Tag: لوفوٹن جزیرہ

  • عجائبات ساگا: ناروے کا لوفوٹن جزیرہ، جہاں آدھی رات کو بھی سورج غروب نہیں ہوتا

    عجائبات ساگا: ناروے کا لوفوٹن جزیرہ، جہاں آدھی رات کو بھی سورج غروب نہیں ہوتا

    قطب شمالی کے قریب ناروے کے ساحل سے دور پھیلا ہوا لوفوٹن دنیا کے اُن چند مقامات میں شمار ہوتا ہے جہاں قدرت اپنی سب سے منفرد شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ برف سے ڈھکے نوکیلے پہاڑ سیدھے سمندر سے ابھرتے محسوس ہوتے ہیں، تیز ہوائیں برفانی پانیوں پر شور مچاتی ہیں اور چھوٹے سرخ رنگ کے لکڑی کے گھر خاموش ساحلوں پر کسی قدیم داستان کا منظر پیش کرتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاح، فوٹوگرافر اور فلم ساز اس خطے کو صرف خوبصورتی کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی غیرمعمولی فضا کے باعث بھی یاد رکھتے ہیں۔

    لوفوٹن دراصل کئی جزیروں پر مشتمل ایک جزیرہ نما سلسلہ ہے جو ناروے کے شمال مغربی ساحل کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ آرکٹک سرکل کے اوپر واقع ہونے کے باوجود اپنی جغرافیائی خصوصیات کی وجہ سے حیران کن طور پر نسبتاً معتدل موسم رکھتا ہے۔ ماہرین کے مطابق بحر اوقیانوس سے آنے والی گرم سمندری لہریں یہاں کے درجہ حرارت کو اتنا سخت نہیں ہونے دیتیں جتنا دنیا کے دوسرے شمالی علاقوں میں دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شدید شمالی محل وقوع کے باوجود یہاں بعض بندرگاہیں سردیوں میں مکمل طور پر نہیں جمتیں۔

    لوفوٹن کی پہچان صرف اس کے پہاڑ یا سمندر نہیں بلکہ یہاں کی قدیم ماہی گیر ثقافت بھی ہے۔ صدیوں سے یہاں کے لوگوں کی زندگی سمندر کے گرد گھومتی رہی ہے۔ خاص طور پر ‘کوڈ فش’ اس خطے کی معیشت کا اہم ترین حصہ سمجھی جاتی ہے۔ ہر سال سردیوں کے موسم میں بڑی تعداد میں کوڈ مچھلیاں یہاں کے پانیوں میں آتی ہیں اور مقامی ماہی گیر انہیں پکڑ کر لکڑی کے بڑے ڈھانچوں پر خشک کرتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ لوفوٹن کی خشک مچھلی یورپ کی قدیم تجارت میں اہم مقام رکھتی تھی اور کئی سو سال پہلے اسے جنوبی یورپ تک بھیجا جاتا تھا۔ بعض مورخین کے مطابق وائکنگ دور میں بھی یہاں کی مچھلی شمالی یورپ کی معیشت کا اہم حصہ تھی۔

    لوفوٹن کے ساحلوں کے قریب آج بھی ایسے ہزاروں لکڑی کے فریم دیکھے جاسکتے ہیں جن پر مچھلیاں لٹکی ہوتی ہیں۔ برفانی ہوا اور قدرتی ماحول میں خشک ہونے والی یہ مچھلیاں اس علاقے کی ثقافتی شناخت سمجھی جاتی ہیں۔ کم لوگ جانتے ہیں کہ بعض دیہات میں آج بھی کئی خاندان نسلوں سے یہی پیشہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور جدید دنیا کے باوجود ان کی روزمرہ زندگی موسم، سمندر اور شکار پر منحصر رہتی ہے۔

    یہ علاقہ تاریخی اعتبار سے بھی غیرمعمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق لوفوٹن وائکنگ دور کی اہم آبادیوں میں شامل تھا۔ یہاں دریافت ہونے والے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ وائکنگ جنگجو اور تاجر صدیوں پہلے انہی ساحلوں سے اپنے بحری سفر شروع کرتے تھے۔ لوفوٹن میں موجود وائکنگ میوزیم اس تاریخ کی ایک جھلک پیش کرتا ہے جہاں قدیم کشتیوں، رہائشی ڈھانچوں اور جنگی سامان کی نقلیں رکھی گئی ہیں۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ یہاں موجود ایک طویل عمارت شمالی یورپ میں وائکنگ دور کی سب سے بڑی عمارتوں میں شمار کی جاتی تھی۔

    سردیوں کے دوران لوفوٹن کی راتیں دنیا کے عجیب ترین قدرتی مناظر میں بدل جاتی ہیں۔ آسمان پر نمودار ہونے والی سبز، جامنی اور نیلی روشنیوں کو ‘ناردرن لائٹس’ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل زمین کے مقناطیسی میدان اور شمسی ذرات کے درمیان ردعمل کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ لوفوٹن ان روشنیوں کو دیکھنے کے لیے دنیا کے مشہور ترین مقامات میں شامل ہے کیونکہ یہاں آلودگی کم اور آسمان نسبتاً صاف رہتا ہے۔ بعض راتوں میں پورا آسمان لہراتی ہوئی روشنیوں سے بھر جاتا ہے اور سمندر ان رنگوں کا عکس منعکس کرتا دکھائی دیتا ہے۔

    اس کے برعکس گرمیوں میں یہاں ایک اور حیرت انگیز منظر پیدا ہوتا ہے جسے ‘مڈنائٹ سن’ کہا جاتا ہے۔ اس دوران کئی ہفتوں تک سورج مکمل طور پر غروب نہیں ہوتا اور آدھی رات کے وقت بھی روشنی باقی رہتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مقامی لوگ اس غیرمعمولی روشنی کے عادی ہوچکے ہیں جبکہ پہلی بار آنے والے سیاح اکثر وقت کا اندازہ کھو بیٹھتے ہیں۔

    لوفوٹن کی آبادی بہت کم ہے اور بعض چھوٹے دیہات میں صرف چند سو افراد رہتے ہیں۔ یہاں کی خاموش سڑکیں، سمندر کے کنارے قائم چھوٹے گھر اور مسلسل بدلتا ہوا موسم اس جگہ کو کسی فلمی منظر جیسا بناتے ہیں۔ کئی بین الاقوامی فلموں، ڈاکیومنٹریز اور سفری پروگراموں میں اس علاقے کو دکھایا جاچکا ہے۔

    ایک کم معروف حقیقت یہ بھی ہے کہ لوفوٹن میں موسم چند منٹوں میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ ایک ہی دن میں سورج، برف، بارش اور تیز ہوائیں دیکھنا یہاں عام بات سمجھی جاتی ہے۔ اسی لیے مقامی لوگ ہمیشہ سمندر اور موسم کا احترام کرنے کی بات کرتے ہیں کیونکہ آرکٹک فضا کسی بھی وقت خطرناک شکل اختیار کرسکتی ہے۔

    قدرت، تاریخ، سمندر اور خاموشی کا یہ امتزاج لوفوٹن کو دنیا کے ان مقامات میں شامل کرتا ہے جہاں انسان خود کو جدید دنیا سے کٹا ہوا محسوس کرتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ یہاں آنے والے بہت سے لوگ اسے زمین پر موجود خواب جیسی جگہ قرار دیتے ہیں جہاں وقت سست ہوجاتا ہے اور فطرت اپنی اصل طاقت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