاکستان کو ایک ہی وقت میں دہشت گردی، معاشی مشکلات اور اندرونی سلامتی جیسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ایسے حالات میں ریاست نے ان مذہبی گروہوں کے خلاف زیادہ سخت رویہ اپنانا شروع کیا ہے جن پر ماضی میں عوام کو مشتعل کرنے اور پرتشدد احتجاج منظم کرنے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگرچہ حالیہ اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ شدت پسند نظریات کئی برسوں سے معاشرے میں موجود ہیں اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنا آسان نہیں ہوگا۔

    ان کے مطابق پائیدار بہتری کے لیے قانون پر یکساں عملدرآمد، عدالتی نظام کی مضبوطی، مذہبی ہم آہنگی کے فروغ اور عوامی شعور میں اضافے کی ضرورت ہوگی تاکہ مستقبل میں توہین مذہب کے الزامات پر تشدد کے واقعات دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔

    رائٹرز کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال پاکستان کی داخلی سلامتی کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے۔ اگر یہ پالیسی مستقل طور پر جاری رہی تو اس سے نہ صرف ملک میں مذہبی تشدد میں مزید کمی آسکتی ہے بلکہ پاکستان کے عالمی تعلقات اور معاشی ماحول پر بھی مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • راکھی ساونت نے اسلام قبول کرنے، آٹھ بار عمرہ کرنے اور مذہبی عقائد سے متعلق دعوے کر دیے

    راکھی ساونت نے اسلام قبول کرنے، آٹھ بار عمرہ کرنے اور مذہبی عقائد سے متعلق دعوے کر دیے

    مشہور بھارتی اداکارہ اور ٹی وی سیلیبرٹی راکھی ساونت نے کہا ہے کہ انہوں نے ایک مسلمان شخص سے شادی کے بعد اسلام قبول کیا، اپنا نام فاطمہ رکھا اور اب تک آٹھ مرتبہ عمرہ ادا کر چکی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ پانچ وقت کی نماز پڑھتی ہیں، قرآن اور بائبل دونوں کا مطالعہ کرتی ہیں اور تمام انبیائے کرام کا احترام کرتی ہیں۔

    یہ بات انہوں نے بی بی سی ہندی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، جس میں انہوں نے اپنی مذہبی زندگی، شادی، اسلام قبول کرنے اور مختلف مذاہب کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    راکھی ساونت نے بتایا کہ انہوں نے ایک مسلمان نوجوان سے محبت کے بعد شادی کی تھی اور اسی دوران اسلام قبول کیا۔ ان کے بقول، نکاح کے بعد ان کا نام فاطمہ رکھا گیا، تاہم یہ شادی صرف چھ ماہ تک برقرار رہی۔ انہوں نے کہا کہ شادی ختم ہونے کے باوجود ان کا اللہ پر ایمان برقرار ہے۔

    اداکارہ نے کہا کہ لوگ یہ تاثر نہ دیں کہ کسی ہندو خاتون کا مسلمان شخص سے شادی کرنا کوئی غیر معمولی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں ہندو اور مسلمان مختلف مذاہب میں شادیاں کرتے رہتے ہیں اور فلمی دنیا میں بھی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ انہوں نے بالی ووڈ کے اداکاروں شاہ رخ خان اور عامر خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مذاہب میں شادی کرنا نئی بات نہیں ہے۔

    راکھی ساونت نے دعویٰ کیا کہ نکاح اور مذہب کی تبدیلی کے بعد انہیں عمرہ کرنے کی اجازت ملی اور وہ اب تک آٹھ مرتبہ عمرہ ادا کر چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس پر خوشی اور فخر ہے۔

    بی بی سی ہندی کی میزبان نے جب ان سے پوچھا کہ وہ اس وقت کس مذہب پر عمل کر رہی ہیں تو راکھی ساونت نے جواب دیا کہ وہ اللہ پر ایمان رکھتی ہیں اور حضرت محمد ﷺ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت یعقوب علیہ السلام سمیت تمام انبیائے کرام کا احترام کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اللہ ایک ہے اور تمام انبیاء اس کے برگزیدہ پیغمبر ہیں، اس لیے وہ سب کی عزت کرتی ہیں اور لوگوں کو بھائی چارے کا پیغام دیتی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ انہیں اردو زبان نہیں آتی، تاہم وہ مذہبی تعلیمات سے اپنی استطاعت کے مطابق آگاہی حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    انٹرویو کے دوران راکھی ساونت نے کہا کہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر بھی ایمان رکھتی ہیں اور چرچ بھی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ کئی برس دبئی میں رہنے کی وجہ سے باقاعدگی سے چرچ نہیں جا سکیں، لیکن ممبئی واپسی کے بعد دوبارہ چرچ جانا شروع کر دیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کی والدہ بائبل پڑھا کرتی تھیں، اسی وجہ سے وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے بھی عقیدت رکھتی ہیں۔ ان کے بقول وہ کسی بھی مذہب یا مذہبی شخصیت کے خلاف بات سننا پسند نہیں کرتیں۔

    جب میزبان نے سوال کیا کہ کیا وہ واقعی اسلامی تعلیمات پر عمل کرتی ہیں یا یہ سب صرف عوامی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہے، تو راکھی ساونت نے کہا کہ وہ پانچ وقت کی نماز ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نمازوں کی رکعات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ تہجد کی نماز بھی پڑھتی ہیں۔

    راکھی ساونت نے مزید دعویٰ کیا کہ وہ قرآن مجید اور بائبل دونوں کا مطالعہ کرتی ہیں۔ ان کے مطابق وہ قرآن کی مختلف سورتیں پڑھتی ہیں اور اپنی روزمرہ زندگی میں مذہبی تعلیمات پر عمل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

    انٹرویو کے دوران انہوں نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ بعض لوگ انہیں مسلمان تسلیم نہیں کرتے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی پروا نہیں کیونکہ ان کے نزدیک ایمان انسان اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ ان کے فلمی پیشے اور لباس کی وجہ سے انہیں مسلمان نہیں مانتے، لیکن وہ اس تنقید کو اہمیت نہیں دیتیں۔

    راکھی ساونت نے کہا کہ ان کے ناقدین میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہیں ایک بار بھی عمرہ کرنے کا موقع نہیں ملا، جبکہ وہ آٹھ مرتبہ عمرہ ادا کر چکی ہیں۔ ان کے مطابق وہ اپنی مذہبی زندگی کو ذاتی معاملہ سمجھتی ہیں اور کسی کی رائے سے ان کے عقیدے پر فرق نہیں پڑتا۔

    واضح رہے کہ راکھی ساونت ماضی میں بھی اپنی ذاتی زندگی، شادی، مذہبی معاملات اور متنازع بیانات کے باعث خبروں میں رہتی آئی ہیں۔ ان کا تازہ انٹرویو بھی سوشل میڈیا پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