Tag: محمد حنیف

  • ناول نگار محمد حنیف کا نیا ناول ‘دی ریبل انگلش اکیڈمی’ شائع ہوگیا

    ناول نگار محمد حنیف کا نیا ناول ‘دی ریبل انگلش اکیڈمی’ شائع ہوگیا

    ملک کے نامور صحافی اور ناول نگار محمد حنیف کا نیا ناول ‘دی ریبل انگلش اکیڈمی’ گروو پریس برطانیہ کے تحت شائع ہو چکا ہے۔

    محمد حنیف کا یہ چوتھا ناول ہے۔ ناول نگاری کی دنیا میں انہوں نے اپنے پہلے ناول ‘اے کیس آف ایکسپلوڈنگ مینگوز’ سے اپنا لوہا منوایا تھا۔ ملک پر آج بھی آسیب کی طرح چھائے ہوئے جنرل ضیاءالحق کی موت پر لکھے گئے اس ناول کے لیے حنیف نے کہا تھا، ‘میں نے ایکسپلوڈنگ مینگوز میں ضیاء کی موت کی مسٹری کو فکشن کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی ہے’۔

    اے آئی کے زمانے میں کتابیں لکھنا اور پڑھنا ایک جتنا ہی مشکل کام ہے، مگر محمد حنیف نے اپنی جادوئی قلم نگاری سے اپنے پڑھنے والوں کا ایک بہت بڑا حلقہ بنائے رکھا ہے۔

    2008 میں جب ان کا یہ پہلا ناول شائع ہوا تھا تو انہوں نے کہا تھا، ‘پہلا ناول چھاپنے کے لیے پبلشر ڈھونڈنا قسمت کے خلاف جوا کھیلنے کے مترادف ہے’، مگر جس طرح تھرپارکر کے ہندو بیوپاریوں میں عام کہاوت ہے کہ ‘سب سے مشکل کام پہلا لاکھ کمانا ہے، پھر آگے آسانی ہو جاتی ہے’، اسی طرح حنیف کا پہلا ناول ہی انہیں شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔

    یہی وجہ ہے کہ ان کے ہر نئے ناول کا پڑھنے والوں کو بے صبری سے انتظار رہتا ہے۔

    اس مرتبہ محمد حنیف طاقت اور سیاست کے باہمی تعلق کو سامنے لے کر آئے ہیں۔ یہ ناول قاری کو ایک ایسے سماج میں لے جاتا ہے جہاں انگریزی محض زبان نہیں بلکہ اختیار اور طبقاتی فرق کی علامت بن جاتی ہے۔

    محمد حنیف کی تحریر کا نمایاں پہلو طنز، سیاسی شعور اور عام آدمی کی زندگی سے جڑی تلخ حقیقتیں ہیں۔ صحافت کے تجربے نے ان کے فکشن کو ایک ایسا بیانیہ دیا ہے جو سوال اٹھاتا ہے اور قاری کو بے چین بھی کرتا ہے۔

    ناول ‘ریبل انگلش اکیڈمی’ کی کہانی ایک ایسے قصبے میں ترتیب دی گئی ہے جہاں ریاستی دباؤ، خوف اور سیاسی بے یقینی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ کہانی کا مرکز ایک انگلش اکیڈمی ہے، جہاں لوگ بہتر مستقبل کی امید کے ساتھ آتے ہیں، مگر جلد ہی یہ واضح ہو جاتا ہے کہ زبان سیکھنا یہاں محض تعلیم نہیں بلکہ طاقت کے نظام میں داخل ہونے کی کوشش بھی ہے۔

    ناول کے کردار عام اور پہچانے ہوئے ہیں، استاد، طالب علم اور وہ لوگ جو نظام کے قریب یا اس کے حاشیے پر کھڑے ہیں۔ محمد حنیف ان کرداروں کو کسی خطابت کے بغیر آہستہ آہستہ کھولتے ہیں۔ مکالموں میں طنز ہے، مگر یہ طنز ہنسانے سے زیادہ چبھنے کے لیے ہے۔

    ‘ریبل انگلش اکیڈمی’ میں محبت اور سیاست ساتھ ساتھ چلتی ہیں، مگر کسی رومانوی مبالغے کے بغیر۔ سیاست یہاں پس منظر نہیں بلکہ کرداروں کی نجی زندگی میں سرایت کیے ہوئے ہے۔ زبان کبھی آزادی کی امید بنتی ہے اور کبھی کنٹرول کا ذریعہ۔ یہی کشمکش اس ناول کو محض کہانی سے آگے لے جاتی ہے۔

    یہ کتاب پاکستانی سماج کو باہر سے نہیں بلکہ اندر سے دیکھتی ہے۔ یہ کسی ایک دور تک محدود نہیں رہتی بلکہ ایک ایسی مسلسل کیفیت کو بیان کرتی ہے جو آج بھی موجود ہے۔ ‘ریبل انگلش اکیڈمی’ ان قارئین کے لیے اہم ہے جو ادب کے ذریعے زبان، طاقت اور سماج کے رشتے کو سمجھنا چاہتے ہیں۔

    یہ ناول ختم ہونے کے بعد بھی قاری کے ذہن میں سوال چھوڑ جاتا ہے، اور یہی محمد حنیف کے فکشن کی اصل پہچان ہے۔