Tag: لیتھیم

  • دنیا کے بڑے لیتھیم ذخائر رکھنے والی بولیویا کی سالار ڈی اویونی جھیل جہاں زمین آسمان کا عکس بن جاتی ہے

    دنیا کے بڑے لیتھیم ذخائر رکھنے والی بولیویا کی سالار ڈی اویونی جھیل جہاں زمین آسمان کا عکس بن جاتی ہے

    جنوبی امریکا کے وسطی حصے میں واقع بولیویا کے جنوب مغرب میں ایک ایسا مقام ہے جہاں افق گم ہو جاتا ہے۔ زمین اور آسمان ایک دوسرے میں گھلتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سالار ڈی اویونی ہے، دنیا کا سب سے بڑا نمک کا صحرا۔

    یہ وسیع میدان تقریباً 10 ہزار 582 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ سطح اس قدر ہموار ہے کہ نظر کو کوئی کنارہ دکھائی نہیں دیتا۔ یہاں کھڑے ہو کر انسان کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ خلا میں معلق ہو۔

    کم لوگ جانتے ہیں کہ یہ علاقہ کبھی ایک عظیم جھیل تھا۔ ماہرین کے مطابق تقریباً 40 ہزار برس پہلے پانی خشک ہوا اور پیچھے نمک اور معدنیات کی موٹی تہہ چھوڑ گیا۔ آج اس سفید سطح کے نیچے دنیا کے بڑے لیتھیم ذخائر موجود ہیں۔ یہی معدنیات برقی گاڑیوں اور موبائل بیٹریوں میں استعمال ہوتی ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ مستقبل کی توانائی کا ایک اہم حصہ اسی زمین کے نیچے چھپا ہے۔

    بارش کے موسم میں یہاں چند سینٹی میٹر پانی جمع ہوتا ہے۔ مگر یہی معمولی پانی اس صحرا کو دنیا کے سب سے بڑے قدرتی آئینے میں بدل دیتا ہے۔ بادل، سورج اور نیلا آسمان زمین پر ایسے جھلملاتے ہیں جیسے انسان آسمان پر چل رہا ہو۔ یہ منظر صرف خوبصورت نہیں بلکہ سائنسی اہمیت بھی رکھتا ہے۔ اس غیر معمولی ہمواری کو سیٹلائٹ آلات کی جانچ اور درستی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ زمین پر ایسی یکساں سطح کم ہی ملتی ہے۔

    نمک کی سطح پر چھ کونوں والے قدرتی نقش بنتے ہیں۔ یہ کسی انسان کا بنایا ہوا ڈیزائن نہیں بلکہ بخارات کے عمل کا نتیجہ ہے۔ یہ اشکال خلا سے بھی واضح دیکھی جا سکتی ہیں۔

    سخت ماحول کے باوجود زندگی یہاں موجود ہے۔ کچھ مہینوں کے لیے فلیمنگو پرندے یہاں آ کر بسیرا کرتے ہیں۔ نمکین پانی میں رہنے والے ننھے جاندار سائنس دانوں کو دوسرے سیاروں پر ممکنہ زندگی کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اسی لیے یہ خطہ ارضیاتی تحقیق کے ساتھ خلائی تحقیق کے لیے بھی اہم سمجھا جاتا ہے۔

    ایک اور حیران کن پہلو اس کی خاموشی ہے۔ یہاں شور تقریباً ناپید ہو جاتا ہے۔ ہوا کی ہلکی سی سرسراہٹ تک صاف سنائی دیتی ہے۔ کئی سیاح اسے دنیا کی خاموش ترین جگہوں میں شمار کرتے ہیں۔

    سالار ڈی اویونی محض ایک قدرتی منظر نہیں۔ یہ بولیویا کی معیشت، ماحول اور مقامی آبادی کے مستقبل سے جڑا ہوا مقام ہے۔ یہاں حسن، سائنس اور عالمی سیاست ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔

    جب سورج ڈھلتا ہے اور سفید نمک پر سنہری روشنی بکھرتی ہے تو یہ جگہ محض زمین کا حصہ محسوس نہیں ہوتی۔ یہ واقعی آسمان کا عکس دکھائی دیتی ہے۔