Tag: لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی

  • پی آئی اے کے نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کو کن چیلینجز کا سامنا ہوگا؟

    پی آئی اے کے نئے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل (ر) انور علی حیدر کو کن چیلینجز کا سامنا ہوگا؟

    پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے بعد قومی فضائی کمپنی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی ہے۔ 29 جون کو پی آئی اے کی ملکیت باضابطہ طور پر نئے مالکان کے حوالے کیے جانے کے بعد لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر کو نئی تشکیل شدہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کا پہلا چیئرمین مقرر کیا گیا ہے۔

    دفاع، عوامی انتظامیہ، کارپوریٹ گورننس اور ادارہ جاتی اصلاحات کے شعبوں میں چار دہائیوں سے زائد کا تجربہ رکھنے والے جنرل انور علی حیدر کو اس اہم ذمہ داری کے لیے ایک ایسے وقت میں منتخب کیا گیا ہے جب قومی ایئرلائن کو خسارے سے نکال کر منافع بخش اور عالمی معیار کی فضائی کمپنی بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

    نجکاری کے بعد قائم ہونے والے نئے انتظامی ڈھانچے میں چیئرمین کی حیثیت سے جنرل انور علی حیدر پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نجی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو برقرار رکھتے ہوئے پی آئی اے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کریں، اس کے انتظامی نظام کو بہتر بنائیں، مسافروں کے اعتماد کو بحال کریں اور فضائی کمپنی کو دوبارہ بین الاقوامی سطح پر ایک مضبوط مقام دلائیں۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر ان شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں فوج، حکومت، اعلیٰ تعلیمی اداروں اور کارپوریٹ شعبے میں نمایاں خدمات انجام دیں۔

    ان کا عسکری کیریئر تقریباً چالیس برس پر محیط رہا، جس کے دوران انہوں نے پاک فوج کے مختلف اہم کمانڈ، اسٹاف اور تربیتی عہدوں پر خدمات انجام دیں۔ منصوبہ بندی، تنظیمی قیادت، انسانی وسائل کے انتظام، ادارہ جاتی اصلاحات اور پالیسی سازی کو ان کی نمایاں صلاحیتوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    اپنے عسکری کیریئر کے آخری مرحلے میں وہ جنرل ہیڈکوارٹرز میں ایڈجوٹنٹ جنرل اور چیف آف آرمی اسٹاف کے پرنسپل سٹاف آفیسر رہے۔

    اس دوران ان کے ذمے انسانی وسائل، فوجی فلاحی منصوبوں، نظم و ضبط، رہائشی سکیموں اور دیگر اہم انتظامی امور کی نگرانی تھی۔ فوج کے اندر اصلاحات، مؤثر انتظام اور ادارہ جاتی بہتری کے حوالے سے ان کی خدمات کو اہمیت دی جاتی ہے۔

    لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) انور علی حیدر نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمات بھی سرانجام دیں، جہاں قومی سلامتی، دفاعی حکمت عملی اور اعلیٰ عسکری تعلیم کے فروغ میں ان کا کردار نمایاں رہا۔

    اس کے علاوہ وہ مختلف قومی جامعات کے بورڈز سے بھی وابستہ رہے جن میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی، نیشنل یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز اور نیشنل یونیورسٹی آف ٹیکنالوجی شامل ہیں۔

    انہوں نے اعلیٰ تعلیم امریکہ کے یو ایس آرمی وار کالج سے حاصل کی جہاں سے اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔

    اس کے علاوہ نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے وار سٹڈیز میں ایم ایس سی بھی کیا۔ ان کی پیشہ ورانہ خدمات کے اعتراف میں انہیں 2014 میں ہلال امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف کمنڈیشن کارڈ بھی ان کے اعزازات میں شامل ہے۔

    2019 میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی جنرل انور علی حیدر قومی اداروں میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔

