تاریخ کے صفحات جب بھی کراچی کا ذکر کرتے ہیں تو یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ہزاروں سال پرانا یہ بندرگاہی شہر کسی بادشاہ کے فرمان یا کسی فاتح کی تلوار کے سائے میں آباد نہیں ہوا بلکہ اس کی رگوں میں دوڑنے والا خون سمندری تجارت، میرٹ اور انتھک محنت کا مرہون منت ہے۔
اٹھارویں صدی میں لس بیلہ کی قدیم اور مصروف بندرگاہ ‘کھارک بندر’ جب سمندری مٹی کی وجہ سے بتدریج تباہی کا شکار ہوئی اور بحری جہازوں کے لیے ناقابل استعمال ہو گئی تو وہاں کے میانی ماہی گیروں، ہنرمندوں اور تاجروں نے ہجرت کا فیصلہ کیا۔ یہ قافلے موجودہ ٹاور، کھارادر اور مٹھادر کی ایک اونچی ٹیکری پر آ کر آباد ہوئے۔
یہیں سے ‘اولڈ ٹاؤن فصیل’ کی بنیاد پڑی۔ یہ فصیل بند شہر انگریزوں کی آمد سے قبل اپنی دفاعی اور تجارتی حدود کے اندر محدود تھا، لیکن اس کے اندر ایک ایسا معاشی لاوا پک رہا تھا جس نے آگے چل کر برصغیر کی سب سے بڑی غلہ منڈی اور پاکستان کے معاشی انجن کا روپ دھارنا تھا۔
انگریزوں کی آمد سے قبل بھی اس فصیل بند شہر اور اس کے مضافات میں تجارت کا ایک مربوط نظام قائم تھا۔ یہاں جونا مارکیٹ، مچھی میانی اور جوڑیا بازار جیسی منڈیاں موجود تھیں جہاں اونٹوں کے قافلے شاہراہ ریشم اور دیہی سندھ سے مال لاتے تھے۔
جب 1839 میں برطانوی راج نے اس شہر کا کنٹرول سنبھالا تو انہوں نے دیکھا کہ یہ شہر ایک سونے کی چڑیا ہے بشرطیکہ اس کے تجارتی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے۔ جہاں انگریزوں نے اپنے گورے افسران اور چھاؤنی کے اشرافیہ طبقے کے لیے ایمپریس مارکیٹ جیسی وسیع اور برطانوی طرز تعمیر کی حامل منڈی قائم کی، وہیں انہوں نے مقامی آبادی کے اندر موجود قدیم مارکیٹوں کو نہ صرف جدید کیا بلکہ نئی مارکیٹوں کی بنیاد بھی رکھی۔
یہ تجارتی دائرہ صرف صدر یا ٹاور تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کا پھیلاؤ لیاری، بندر روڈ اور اولڈ ٹاؤن کے چپے چپے تک پھیلا ہوا تھا۔
کراچی کی تجارتی تاریخ کا پہلا سنگ میل وہ منڈیاں تھیں جو کھارادر، یعنی کھارا دروازہ جو سمندر کی نمکین لہروں کی طرف کھلتا تھا، اور مٹھادر، یعنی مٹھا دروازہ جو لیاری ندی کے میٹھے پانی کے کنوؤں کی طرف کھلتا تھا، کی فصیل کے بالکل سائے میں آباد تھیں۔

مچھی میانی
یہ کراچی کی تاریخ کی قدیم ترین مچھلی منڈی تھی جہاں میانی کے ماہی گیر صبح صادق اپنی کشتیاں سمندر میں اتارتے اور تازہ مچھلی کا کاروبار کرتے تھے۔ انگریزوں سے قبل یہ منڈی ایک کچے میدان کی شکل میں تھی، لیکن بعد میں بلدیہ نے اس کے فرش کو پکا کیا اور اسے ایک باقاعدہ تجارتی شناخت دی۔
جونا مارکیٹ
