Tag: مجتبی خامنہ ای

  • ایران کا نیا سپریم لیڈر: مجتبی خامنہ ای، ایران کی سیاست کی ایک پس پردہ مگر بااثر شخصیت

    ایران کا نیا سپریم لیڈر: مجتبی خامنہ ای، ایران کی سیاست کی ایک پس پردہ مگر بااثر شخصیت

    مجتبی خامنہ ای کو ایران کا نیا سپریم لیڈر سلیکٹ کردیا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ایران میں رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کرنے والے ادارے مجلسِ خبرگان رہبری کے رکن احمد عالم الہدیٰ کا کہنا ہے کہ ملک کے نئے رہبرِ اعلیٰ کا انتخاب کر لیا گیا ہے۔

    نیم سرکاری خبررساں ایجنسی مہر کے مطابق، عالم الہدیٰ کا کہنا اب سب کچھ مجلسِ خبرگان رہبری کے سیکرٹریٹ کے سربراہ حسینی بوشہری پر ہے، جو فی الحال اس فیصلے کا عوامی طور پر اعلان کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

    ایران کی سیاست میں کچھ شخصیات ایسی بھی ہیں جو عوامی منظر پر بہت کم نظر آتی ہیں، مگر طاقت کے ایوانوں میں ان کا اثر محسوس کیا جاتا ہے۔ ایسی ہی ایک شخصیت مجتبی خامنہ ای کی ہے۔ وہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں اور گزشتہ برسوں میں ان کا نام ایران کے سیاسی اور مذہبی حلقوں میں خاصی توجہ حاصل کرتا رہا ہے۔

    مجتبی خامنہ ای کا پورا نام سید مجتبی حسینی خامنہ ای ہے۔ ان کی پیدائش سنہ 1969 کے لگ بھگ ایران کے دارالحکومت تہران میں ہوئی۔ وہ ایک ایسے مذہبی اور سیاسی خاندان میں پیدا ہوئے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے ایران کی ریاستی اور نظریاتی سیاست میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔

    مذہبی تعلیم کے لحاظ سے مجتبی خامنہ ای نے ایران کے اہم شیعہ تعلیمی مراکز میں تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے قم کے حوزہ علمیہ میں فقہ اور اصول فقہ کی تعلیم حاصل کی، جہاں ایران اور شیعہ دنیا کے معروف علما سے استفادہ کیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق وہ درس خارج کی سطح تک تعلیم حاصل کر چکے ہیں، جو شیعہ مذہبی تعلیم کا ایک اعلی مرحلہ سمجھا جاتا ہے۔

    خاندانی طور پر بھی ان کا تعلق ایران کے قدامت پسند سیاسی حلقوں سے مضبوطی سے جڑا ہوا ہے۔ ان کی اہلیہ غلام علی حداد عادل کی بیٹی ہیں، جو ایران کے ایک معروف قدامت پسند سیاست دان اور سابق پارلیمانی رہنما رہ چکے ہیں۔ اس رشتے نے بھی انہیں ایران کے بااثر سیاسی خاندانوں کے قریب رکھا ہے۔

    اگرچہ مجتبی خامنہ ای کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے، لیکن بہت سے مبصرین انہیں ایران کی طاقت کے مراکز میں اثر رکھنے والی شخصیت سمجھتے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق ان کے ایران کی انقلابی گارڈ کے کچھ حلقوں کے ساتھ قریبی روابط ہیں اور قدامت پسند سیاسی دھڑوں میں بھی ان کا مضبوط نیٹ ورک موجود ہے۔ اسی وجہ سے بعض مبصرین انہیں ریاستی نظام میں غیر رسمی اثر رکھنے والی شخصیت قرار دیتے ہیں۔

    سنہ 2009 کے متنازع صدارتی انتخابات کے دوران بھی مجتبی خامنہ ای کا نام خبروں اور تجزیوں میں سامنے آیا۔ ان انتخابات کے بعد ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک اٹھی جسے گرین موومنٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اپوزیشن کے بعض رہنماوں نے اس دوران یہ الزام لگایا کہ مجتبی خامنہ ای نے انتخابی عمل اور سیکیورٹی اداروں پر اثر ڈالنے میں کردار ادا کیا۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان الزامات کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔

    ایران میں جب بھی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد قیادت کے سوال پر بحث ہوتی ہے تو مجتبی خامنہ ای کا نام بھی زیر بحث آ جاتا ہے۔ تاہم ایران کے آئین کے مطابق سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان کرتی ہے اور اب تک مجتبی خامنہ ای کو باضابطہ طور پر کسی ممکنہ جانشین کے طور پر نامزد نہیں کیا گیا۔

    بعض حلقے یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر مستقبل میں ان کا نام قیادت کے لئے سامنے آتا ہے تو اس پر خاندانی جانشینی کے حوالے سے بحث اور تنقید بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ ایران کے انقلابی نظام میں باضابطہ طور پر موروثی قیادت کا تصور موجود نہیں ہے۔

    دلچسپ بات یہ ہے کہ مجتبی خامنہ ای میڈیا سے تقریباً دور رہتے ہیں اور عوامی سیاست میں بھی بہت کم نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے والد کی طرح بڑے عوامی جلسوں یا سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں نہیں ہوتے۔ اسی وجہ سے ایران کی سیاست پر نظر رکھنے والے بعض مبصرین انہیں اکثر پس پردہ طاقت قرار دیتے ہیں۔

    ایران کی پیچیدہ سیاست میں جہاں بہت سی طاقتیں کھلے عام نظر آتی ہیں، وہیں کچھ کردار ایسے بھی ہوتے ہیں جو خاموشی سے اثر انداز ہوتے ہیں۔ مجتبی خامنہ ای کو اکثر اسی قسم کی شخصیت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، ایک ایسی شخصیت جو منظر کے پیچھے رہتے ہوئے بھی ایران کے سیاسی حلقوں میں موضوع بحث بنی رہتی ہے۔