    انہیں وفاقی حکومت نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اینڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (نیفڈا) کا چیئرمین مقرر کیا، جہاں انہوں نے 2019 سے 2022 تک خدمات انجام دیں۔ اس دوران رہائشی منصوبوں، شہری ترقی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے شعبوں میں مختلف اقدامات کیے گئے۔

    بعد ازاں وہ 2023 سے 2024 تک قائم ہونے والی نگراں وفاقی حکومت میں وزیر دفاع اور وزیر دفاعی پیداوار بھی رہے۔ اس حیثیت میں انہوں نے قومی سلامتی، دفاعی پالیسی اور دفاعی صنعت سے متعلق معاملات کی نگرانی کی۔

    وہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی ایپکس کمیٹی کے رکن بھی رہے، جہاں سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے منصوبوں پر کام کیا۔

    کارپوریٹ شعبے میں بھی جنرل انور علی حیدر کا تجربہ خاصا وسیع سمجھا جاتا ہے۔

    وہ اس وقت فوجی فاؤنڈیشن کے منیجنگ ڈائریکٹر ہیں، جو ملک کے بڑے تجارتی اور صنعتی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔

    اس کے علاوہ وہ آرمی ویلفیئر ٹرسٹ کے چیئرمین بھی رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے فلاحی سرگرمیوں کو جدید انتظامی تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے اور کاروباری منصوبوں کو وسعت دینے میں کردار ادا کیا۔

    نجی سرمایہ کاروں کو امید ہے کہ ان کی قیادت میں ادارے میں شفافیت، بہتر نظم و نسق، مالی نظم و ضبط اور مؤثر فیصلوں کو فروغ ملے گا۔

    چیئرمین کا عہدہ سنبھالنے کے بعد جنرل انور علی حیدر نے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ اگرچہ پی آئی اے کی ملکیت کا ڈھانچہ تبدیل ہو چکا ہے، لیکن پاکستان کے عوام کے لیے اس کی ذمہ داری پہلے کی طرح برقرار رہے گی۔

    ان کا کہنا تھا کہ نئی انتظامیہ پی آئی اے کی تاریخی شناخت کو محفوظ رکھتے ہوئے اسے ایک جدید، معیاری اور مسافر دوست فضائی کمپنی میں تبدیل کرنے کے لیے کام کرے گی۔

    انہوں نے کہا کہ مسافروں کو بہتر سہولتیں فراہم کرنا، فضائی روٹس میں اضافہ، آپریشنل کارکردگی بہتر بنانا اور عالمی معیار کی خدمات فراہم کرنا نئی انتظامیہ کی ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق پی آئی اے اپنی تاریخی وراثت کو برقرار رکھتے ہوئے جدید فضائی صنعت کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھے گی۔

    نجکاری کے بعد پی آئی اے کے لیے مستقبل کے منصوبوں میں فضائی بیڑے میں اضافہ، جدید طیاروں کی شمولیت، بین الاقوامی روٹس کی توسیع، وقت کی پابندی میں بہتری، اخراجات میں کمی اور مسافروں کا اعتماد بحال کرنا شامل ہے۔

    نئی انتظامیہ کا ہدف آپریشنل بیڑے کو مرحلہ وار بڑھانا اور ادارے کو منافع بخش بنانا بھی بتایا جا رہا ہے۔

    نجکاری کے بعد اب سب کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وہ اپنے وسیع انتظامی، عسکری اور کارپوریٹ تجربے کی بنیاد پر قومی فضائی کمپنی کو درپیش مالی اور انتظامی چیلنجز پر قابو پا کر اسے دوبارہ خطے کی نمایاں فضائی کمپنیوں میں شامل کر پاتے ہیں یا نہیں۔

    ان کی کامیابی نہ صرف پی آئی اے بلکہ پاکستان میں نجکاری کے اس اہم تجربے کے لیے بھی ایک بڑی آزمائش سمجھی جا رہی ہے۔