جونا کا مطلب ہی ‘پرانی’ ہے۔ یہ اولڈ ٹاؤن کا وہ دل تھا جہاں گجرات، کاٹھیاواڑ اور راجپوتانہ کے تاجر دیسی گھی، اناج، کپاس اور گرم مصالحوں کی آڑھت لگاتے تھے۔ یہ مارکیٹ اس بات کا ثبوت تھی کہ کراچی انگریزوں کے آنے سے پہلے بھی ایک خود کفیل معاشی اکائی تھا۔

کھجور بازار
لیاری کے کناروں اور اولڈ ٹاؤن کے سنگم پر واقع یہ بازار مکران، ایران اور بصرہ سے بحری راستوں اور اونٹوں کے قافلوں کے ذریعے آنے والی کھجوروں کی سب سے بڑی منڈی تھی۔ اس بازار کو کچھی میمن اور بلوچی تاجروں نے رونق بخشی اور یہ کھجور کی تجارت کا ایسا بین الاقوامی مرکز بنا جہاں سے مال پورے ہندوستان کو سپلائی ہوتا تھا۔
تھوک تجارت کے مرکز، جوڑیا بازار اور بولٹن مارکیٹ
جب فصیل کی دیواریں شہر کے بڑھتے ہوئے تجارتی دباؤ کو برداشت نہ کر سکیں اور انہیں مسمار کر دیا گیا تو جوڑیا بازار اور اس کے اطراف کا علاقہ تھوک تجارت کا مرکز بن گیا۔
یہ مارکیٹ اپنے نام کی طرح ‘جڑی ہوئی’ یا جوڑواں منڈیوں کا مجموعہ تھی۔ یہاں ہندو بیوپاریوں کے علاوہ میمن، خوجہ اور بوہری برادری کے تاجروں نے پنسار، جڑی بوٹیوں، خشک میوہ جات اور کیمیکل کا وہ کاروبار شروع کیا جو آج بھی پورے پاکستان کی تھوک قیمتیں طے کرتا ہے۔
بولٹن مارکیٹ 1883: انگریزوں نے اولڈ ٹاؤن کے مقامی تاجروں کو ایک چھت تلے لانے کے لیے کراچی بلدیہ کے پہلے کلکٹر اور صدر سی ایف بولٹن کے نام پر اس عظیم الشان مارکیٹ کی بنیاد رکھی۔ یہ مقامی آبادی کے لیے بنائی گئی پہلی باقاعدہ بلدیاتی مارکیٹ تھی جہاں گوشت، سبزیاں اور پھل تھوک نرخوں پر فروخت ہوتے تھے، جس نے کراچی کے تاجروں کو بین الاقوامی خریداروں سے جوڑ دیا۔
ٹاور کے قریب کپڑے کی تاریخی منڈیاں اور جیکسن مارکیٹ
شہر کا پھیلاؤ جیسے ہی بڑھا تو ٹاور اور کیماڑی کے مضافات نئے تجارتی افق بن کر ابھرے۔
لکشمی داس مارکیٹ اور چاگلہ اسٹریٹ، ٹاور اور نیو چالی کے قریب واقع یہ علاقہ برصغیر میں کپڑے کی تجارت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا۔ بمبئی اور مانچسٹر سے آنے والا کپڑا سب سے پہلے یہیں اترتا تھا۔ یہاں ہندو بھاٹیہ، لوہانا سیٹھوں اور متمول میمن خاندانوں، جیسے چاگلہ برادری، نے عالی شان کپڑا مارکیٹیں قائم کیں۔ یہ مارکیٹیں اتنی بااثر تھیں کہ برصغیر کے دیگر شہروں کے تاجر کپڑے کے دام معلوم کرنے کے لیے کراچی کے ان صرافوں اور سیٹھوں کے خطوط کا انتظار کرتے تھے۔
جیکسن مارکیٹ
کیماڑی جیٹی کے بالکل قریب قائم ہونے والی یہ مارکیٹ برطانوی دور کے بندرگاہی انجینئروں اور بحری افسران کی ضروریات کے لیے شروع ہوئی۔ اس کا نام پورٹ ٹرسٹ کے برطانوی عہدیدار جے ای جیکسن کے نام پر رکھا گیا تھا۔ یہ مارکیٹ بحری جہازوں کے عملے، غیر ملکی مصنوعات، برقی آلات اور کسٹم کے اسکریپ کی خرید و فروخت کا ایک منفرد مرکز بنی جس نے ساحلی معیشت کو نئی زندگی دی۔

حسن علی ہوتی مارکیٹ اور ہندو، پارسی مخیر حضرات کا کردار
کراچی کو ‘عروس البلاد’ بنانے میں یہاں کی مقامی ہندو، پارسی اور مسلم شخصیات نے اپنی جیبوں سے فنڈز دیے اور زمینیں وقف کیں۔
حسن علی ہوتی مارکیٹ، رنچھوڑ لائن، تاریخی مارکیٹ 1926 میں تعمیر کی گئی تھی۔ یہ رنچھوڑ لائن، گزدر آباد، میں برنس اسٹریٹ اور نبی بخش روڈ کے کونے پر واقع ہے۔ حسن علی ہوتی نے اس مارکیٹ کی تعمیر کے لیے اپنی ذاتی زمین وقف کی تھی۔ گوتھک طرز تعمیر پر مبنی یہ مارکیٹ وی کی شکل میں دو بلاکس پر مشتمل ہے اور اپنے دور میں ایمپریس مارکیٹ جتنی ہی شاندار سمجھی جاتی تھی۔ یہ مارکیٹ رنچھوڑ لائن کے لوہاروں، سنگ تراشوں اور ہنرمندوں کا معاشی مرکز بنی جہاں روزمرہ کا راشن اور ہارڈ ویئر کا سامان تھوک نرخوں پر ملتا تھا۔
سیٹھ ناؤمل ہوتچند
انگریزوں کی آمد سے قبل اور بعد میں اس ہندو تجارتی شخصیت نے شاہی بازار اور جوڑیا بازار کے ابتدائی ڈھانچے میں ہندو بنیا اور مارواڑی تاجروں کو متحرک کیا اور بندرگاہ کے ذریعے تجارت کو فروغ دیا۔
بائی جیونی بائی اور پارسی اشرافیہ
سولجر بازار اور اس کے گرد و نواح میں مارکیٹیں قائم کرنے میں پارسی برادری کا بڑا ہاتھ تھا۔ بائی جیونی بائی نے مقامی لوگوں کے لیے راشن اور سبزی مارکیٹ کے لیے زمین اور فنڈز وقف کیے۔ اسی طرح ایڈلجی ڈنشا نے اولڈ ٹاؤن کے اطراف میں تجارتی گوداموں کے لیے اراضی فراہم کی۔
جمشید نسروانجی
کراچی کے پہلے میئر جنہوں نے پارسی برادری سے تعلق ہونے کے باوجود اولڈ ٹاؤن کی ان تمام قدیم مارکیٹوں کو سڑکوں، پینے کے پانی اور نکاسی آب کے جدید نظام سے جوڑا تاکہ مقامی تاجروں کو بمبئی جیسی سہولیات مل سکیں۔

صدر سے باہر کا پھیلاؤ، لی مارکیٹ اور کھوڑی گارڈن
برطانوی راج کے دوران یہ تاثر عام تھا کہ انگریز صرف چھاؤنی اور صدر کو ترقی دے رہے ہیں، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ مقامی آبادی کے لیے صدر سے باہر بھی بڑے معاشی مراکز قائم کیے گئے۔
لی مارکیٹ 1927، لیاری اور اولڈ ٹاؤن کے سنگم پر واقع یہ مارکیٹ کراچی بلدیہ کے انجینئر ہیرالڈ فلپ لی کے نام پر بنائی گئی تھی۔ اس کا شاندار کلاک ٹاور اور اہرام نما چھتیں آج بھی گواہ ہیں کہ یہ ان غریب لاسی ماہی گیروں، مزدور پیشہ کچھیوں اور بلوچوں کے لیے بنائی گئی تھی جو صدر کی مہنگی ایمپریس مارکیٹ کا رخ نہیں کر سکتے تھے۔
کھوڑی گارڈن اور پنسار مارکیٹ، صرف ایک باغ نہیں تھا بلکہ اس کے اطراف دیسی ادویات، مصالحوں اور شاہراہ ریشم سے آنے والے مال کا ایک بڑا تجارتی مرکز تھا جہاں روزانہ لاکھوں روپے کا کاروبار ہوتا تھا۔
