Tag: ماہواری

  • ماہواری پر ٹیکس، پاکستان میں خواتین کی صحت اور تعلیم کیسے متاثر ہو رہی ہے؟

    ماہواری پر ٹیکس، پاکستان میں خواتین کی صحت اور تعلیم کیسے متاثر ہو رہی ہے؟

    پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعداد آج بھی ماہواری کے دوران بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہے۔ عالمی اداروں اور مقامی تنظیموں کے مطابق ملک میں کروڑوں خواتین ایسی ہیں جو فیکٹری میں تیار کردہ محفوظ سینیٹری پیڈ استعمال نہیں کر سکتیں، جس کی ایک بڑی وجہ ان مصنوعات پر عائد بھاری ٹیکس ہے۔

    پاکستان میں سینیٹری پیڈز پر مقامی سطح پر 18 فیصد سیلز ٹیکس جبکہ درآمد شدہ پیڈز اور خام مال پر 25 فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے۔ یونیسیف اور دیگر اداروں کے مطابق مختلف مقامی لیویز شامل ہونے کے بعد مجموعی ٹیکس تقریباً 40 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ اس کا اثر براہ راست ان خواتین پر پڑتا ہے جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق پاکستان میں خواتین کی تعداد 12 کروڑ سے زائد ہے، مگر ان میں سے صرف تقریباً 12 فیصد خواتین فیکٹری سے تیار کردہ سینیٹری پیڈ استعمال کر پاتی ہیں۔ باقی خواتین پرانے کپڑوں یا دیگر غیر محفوظ طریقوں پر انحصار کرتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید سنگین ہے جہاں بعض خواتین ماہواری کے دوران کسی بھی حفاظتی چیز کے بغیر گزارا کرنے پر مجبور ہوتی ہیں۔

    طبی ماہرین کے مطابق غیر محفوظ کپڑوں یا غیر صحت بخش طریقوں کے استعمال سے خواتین میں تولیدی نالی کے انفیکشن، پیشاب کی نالی کے انفیکشن، جلن اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ کراچی میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ خواتین جو طویل وقت تک پیڈ یا کپڑا تبدیل نہیں کرتیں، ان میں انفیکشن کے امکانات کئی گنا زیادہ ہوتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت بھی خبردار کر چکا ہے کہ ناقص ماہواری صفائی بانجھ پن سمیت مختلف طبی مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

    ماہواری سے متعلق سہولیات کی کمی صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کو بھی متاثر کر رہی ہے۔ ماہواری سے متعلق کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق پاکستان میں پانچ میں سے ایک لڑکی ماہواری کے دوران اسکول نہیں جا پاتی، جس سے سالانہ درجنوں تعلیمی دن ضائع ہوتے ہیں۔

    جنوبی ایشیا کے کئی ممالک اس مسئلے پر ٹیکس ختم یا کم کر چکے ہیں۔ انڈیا نے 2018 میں سینیٹری پیڈز پر عائد ٹیکس ختم کیا، جبکہ نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا اور بھوٹان میں بھی اس حوالے سے ریلیف دیا جا چکا ہے۔ برطانیہ، کینیا اور جنوبی افریقہ بھی پیریڈ ٹیکس ختم کرنے والے ممالک میں شامل ہیں۔

    پاکستان میں اس معاملے پر قانونی اور سماجی سطح پر آواز بھی اٹھائی جا رہی ہے۔ لاہور ہائی کورٹ میں پیریڈ ٹیکس کے خلاف درخواست دائر کی جا چکی ہے جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ماہانہ سینیٹری پیڈ خریدنا ایک بڑا مالی بوجھ بن چکا ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ سینیٹری پیڈ کو عیش و عشرت کی شے کے بجائے بنیادی ضرورت تسلیم کیا جانا چاہیے تاکہ خواتین کو محفوظ اور سستی سہولت میسر آ سکے۔ ان کے مطابق ماہواری کا مسئلہ صرف صفائی کا معاملہ نہیں بلکہ خواتین کی صحت، تعلیم اور وقار سے جڑا انسانی مسئلہ ہے۔

    ساگا ڈیجیٹل ایسے موضوعات کو سامنے لاتا ہے جو معاشرے میں موجود تو ہیں، مگر اکثر گفتگو کا حصہ نہیں بنتے۔