سندھ میں سرکاری طور پر کم از کم ماہانہ اجرت
40000 روپے مقرر ہے،
اور کام کے اوقات بھی قانون میں واضح طور پر طے ہیں۔
اب حقیقت دیکھتے ہیں۔
صوبائی دارالحکومت کراچی میں نجی سیکیورٹی گارڈز۔
بینکوں، ملٹی نیشنل کمپنیوں، مالز اور دفاتر کے باہر کھڑے یہ گارڈ
اکثر صرف 18000 روپے ماہانہ پر کام کرتے ہیں۔
قانون میں !ٹھ کھنٹے کام کے اوقات کے بجائے ڈیوٹی بارہ سے چودہ گھنٹے۔
بغیر کرسی، بغیر سایہ،
اکثر بغیر پینے کے پانی کے۔
شدید گرمی میں
یہ گارڈ دن بھر سڑک پر کھڑے رہتے ہیں،
مگر اوور ٹائم کا معاوضہ
اکثر انہیں نہیں ملتا۔
قانون کم از کم اجرت،
آرام اور انسانی وقار کی بات کرتا ہے۔
مگر سڑک پر کھڑا مزدور
اس قانون کو روز خاموش رہتے دیکھتا ہے۔
یہ مسئلہ قانون نہ ہونے کا نہیں۔
یہ مسئلہ قانون کے نافذ نہ ہونے کا ہے۔
قانون کاغذ پر، حقیقت سڑک پر۔
Tag: لیبر قوانین
-

کاغذی قانون: پاکستان میں لیبر قوانین موجود ہیں۔ مگر کیا یہ قوانین عملی طور پر نافذ بھی ہیں؟
