سندھ کے معروف لکھاری، آبی ماہر، سماجی رہنما اور سابق طالب علم رہنما انجینئر محمد اوبھایو خشک جمعہ کی شب مختصر علالت کے بعد کراچی کے ایک نجی اسپتال میں انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 76 برس تھی۔
ان کے انتقال پر سندھ کے ادبی، فکری، سماجی اور علمی حلقوں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔ مرحوم اپنی پوری زندگی تعلیم، سماجی اصلاح، آبی مسائل اور سندھ کے حقوق کے لیے سرگرم رہے اور انہی خدمات کے باعث انہیں بے حد عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔
انجینئر محمد اوبھایو خشک 2 ستمبر 1949 کو ضلع ٹھٹہ کی تحصیل گھوڑاباری کے گاؤں درویش میں پیدا ہوئے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی گاؤں میں حاصل کی، جبکہ میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول ٹھٹھہ سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے گورنمنٹ ڈگری کالج حیدرآباد، جو اب گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد کے نام سے جانا جاتا ہے، سے انٹرمیڈیٹ کی تعلیم مکمل کی اور اعلیٰ تعلیم کی جانب سفر جاری رکھا۔
انہوں نے 1971 میں سندھ یونیورسٹی انجینئرنگ کالج جامشورو، جو اب مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی ہے، سے سول انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ یہ کامیابی ان کے ایک طویل اور کامیاب پیشہ ورانہ سفر کا آغاز ثابت ہوئی، جسے انہوں نے عوامی خدمت اور ترقی کے لیے وقف رکھا۔
انجینئر خشک نے 1972 میں محکمہ آبپاشی میں سب انجینئر کی حیثیت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تقریباً چار دہائیوں تک مختلف اہم ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے وہ ترقی کی منازل طے کرتے رہے اور 2009 میں پروجیکٹ ڈائریکٹر کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ سندھ کے آبی مسائل، پانی کی منصفانہ تقسیم اور آبی انتظام کے حوالے سے ان کی گہری معلومات نے انہیں ایک معتبر ماہر، محقق اور دانشور کے طور پر شناخت دلائی۔
پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ وہ سیاسی، سماجی، ادبی اور فکری سرگرمیوں میں بھی بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
طالب علمی کے زمانے میں وہ ایک فعال اور بااثر طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔ انہوں نے سندھ اسٹوڈنٹ کلچرل آرگنائزیشن میں پہلے سینئر نائب چیئرمین اور بعد میں چیئرمین کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور طلبہ سیاست و ثقافتی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔
انجینئر اوبھایو خشک اپنی علمی اور تحقیقی تحریروں کے باعث بھی خاص شہرت رکھتے تھے۔ انہوں نے سندھ کے آبی حقوق، ماحولیاتی مسائل، تاریخ، ثقافت اور سماجی انصاف جیسے اہم موضوعات پر وسیع پیمانے پر لکھا۔ ان کی تحریروں نے انہیں عوامی مباحث میں ایک مضبوط اور می نمایاں تصانیف میں سندھ پنجاب پانی مامرو، گوندر گس پرین جا، سندھو جو رستو نہ روکیو، بھاشا ڈیم: سندھ لائے ترقی یا زہر؟ شامل ہیں
ان کے انتقال کے بعد زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد ان کی رہائش گاہ ٹھٹہ پہنچے اور مرحوم کو سندھ کے لیے ان کی عمر بھر کی خدمات کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔
معروف شخصیات ممتاز کالم نگار زاہد اسحاق سومرو نے کہا کہ سندھ اپنے آبی حقوق کے ایک مضبوط وکیل اور بڑے دانشور سے محروم ہو گیا ہے۔
سینئر صحافی اقبال خواجہ نے کہا کہ مرحوم اوبھایو خشک نے سندھ کے آبی مقدمے کو مختلف فورمز پر مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے مسلسل اور بھرپور جدوجہد کی۔
مؤرخ زبیر عزیز جعفرانی، اسلم آزاد، سینیٹر سسئی پلیجو، ڈاکٹر محمد علی مانجھی اور دیگر شخصیات نے بھی ان کے انتقال پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا۔
انجینئر محمد اوبھایو خشک کو ایک مخلص انجینئر، دوراندیش مفکر، باصلاحیت قلم کار اور سندھ کے حقوق و ترقی کے پُرجوش داعی کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ادب، عوامی خدمت، سماجی شعور اور آبی حقوق کے لیے ان کی گراں قدر خدمات آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہیں گی۔

