Tag: محکمہ خارجہ

  • امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم کی پاکستان کے دورے کے دوران کیا سرگرمیاں رہیں؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم کی پاکستان کے دورے کے دوران کیا سرگرمیاں رہیں؟

    امریکی محکمہ خارجہ کے ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری جان مارک پومر شائم نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے اعلیٰ سرکاری حکام، کاروباری شخصیات اور مصنوعی ذہانت کے شعبے سے وابستہ ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔

    ملاقاتوں میں ابھرتی ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور مستقبل کی شراکت داری پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ حالیہ برسوں میں مصنوعی ذہانت عالمی معیشت اور سفارت کاری کا اہم موضوع بن چکی ہے، اسی تناظر میں یہ روابط اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

    لاہور میں امریکی سفارتی حکام نے بسنت کے تہوار میں بھی شرکت کی۔ پنجاب کی اس قدیم روایت کی بحالی پر شہریوں کے ساتھ مل کر خوشی کا اظہار کیا گیا۔ بسنت ماضی میں پابندیوں اور تنازعات کا شکار رہی، تاہم یہ تہوار شہری ثقافت اور سماجی ہم آہنگی کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ غیر ملکی سفارت کاروں کی شرکت کو عوامی روابط کے ایک نرم پہلو کے طور پر دیکھا گیا۔

    اسلام آباد میں فریڈم 250 لیکچر سیریز کا انعقاد جاری رہا۔ اس نشست میں قیادت اور تاریخی ورثے پر گفتگو کی گئی جبکہ امریکی صدارتی تاریخ کے مختلف ادوار کو موضوع بنایا گیا۔ یہ پروگرام ملک بھر میں قائم لنکن کارنرز کے ذریعے نشر کیا گیا۔

    لنکن کارنرز دراصل ایسے مراکز ہیں جو تعلیمی اور ثقافتی معلومات تک رسائی فراہم کرتے ہیں اور نوجوانوں کے لیے مباحثے کا پلیٹ فارم بنتے ہیں۔

    تعلیم کے شعبے میں ایجوکیشن یو ایس اے ٹیم نے کراچی اور لاہور میں امریکی جامعات کے تعلیمی میلوں کا انعقاد کیا۔ طلبہ کو داخلہ طریقہ کار، وظائف اور تعلیمی مواقع سے متعلق رہنمائی دی گئی۔

    اسلام آباد میں آخری میلہ اتوار کو منعقد ہو رہا ہے جہاں طلبہ براہ راست معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ پاکستان سے ہر سال ہزاروں طلبہ اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جاتے ہیں، جو دو طرفہ تعلقات کا ایک مستقل اور اہم پہلو ہے۔

    کھیلوں کے میدان میں ٹی 20 مقابلے میں امریکی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے خلاف حصہ لیا۔ مقابلہ دوستانہ ماحول میں دیکھا گیا۔ اسی ہفتے سپر باؤل بھی پاکستانی شائقین کے ساتھ دیکھا گیا، جسے امریکی کھیلوں کی ثقافت کی ایک نمایاں علامت سمجھا جاتا ہے۔

    ہفتے کے اختتام پر امریکی حکام کی جانب سے پاکستان کے لیے تشکر کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں نئی شراکت داری، جدت اور آئندہ 250 برس کی سفارت کاری کے عزم کو دہرایا گیا۔ ماہرین کے مطابق تعلقات میں سیاسی اتار چڑھاؤ کے باوجود تعلیم، ثقافت اور عوامی روابط ایسے شعبے ہیں جو مسلسل رابطے کا ذریعہ بنتے رہتے ہیں۔