Tag: لڑکیاں

  • لڑکیاں گالی دیں تو برا، لڑکے دیں تو اچھا: بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی

    لڑکیاں گالی دیں تو برا، لڑکے دیں تو اچھا: بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی

    کیا فحش الفاظ اور گالیاں اس وقت زیادہ بری ہیں جب خواتین کی زبان سے ادا ہوں؟

    بھارتیہ جنتا پارٹی کے احتجاج کے دوران لڑکیوں کے گالیاں دینے پر بھارت میں نئی بحث چھڑ گئی۔

    اس بحث میں شامل ہونے والی تازہ ترین شخصیت بھارت کی مرکزی اپوزیشن جماعت کے رہنما راہول گاندھی ہیں، جنہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان پر تنقید کی جس میں مودی نے نوجوان خواتین کو گالیاں دیتے ہوئے دیکھنے کو ایک ’ثقافتی صدمہ‘ قرار دیا تھا۔

    راہول گاندھی نے کہا: ’اگر لڑکے گالیاں دیں تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اور اسے قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی لڑکی گالی دے، تو یہ ایک ثقافتی صدمہ بن جاتا ہے۔‘

    بھارتیہ جنتا پارٹی کے احتجاج میں وزیر اعظم نریندر مودی کو بھی برا بھلا کہا گیا تھا۔ مظاہرین کی جانب سے گالم گلوچ نے مودی کے حامیوں کے غصے کو بھی بھڑکایا، کچھ مودی مخالفین نے بھی کہا کہ ان خواتین نے حدوں کو پار کیا۔

    ان بیانات نے بھارت میں خواتین کی سرگرمیوں اور ان کے کھل کر اپنے خیالات کا اظہار کرنے کے انداز کے بارے میں بحث کو زندہ کر دیا۔ بھارتی خواتین کے بے باکان انداز اور کھل کر مردوں کی طرح سماج میں رائج قابل اعتراض لفظوں میں جذبات کا اظہار سوالوں، اعتراضات اور اس کے دفاع کا موجب بنا ہوا ہے۔

    خود وزیراعظم مودی نے بھی ایک ویڈیو میں کہا کہ لڑکیوں کو گالیاں دیتے ہوئے دیکھنا ان کے لیے ایک ’ثقافتی صدمہ‘ تھا، تاہم انہوں نے گالیاں دینے والی لڑکیوں کو معاف بھی کر دیا۔

    مودی نے پولیس کی جانب سے مظاہرین پر تشدد کریک ڈاؤن کے بارے میں کچھ نہیں کہا، ان خواتین کی حمایت بھی نہیں کی جنہیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے دھرنے میں شرکت پر ریپ کی دھمکیاں دی گئیں۔

    اپوزیشن لیڈر راہول گاندھی نے اس پر کہا کہ نریندر مودی صرف خواتین کے بارے میں کیوں بات کر رہے ہیں؟ احتجاج میں شامل مرد اور عورتوں دونوں نے ہی انہیں برا بھلا کہا تھا، تو مرد و زن کی یہ تفریق کیوں؟

    مظاہرین کی جنس پر نریندر مودی کا اصرار دراصل پدرشاہی نظام کی یادگار ہے۔ اس پدرشاہی ذہنیت کو توڑنا ہوگا۔

    روزنامہ ’ہندوستان ٹائمز‘ میں کالم لکھنے والی صحافی نمیتا بھنڈاری کا دعویٰ ہے کہ بھارت میں خواتین یقیناً گالیاں دیتی ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔

    شمالی بھارت کے بہت سے دیہات میں شادی کی ایک اہم رسم ہے کہ دلہن کے خاندان کی خواتین دولہا اور باراتیوں کا استقبال کرتے وقت نازیبا اور فحش الفاظ پر مشتمل گیت گاتی ہیں۔

    مظاہروں میں کہی جانے والی باتوں کو ثقافتی صدمہ قرار دینا اور خواتین کو گالیاں دینے پر ملامت کرنا دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے۔

    تمام سیاسی جماعتوں کے رہنما، بشمول وزیر اعظم، جب بھی ان کے فائدے میں رہا، خواتین کے خلاف توہین آمیز الفاظ استعمال کرتے رہے ہیں۔ خواتین کو نشانہ بنانا بہت آسان ہے جب وہ خود نازیبا الفاظ استعمال کرتی ہیں، تو سب پوچھتے ہیں: ’ہماری بیٹیاں کیسے گالی دے سکتی ہیں؟‘

    بشکریہ بی بی سی فارسی