صحرائے تھر کی شامیں ایک خاص کیفیت رکھتی ہیں۔ ریت کے ٹیلوں پر دھیمی ہوا چلتی ہے، کہیں دور مور کی آواز سنائی دیتی ہے اور کبھی کسی تنہا درخت کے نیچے خاموشی کا ایک ایسا منظر بنتا ہے جس میں وقت جیسے ٹھہر جاتا ہے۔ تھر میں نیم کا درخت صرف سایہ دینے والا درخت نہیں سمجھا جاتا، بلکہ یہ اکثر ملاقاتوں، انتظار اور کہانیوں کا گواہ بھی ہوتا ہے۔ اسی ماحول سے ایک ایسا لوک گیت پیدا ہوا جو وقت کے ساتھ سندھ کی ثقافتی شناخت بن گیا۔ اس گیت کا نام ہے ’کھڑی نیم کے نیچے‘۔
یہ گیت سندھ کے ریگستانی خطے کی لوک روایت سے تعلق رکھتا ہے اور اس کی زبان ڈھاٹکی اور مارواڑی کے امتزاج سے بنی ہوئی ہے۔ یہ زبان تھرپارکر، عمرکوٹ اور سرحد کے اُس پار بھارت کے راجستھان کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ اسی لیے اس گیت کی فضا میں صرف سندھ ہی نہیں بلکہ پورے تھر اور راجستھان کے صحرائی کلچر کی جھلک ملتی ہے۔
اس گیت کے لفظی معنی ہیں ‘میں نیم کے درخت کے نیچے تنہا کھڑی ہوں‘، مگر اس سادہ جملے کے پیچھے ایک پوری جذباتی دنیا پوشیدہ ہے۔
لوک روایت کے مطابق اس گیت کی کہانی ایک لڑکی کے انتظار کے گرد گھومتی ہے۔ وہ نیم کے درخت کے نیچے کھڑی ہے اور اپنے محبوب کا انتظار کر رہی ہے۔ اس انتظار کے دوران موسم بدلتے ہیں، ہوائیں چلتی ہیں، بارش ہوتی ہے اور پرندے آواز دیتے ہیں، مگر اس کی امید ختم نہیں ہوتی۔ یہی انتظار اس گیت کو ایک عام محبت کے گیت سے بڑھا کر ایک علامتی داستان بنا دیتا ہے۔
تھر کی کوئل مائی بھاگی اور اس گیت کی شہرت
اگرچہ یہ گیت صدیوں پرانی لوک روایت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، مگر اسے وسیع شہرت دلانے والی آواز مائی بھاگی کی تھی۔ مائی بھاگی کو سندھ میں ‘تھر کی کوئل’ کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق تھرپارکر کے ایک لوک موسیقار خاندان سے تھا۔ ان کی پیدائش تقریباً 1920 کے آس پاس تھر کے ایک گاؤں میں ہوئی۔ ان کے والدین بھی لوک گلوکار تھے اور موسیقی ان کے گھر کی روایت تھی۔ بچپن ہی سے انہوں نے صحرا کے گیت، صوفی کلام اور لوک داستانیں سننا اور گانا شروع کر دیا تھا۔
مائی بھاگی نے ابتدا میں مقامی میلوں اور ثقافتی تقریبات میں گانا شروع کیا۔ اس دور میں لوک فنکاروں کے پاس زیادہ وسائل نہیں ہوتے تھے اور نہ ہی موسیقی کو معاشی لحاظ سے مضبوط پیشہ سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود وہ تھر کے روایتی گیتوں کو زندہ رکھنے کے لیے گاتی رہیں۔
1960 کی دہائی میں ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ آیا جب انہوں نے ریڈیو پاکستان حیدرآباد میں پہلی بار ‘کھڑی نیم کے نیچے’ گایا۔ اس وقت انہیں اس گیت کے عوض صرف بیس روپے معاوضہ ملا۔ لیکن یہ ریڈیو نشریات اس گیت کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوئی کیونکہ اس کے بعد یہ گیت سندھ کے مختلف علاقوں میں سنائی دینے لگا۔
اصل قومی شہرت اس گیت کو 1974 میں ملی، جب مائی بھاگی نے اسے پاکستان ٹیلی ویژن پر پیش کیا۔ اس دور میں ٹیلی ویژن کی نشریات محدود تھیں مگر ان کی رسائی پورے ملک تک تھی۔ جب مائی بھاگی کی آواز میں یہ گیت نشر ہوا تو اس نے نہ صرف سندھ بلکہ پورے پاکستان میں لوگوں کی توجہ حاصل کر لی۔ یوں ایک صحرا کا سادہ سا گیت قومی ثقافتی شناخت کا حصہ بن گیا۔
لوک گیت میں علامتوں کی دنیا
تھر کے لوک گیتوں میں درخت، پرندے، بارش اور موسم اکثر علامتی کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عناصر صرف قدرتی منظر پیش نہیں کرتے بلکہ انسانی جذبات اور احساسات کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ ‘کھڑی نیم کے نیچے’ میں نیم کا درخت بھی ایک علامت ہے۔
نیم کا درخت برصغیر میں اپنی خاص خصوصیات کے لیے جانا جاتا ہے۔ اس کے پتے کڑوے ہوتے ہیں مگر اس کا سایہ ٹھنڈا اور آرام دہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے لوک شاعری میں اسے اکثر محبت اور صبر کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ اس گیت میں نیم کا درخت اس انتظار کا استعارہ بن جاتا ہے جس میں درد بھی ہے اور امید بھی۔
اسی طرح بارش، ہوا اور پرندوں کی آوازیں بھی لوک شاعری میں پیغام رساں سمجھی جاتی ہیں۔ تھر کے گیتوں میں مور کی آواز اکثر خوشی یا موسم کی تبدیلی کی علامت ہوتی ہے جبکہ کوئل کی آواز محبت اور یاد کا استعارہ سمجھی جاتی ہے۔
تھر کی ثقافت اور لوک موسیقی
تھرپارکر کا خطہ اپنی منفرد ثقافت، زبان اور موسیقی کے لیے مشہور ہے۔ یہاں کی موسیقی میں صحرائی زندگی کی جھلک واضح نظر آتی ہے۔ تھر کے گیتوں میں اکثر محبت، جدائی، انتظار اور موسموں کی تبدیلی کے موضوعات ملتے ہیں۔ یہ گیت صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ اس خطے کی سماجی اور ثقافتی تاریخ کا حصہ بھی ہیں۔
ڈھاٹکی اور مارواڑی زبانوں میں گائے جانے والے گیتوں میں صوفی روایت کا بھی اثر پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تھر کے لوک گیتوں میں محبت کو صرف رومانوی جذبہ نہیں بلکہ ایک روحانی کیفیت کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔
ایک گیت جو سرحدوں سے آگے گیا
‘کھڑی نیم کے نیچے’ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ یہ گیت صرف سندھ تک محدود نہیں رہا۔ چونکہ تھر اور راجستھان کی ثقافت اور زبان میں گہرا تعلق ہے، اس لیے اس گیت کی روایت سرحد کے دونوں طرف سنی جاتی ہے۔ اس گیت کی دھن اور بول مختلف انداز میں گائے گئے مگر اس کا بنیادی خیال ہمیشہ ایک ہی رہا، یعنی انتظار اور محبت۔
وقت کے ساتھ اس گیت کو مختلف گلوکاروں نے بھی گایا، مگر مائی بھاگی کی آواز میں اس کی جو سادگی اور صحرا کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، وہ اسے منفرد بنا دیتی ہے۔
ایک درخت، ایک انتظار اور ایک داستان
آج بھی اگر تھر کے کسی گاؤں میں شام کے وقت نیم کا درخت نظر آئے تو مقامی لوگ اس گیت کو یاد کرتے ہیں۔ یہ گیت صرف ایک لوک دھن نہیں بلکہ اس خطے کی زندگی، محبت اور صبر کی علامت بن چکا ہے۔
‘کھڑی نیم کے نیچے’ دراصل ایک ایسے احساس کی کہانی ہے جو وقت اور جگہ کی حدوں سے آزاد ہے۔ ایک لڑکی کا انتظار، ایک درخت کا سایہ اور ایک آواز جو صحرا کی خاموشی میں گونجتی ہے۔
شاید اسی لیے یہ گیت صرف موسیقی نہیں بلکہ تھر کے صحرا کی ایک زندہ روایت ہے، جو نسل در نسل سنائی جاتی رہی ہے اور آج بھی لوگوں کے دلوں میں اسی طرح زندہ ہے جیسے صحرائے تھر کی شامیں۔