لیمبرٹ مارکیٹ، نیو چالی اور لائٹ ہاؤس کے تجارتی افق
بندر روڈ، موجودہ ایم اے جناح روڈ، کے دونوں اطراف قائم ہونے والی مارکیٹوں نے کراچی کو ایک بین الاقوامی بندرگاہی شہر میں تبدیل کر دیا۔
لائٹ ہاؤس اور کباڑی بازار، جہازوں سے اترنے والے اسکریپ، لوہے کے کباڑ اور پرانے کپڑوں کی منڈی بن گیا جس نے مقامی غریب اور متوسط طبقے کو سستا خام مال فراہم کیا۔
نیو چالی اور دال بازار، جو غلہ منڈی اور اناج کے کاروبار کا وہ نیا مرکز تھا جو بندرگاہ کے قریب ہونے کی وجہ سے ہندو لوہانا، بھاٹیہ اور مسلم تاجروں نے قائم کیا تاکہ درآمد و برآمد کی دستاویزات جلد مکمل ہو سکیں۔
لیمبرٹ مارکیٹ کا نام 1867 میں کراچی کے ضلعی مجسٹریٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے برطانوی افسر ڈبلیو آر لیمبرٹ کے نام پر رکھا گیا تھا۔ 1919 کے صوبہ سندھ کے گزٹ نوٹیفکیشن کے مطابق کبوتر خانے کی طرز پر تعمیر کی گئی یہ مارکیٹ شہریوں کو اشیائے خوردونوش فراہم کرتی تھی، مگر بدقسمتی سے دہائیوں قبل اس تاریخی مارکیٹ کو مسمار کر دیا گیا۔ اگرچہ اس کے اطراف آج بھی کئی تاریخی عمارتیں موجود ہیں، لیکن خود یہ مارکیٹ ختم ہو چکی ہے۔ 1950 تک یہ مارکیٹ کراچی کی نمایاں تجارتی شناخت میں شامل تھی۔ اس کے اطراف دواؤں اور جراحی کے سامان کی دکانیں قائم ہوئیں جن کے قیام میں ہندو تاجروں کی سرمایہ کاری شامل تھی۔
مصلحت کی دھوپ اور اجڑی ہوئی تاریخ کا مزار
آج جب ہم کراچی کی ان قدیم مارکیٹوں، ان کے بانیوں اور ان کے شاندار ماضی کو دیکھتے ہیں تو موجودہ کراچی کا منظر دل کو رنجیدہ کر دیتا ہے۔ وہ شہر جسے پارسیوں، ہندوؤں اور میمنوں نے اپنے خون پسینے سے سینچا، جہاں بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنا کر میرٹ کی بنیاد پر مارکیٹیں قائم کی گئیں، وہ آج بدترین طرز حکمرانی اور سیاسی کشمکش کے باعث زوال کا شکار نظر آتا ہے۔
انگریز دور کے ٹھیکیداری نظام میں اگر کوئی بدعنوانی کرتا تھا تو اسے بلیک لسٹ کر دیا جاتا تھا، مگر آج یونیورسٹی روڈ ہو یا اولڈ ٹاؤن کی گلیاں، ہر ترقیاتی فنڈ کا ایک بڑا حصہ بدعنوانی کی نذر ہو جاتا ہے اور ہر مون سون میں یہ تاریخی بازار زیر آب آ جاتے ہیں۔ کراچی کی ان مارکیٹوں کی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شہر سرکاری کوٹوں یا لسانی بیانیوں سے نہیں بلکہ میرٹ، قانون کی حکمرانی اور خلوص نیت سے بنتے ہیں۔ جب تک ہم ان بانیوں کے نقش قدم پر چل کر اس شہر کو اس کا حق نہیں دیں گے، تب تک معاشی انصاف کا یہ خواب ادھورا ہی رہے گا۔
پامال کر دیا ہے جنہیں مصلحت کی دھوپ نے
وہ ڈھونڈ رہے ہیں شجر سایہ دار اب

