حال ہی میں لاہور کی نجی ہوٹل میں منعقد نجی ٹی وی چینل ‘ہم نیوز’ کے ‘وومین لیڈرز ایوارڈ’ تقریب میں پنجاب کی وزیر اعلی مریم نواز نے سندھ میں ماضی کے مقبول کیس ٹنڈو بہاول کیس کی مرکزی کرادار مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا۔
مریم نواز چھٹے ‘ہم نیوز وومین لیڈرز ایوارڈ’ کی تقریب میں بطور چیف گیسٹ شرکت کی۔
مائی جندو کون ہیں؟
پانچ جون 1992 کو ضلع حیدرآباد کے قریب ٹنڈو بہاول میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے سندھ کی تاریخ میں گہرا نشان چھوڑا۔ اس روز پاکستان آرمی کے ایک دستے نے کارروائی کرتے ہوئے نو دیہاتیوں کو دریائے سندھ کے کنارے جامشورو کے قریب گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔
اس وقت مریم نوزاز کے والد نواز شریف کی حکومت تھی۔ وفاقی حکومت کے مؤقف کے مطابق یہ افراد ڈاکو تھے۔ تاہم بعد کی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس میں سامنے آیا کہ مقتولین غیر مسلح کسان اور مقامی باشندے تھے۔ اس واقعے نے قومی سطح پر شدید ردعمل پیدا کیا۔
مقتولین میں مائی جندو کے دو بیٹے بہادر اور منٹھار ، اور ان کے داماد حاجی اکرم بھی شامل تھے۔ ایک ماں کے لیے یہ صدمہ ناقابلِ بیان تھا۔ مگر انہوں نے خاموشی اختیار نہیں کی۔ انہوں نے انصاف کے لیے آواز بلند کی۔
واقعے کے بعد قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ میڈیا کی توجہ اور عوامی دباؤ کے باعث متعلقہ فوجی افسران کے خلاف کورٹ مارشل کی کارروائی عمل میں آئی۔ مرکزی کردار میجر ارشد جمیل کو گرفتار کیا گیا اور فوجی عدالت میں مقدمہ چلا۔
عدالتی کارروائی کے دوران کیس مسلسل خبروں میں رہا۔ یہ مقدمہ صرف ایک فوجداری کارروائی نہیں رہا بلکہ ریاستی احتساب کے سوال سے جڑ گیا۔ مائی جندو ہر سماعت میں موجود رہیں۔ وہ انصاف کے انتظار میں عدالتوں کے باہر بیٹھی نظر آتی تھیں۔
11 ستمبر 1996 کو احتجاج ایک انتہائی المناک رخ اختیار کر گیا۔ مائی جندو کی دو بیٹیوں، حکیم زادی اور زیب النسا، نے انسدادِ دہشت گردی عدالت حیدرآباد کے باہر خود کو آگ لگا لی۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب سزا پر عمل درآمد میں تاخیر ہو رہی تھی۔ دونوں شدید زخمی ہوئیں اور بعد ازاں جانبر نہ ہو سکیں۔
یہ منظر قومی اخبارات میں شائع ہوا۔ انگریزی اخبار ڈان نےفرنٹ پیج پر اپر ہاف میں مائی جندو کی بیٹوں کی آگ میں جلتی تصویر بڑی سائیز میں شایع کی۔ اس واقعے نے ملک بھر میں ہلچل مچا دی۔ انسانی حقوق کے حلقوں میں اس پر شدید بحث ہوئی۔ عدالتوں پر دباؤ بڑھا کہ مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے۔
28 اکتوبر 1996 کو پاکستان فوج کے حاضر سروس میجر ارشد جمیل کو حیدرآباد سینٹرل جیل میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ ایک غیر معمولی واقعہ تھا کہ ایک حاضر سروس فوجی افسر کو کورٹ مارشل کے بعد سزائے موت دی گئی۔ اس فیصلے کو ریاستی احتساب کی مثال کے طور پر دیکھا گیا۔
اس کے باوجود مائی جندو کا دکھ ختم نہیں ہوا۔ ان کے خاندان نے بیٹے، داماد اور بعد ازاں بیٹیوں کو کھو دیا تھا۔ قانونی فیصلے کے باوجود ایک ماں کے زخم باقی رہے۔
2004 میں حکومت سندھ نے مقتولین کے خاندانوں کو بطور معاوضہ 24 ایکڑ زرعی زمین فی خاندان دینے کا اعلان کیا۔ مائی جندو نے بعد میں کہا کہ زمین بنجر تھی اور قابلِ کاشت نہیں تھی۔
2006 میں ضلعی انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں میں مالی معاوضہ تقسیم کیا گیا۔ تقریباً 4.55 ملین روپے کے چیکز ورثا کو دیے گئے۔ یہ اقدامات ریاستی ذمہ داری کی تکمیل کے طور پر پیش کیے گئے۔
وقت گزرتا گیا مگر ٹنڈو بہاول کیس صحافتی اور سماجی مباحث میں زندہ رہا۔ اسے اکثر اس مثال کے طور پر پیش کیا گیا کہ ریاستی طاقت کے استعمال کے بعد عدالتی احتساب کیسے ممکن ہوا۔
مائی جندو مختلف تقریبات میں مدعو کی گئیں۔ 2012 میں کراچی پریس کلب میں ایک تقریب میں انہیں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ ان کی جدوجہد کو استقامت کی علامت قرار دیا گیا۔
یہ کیس کئی حوالوں سے منفرد تھا۔ اول، اس میں ابتدائی سرکاری بیان اور بعد کی عدالتی حقیقت میں واضح فرق سامنے آیا۔ دوم، ایک فوجی افسر کا کورٹ مارشل اور پھانسی ایک غیر معمولی مثال بنی۔ سوم، ایک عام دیہاتی خاتون کی طویل مزاحمت قومی سطح پر سنی گئی۔
ٹنڈو بہاول کا واقعہ آج بھی ریاستی جوابدہی کے مباحث میں حوالہ بنتا ہے۔ یہ سوال اٹھاتا ہے کہ انصاف کے حصول میں تاخیر کتنے گہرے سماجی زخم پیدا کر سکتی ہے۔
مائی جندو کی کہانی کسی سیاسی نعرے سے زیادہ ایک انسانی داستان ہے۔ ایک ماں جس نے اپنے بچوں کی موت کے بعد بھی خاموشی قبول نہیں کی۔ انہوں نے عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ انہوں نے احتجاج کیا۔ انہوں نے انتظار کیا۔
انصاف ملا، مگر قیمت بھاری تھی۔
ٹنڈو بہاول کیس محض ایک پرانا مقدمہ نہیں۔ یہ پاکستان کی عدالتی اور ریاستی تاریخ کا ایک اہم باب ہے۔ اور اس باب کے مرکز میں ایک نام ہمیشہ رہے گا۔
اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کی جانب سے مائی جندو کے بیٹوں کو ڈاکو قرار دیا گیا، جب کہ مریم نواز نے مائی جندو کو ‘رول ماڈل ایوارڈ’ دیا، یہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔

