اقوام متحدہ کے تعلیمی، سائنسی اور ثقافتی ادارے (یونیسکو) نے سندھو تہذیب کے پانچ ہزار سال قدیم شہر موہن جو دڑو کے قدیمی آثار سے کھدائی کے دوران ملنے والے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرلیا۔
نئی دہلی میں یونیسکو کی بین الحکومتی کمیٹی برائے تحفظ غیر مادی ثقافتی ورثہ کے منگلو کو ہونے والے بیسویں اجلاس میں سندھ کے قدیم لوک ساز بوڑینڈو کو عالمی غیر مادی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل کیا گیا۔
انڈیا میں پاکستان کی ہائی کمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ایکص (سابق ٹوئٹر) پر اس خبر کی تصدیق کی۔
https://x.com/PakinIndia/status/1998407287174832225

ایکس کی پوسٹ میں پاکستان کے فرسٹ سیکریٹری شعیب سرور نے سندھ کے قدیم ساز بوڑینڈو کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کرنے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بوڑینڈو انڈس سویلائزیشن کی پانچ ہزار سال قدیم تہذیب کی جیتی جاگتی بازگشت ہے جو انسان کی تخلیقی صلاحیت اور یہ مقامی ثقافتی روح کی علامت ہے۔ اندراج پاکستان کی ثقافتی روایات اور مشترکہ انسانی ورثے کا اعتراف اور مسرت کا موقع ہے۔
بوڑینڈو بنیادی طور پر چرواہوں کا ساز ہے مگر اب یہ میوزک کا اہم حصہ ہے۔ یہ موسیقی کا آلہ مٹی سے گولائی میں بنایا جاتا ہے۔ کسی زمانے میں یہ ساز کچا بجایا جاتا تھا مگر اب اسے بھٹی میں پکاتے ہیں۔

بوڑینڈو مٹی سے بنا ساز ہے اس لیے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انسان کے بنائے ہوئے اوائلی سازوں میں سے ایک ساز ہے۔ اور یہ پُھونک سے بجنے والے سازوں میں آتا ہے۔ جیسے بانسری، الگوزو، مرلی وغیرہ۔
اس وقت سندھ میں بوڑینڈو بجانے والے بہت ہے کم لوگ رہ گئے ہیں۔ ان میں سے ذوالفقار لونڈ سب سے زیادہ مشہور اور اچھا بوڑینڈو بجانے والے ہیں۔
ذوالفقار لونڈ کو بوڑینڈو بجانے پر پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ اور سندھ کا سب سے مشہور شاہ لطیف ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

