رات کے آٹھ بج رہے ہیں۔ کھانا پک رہا ہے۔ بچے پڑھ رہے ہیں۔ کمرے میں پنکھا چل رہا ہے۔ اور پھر اچانک اندھیرا چھا جاتا ہے۔ آپ نے سوچا، لوڈشیڈنگ واپس آ گئی؟ لیکن کیا یہ واقعی وہی پرانی لوڈشیڈنگ ہے، یا اس کے پیچھے کوئی اور وجہ ہے؟ آئیے سمجھتے ہیں۔
پاور ڈویژن نے حال ہی میں ایک اہم وضاحت جاری کی ہے۔ ان کے مطابق، موجودہ لوڈ شیڈنگ دراصل ’پیک ریلیف سٹریٹجی‘ کا حصہ ہے۔ یعنی حکومت جان بوجھ کر شام پانچ بجے سے رات ایک بجے کے درمیان بجلی بند کر رہی ہے۔ مقصد؟ مہنگے ایندھن پر انحصار کم کرنا تاکہ بجلی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کو روکا جا سکے۔ اگر یہ اقدام نہ کیا جاتا تو بجلی کی قیمت پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک بڑھ سکتی تھی۔ اب یہ اضافہ صرف ڈیڑھ روپے تک محدود رکھنے کی کوشش ہے۔
ایک حقیقت جو زیادہ مشہور نہیں: پاور ڈویژن کے مطابق، جولائی سے فروری کے دوران اوسط ٹیرف میں اکہتر پیسے فی یونٹ کمی آئی ہے، جس سے صارفین کو چھیالیس ارب روپے کا ریلیف ملا ہے۔ یعنی صورتحال خراب ہے لیکن پوری طرح بے قابو نہیں۔
تو اصل مسئلہ کہاں ہے؟ سب سے زیادہ دباؤ شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک ہوتا ہے، جسے ’پیک آورز‘ کہا جاتا ہے۔ اسی وقت گھروں، دکانوں اور صنعتوں میں بجلی کا استعمال چوٹی پر ہوتا ہے۔ ایک اور بڑی وجہ: پانی سے بجلی بنانے والے پاور پلانٹس کی پیداوار میں اچانک کمی آئی ہے۔ صرف ایک رات میں پن بجلی کی پیداوار ایک ہزار نو سو اکانوے میگاواٹ گر گئی۔ نیز، قطر پر حملوں کے بعد وہاں سے ایل این جی کی درآمد رک گئی، اور پاکستان کا زیادہ تر انحصار قطر ہی پر تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بجلی کی طلب اٹھارہ ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی، جبکہ سپلائی میں خلا چار ہزار پانچ سو میگاواٹ کا تھا۔
ایک اور کم معروف حقیقت: صرف دو شہر، حیدرآباد اور کراچی، اس لوڈ مینجمنٹ سے مستثنیٰ ہیں۔ وہاں سستے ذرائع سے بجلی دستیاب ہے۔ باقی پورا پاکستان اس حکمت عملی کے تحت چل رہا ہے۔
طلب بائیس ہزار میگاواٹ ہے جبکہ سپلائی محض پندرہ ہزار چار سو میگاواٹ ہے۔ یہ فرق چھ ہزار پانچ سو میگاواٹ ہے، جو پوری قوم میں آٹھ سے سولہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا سبب بن رہا ہے۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں ملتان اور مظفر گڑھ شامل ہیں، جہاں راتیں بھی برداشت سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔ پاور ڈویژن نے عوام سے باضابطہ معافی بھی مانگی ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے اضافی لوڈ مینجمنٹ کرنی پڑی۔ لیکن کیا معافی بجلی لا سکتی ہے؟
ماہرین کہتے ہیں: ’جب تک بجلی کی طلب بڑھتی رہے گی، لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ بھی بڑھتا رہے گا۔‘ شمالی علاقوں میں سستی ہوا اور شمسی توانائی موجود ہے، لیکن انہیں پورے ملک میں پہنچانے کے لیے گرڈ ناکافی ہے۔ اور ایک اور پہلو: سی این جی سیکٹر مئی میں بند رہے گا، اور اس کی پچاس ایم ایم سی ایف ڈی گیس پاور سیکٹر کو دی جائے گی۔ گھریلو گیس صرف تین وقت کھانا پکانے تک محدود ہے۔ یعنی بجلی کے بحران کا حل گیس سے نکالا جا رہا ہے — جس سے بجلی تو آ سکتی ہے، لیکن چولھے ٹھنڈے رہیں گے۔
اب آتے ہیں سب سے اہم سوال پر: کیا یہ لوڈ شیڈنگ واقعی ختم ہو سکتی ہے؟ اس کا انحصار صرف حکومت پر نہیں، ہم سب پر بھی ہے۔ اگر ہم شام پانچ بجے سے رات ایک بجے کے درمیان غیر ضروری بجلی کا استعمال کم کریں، اضافی اے سی، بے کار لائٹس، پرانے پنکھے — تو شاید لوڈ شیڈنگ میں کمی آ سکتی ہے۔ سوچیں، کیا ہم اپنی عادتیں بدل سکتے ہیں؟ ورنہ یہ ’پیک ریلیف‘ حکمت عملی آنے والے کافی عرصے تک ہماری راتوں کا حصہ رہے گی۔
ساگا ڈیجیٹل پیچیدہ موضوعات کو آسانی سے سمجھانے کے لیے ایسی ویڈیو کہانیاں لاتا ہے۔ مزید دلچسپ کہانیوں کے لیے ساگا ڈیجیٹل کو فالو کریں۔

