پاکستان میں ماں بننا صرف ایک خوشی یا خاندانی مرحلہ نہیں رہا بلکہ یہ بہت سے خاندانوں کے لیے ایک بڑا مالی اور طبی چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ حمل کے آغاز سے ہی خواتین اور ان کے اہل خانہ کو مسلسل بڑھتے اخراجات، محدود طبی سہولیات اور صحت سے متعلق مختلف خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
حمل سے پیدائش تک مہنگا سفر
پاکستان میں حمل کے دوران الٹراساؤنڈ، خون کے ٹیسٹ، ادویات، ڈاکٹر فیس اور اسپتال کے اخراجات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ بڑے شہروں کے نجی اسپتالوں میں نارمل ڈلیوری کے اخراجات کئی مقامات پر ایک لاکھ روپے سے تجاوز کر جاتے ہیں، جبکہ آپریشن کے ذریعے بچے کی پیدائش کی صورت میں یہ خرچ کئی لاکھ روپے تک پہنچ سکتا ہے۔
دوسری جانب سرکاری اسپتالوں پر مریضوں کا دباؤ بہت زیادہ ہے، جہاں اکثر بنیادی سہولیات، ادویات اور عملے کی کمی کی شکایات سامنے آتی ہیں۔ دیہی علاقوں میں صورتحال مزید پیچیدہ ہے جہاں کئی خواتین آج بھی تربیت یافتہ طبی عملے کی سہولت کے بغیر بچوں کو جنم دیتی ہیں۔
زچگی کے دوران طبی خطرات
عالمی ادارۂ صحت اور یونیسیف کے مطابق پاکستان میں ہر سال ہزاروں خواتین زچگی کے دوران پیچیدگیوں کے باعث جان کی بازی ہار جاتی ہیں۔ بروقت طبی امداد، خون اور ایمرجنسی آپریشن کی عدم دستیابی ان اموات کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔
دیہی سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے متعدد علاقوں میں خواتین کو اسپتال تک پہنچنے کے لیے طویل فاصلے طے کرنا پڑتے ہیں۔ کئی مقامات پر ایمبولینس جیسی بنیادی سہولت بھی دستیاب نہیں، جس کے باعث بعض خواتین راستے ہی میں دم توڑ دیتی ہیں۔
غذائی کمی اور ماں کی صحت
پاکستان میں حاملہ خواتین میں غذائی قلت ایک اہم مسئلہ سمجھی جاتی ہے۔ قومی غذائی سرویز کے مطابق خون کی کمی یعنی اینیمیا حاملہ خواتین میں عام ہے، جو ماں اور بچے دونوں کی صحت پر منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق متوازن غذا اور مناسب طبی نگرانی کی کمی سے حمل کے دوران پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔
نومولود بچے کے اخراجات
بچے کی پیدائش کے بعد بھی اخراجات میں کمی نہیں آتی۔ پاکستان میں بچوں کے فارمولہ دودھ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور کئی برانڈز کے ایک ڈبے کی قیمت ہزاروں روپے تک پہنچ چکی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق مالی مشکلات کے باعث بعض خاندان دودھ کم مقدار میں تیار کرتے ہیں یا غیر محفوظ متبادل غذاؤں کا استعمال کرتے ہیں، جس سے بچوں کی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔
اسی طرح ڈائپرز بھی شہری خاندانوں کے لیے ایک مستقل خرچ بن چکے ہیں۔ ایک نومولود بچہ ماہانہ ہزاروں روپے کے ڈائپر استعمال کر سکتا ہے، جبکہ کم آمدنی والے اور دیہی خاندان اکثر کپڑا استعمال کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔
زچگی کے بعد ذہنی دباؤ
پاکستان میں زچگی کے بعد خواتین کی ذہنی صحت پر کم توجہ دی جاتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق بہت سی خواتین پوسٹ پارٹم ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں، مگر معاشرے میں اس مسئلے کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ کئی خواتین کو ذہنی دباؤ اور تھکن کے باوجود مناسب طبی یا نفسیاتی مدد نہیں مل پاتی۔
سرکاری اقدامات اور ماہرین کی رائے
پاکستان میں ماں اور بچے کی صحت کے لیے مختلف سرکاری پروگرام موجود ہیں، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ آبادی کے تناسب سے یہ اقدامات ناکافی ہیں۔ صحت کے شعبے کے محدود بجٹ اور مہنگائی میں اضافے نے بنیادی طبی سہولیات تک رسائی مزید مشکل بنا دی ہے۔
ماہرین کے مطابق زچگی صرف ایک ذاتی یا خاندانی معاملہ نہیں بلکہ ایک اہم سماجی اور ریاستی ذمہ داری بھی ہے، کیونکہ صحت مند مائیں ہی ایک صحت مند نسل کی بنیاد بنتی ہیں۔
ساگا ڈیجیٹل ایسے موضوعات پر روشنی ڈالتا ہے جو روزمرہ زندگی سے جڑے ہونے کے باوجود اکثر عوامی بحث کا حصہ نہیں بنتے۔ پاکستان کے سماجی اور عوامی مسائل پر مزید تحقیقی کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

