Tag: لاڑکانہ

  • یکم جولائی 2023: لاڑکانہ کی مسیحا پروفیسر ڈاکٹر بلقیس ملک کے انتقال کا دن

    یکم جولائی 2023: لاڑکانہ کی مسیحا پروفیسر ڈاکٹر بلقیس ملک کے انتقال کا دن

    پوری زندگی لاڑکانہ کے عوام کی خدمت کے لیے وقف کرنے والی، اور لاڑکانہ میں امراضِ نسواں (گائنی) کے شعبے کی بانی، پروفیسر ڈاکٹر بلقیس ملک 20 فروری 1929 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ ان کے خاندان کا تعلق بنیادی طور پر سیالکوٹ کے ایک معزز اور تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔

    ڈاکٹر بلقیس ملک نے 1958 میں ڈاؤ میڈیکل کالج کراچی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں ایف سی پی ایس اور ایف آر سی ایس کی اعلیٰ تعلیم کے لیے رائل میڈیکل کالج، لندن گئیں، جہاں سے تخصص (ماسٹرز) مکمل کرنے کے بعد مزید جدید طبی کورسز کے لیے امریکہ روانہ ہوئیں۔

    1972 میں پاکستان واپسی پر وہ ایک طبی منصوبے کے سلسلے میں پشاور گئیں۔ واپسی پر اسلام آباد میں ان کی ملاقات اپنی قریبی دوست ڈاکٹر بیگم اشرف عباسی سے ہوئی، جو اُس وقت قومی اسمبلی کی رکن تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں خواتین کی مخصوص نشست پر قومی اسمبلی کا رکن منتخب کروایا تھا اور بعد ازاں وہ قومی اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر بھی منتخب ہوئیں۔

    ڈاکٹر اشرف عباسی نے ڈاکٹر بلقیس ملک کی ملاقات اُس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو سے کرائی۔

    ملاقات کے دوران بھٹو صاحب نے کہا: ‘اس وقت سندھ میں صرف کراچی اور حیدرآباد میں میڈیکل کالج موجود ہیں۔ میری خواہش ہے کہ شمالی سندھ میں بھی ایک میڈیکل کالج قائم ہو، تاکہ نہ صرف شمالی سندھ بلکہ بلوچستان کے عوام بھی اس سے مستفید ہو سکیں۔ میری خواہش ہے کہ آپ اس نئے میڈیکل کالج میں خواتین کے شعبے (گائنی) کی ذمہ داری سنبھالیں۔’

    ڈاکٹر بلقیس ملک کے مطابق یہ پیشکش ان کے لیے حیران کن تھی، کیونکہ انہوں نے اس سے پہلے کبھی لاڑکانہ نہیں دیکھا تھا، اور وہ غیر شادی شدہ بھی تھیں۔ اس کے باوجود وہ بھٹو صاحب کو انکار نہ کر سکیں اور اس ذمہ داری کو قبول کر لیا۔

    جب ان کے اہلِ خانہ کو اس فیصلے کا علم ہوا تو انہوں نے شدید ناراضی کا اظہار کیا، لیکن ڈاکٹر بلقیس اپنے وعدے کے مطابق لاڑکانہ پہنچ گئیں۔

    اس وقت سندھ کے وزیرِ صحت عبدالواحد کٹپر، سیکریٹری صحت علی محمد انصاری اور لاڑکانہ اسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر سجن میمن تھے۔ سیکریٹری صحت علی محمد انصاری نے ان کی تقرری کے احکامات جاری کیے۔

    جب ڈاکٹر بلقیس پہلی مرتبہ لاڑکانہ اسپتال کے گائنی وارڈ میں پہنچیں تو وہاں نہ مناسب سہولیات تھیں اور نہ ہی ضروری طبی سامان۔ صرف چار بستر، ایک میز اور ایک کرسی موجود تھی۔

    لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور انہی محدود وسائل کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا۔

    وہ اسی چھوٹے سے وارڈ میں رہنے لگیں۔ رات کو اکثر میز پر ہی سو جاتیں، یہاں تک کہ ان کا ٹوتھ برش اور کنگھی بھی ان کے سفید ڈاکٹر کوٹ کی جیب میں رہتے تھے۔

    ایسے ہی انتہائی مشکل حالات میں 21 اپریل 1973 کو چانڈکا میڈیکل کالج کی بنیاد رکھی گئی۔

    کچھ عرصے بعد ذوالفقار علی بھٹو لاڑکانہ آئے اور ڈاکٹر بلقیس کو بلا کر بتایا کہ دبئی کے حکمران شیخ زاید پاکستان میں دو اسپتال تعمیر کرانا چاہتے ہیں۔ ایک اسپتال رحیم یار خان میں تعمیر کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسرا وہ لاڑکانہ میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔

    اس موقع پر ڈاکٹر بلقیس ملک نے تجویز دی کہ لاڑکانہ میں بننے والا اسپتال صرف خواتین اور بچوں کے علاج کے لیے مخصوص ہونا چاہیے۔ بھٹو صاحب نے ان کی تجویز سے اتفاق کیا۔

    بعد ازاں شیخ زاید، ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ لاڑکانہ آئے، جہاں اسپتال کے منصوبے پر تفصیلی بریفنگ دینے کی ذمہ داری ڈاکٹر بلقیس ملک کو سونپی گئی۔

    ان کی جامع بریفنگ کے بعد موجودہ شیخ زاید وومن اسپتال، لاڑکانہ کی تعمیر کا آغاز ہوا، اور ڈاکٹر بلقیس ملک کو اس منصوبے کا نگران اور انچارج مقرر کیا گیا۔

    انہوں نے بیک وقت چانڈکا میڈیکل کالج کے شعبہ امراضِ نسواں کی سربراہ، چانڈکا اسپتال کے خواتین وارڈ کی انچارج اور شیخ زاید وومن اسپتال کی منتظم کے طور پر تین اہم ذمہ داریاں نبھائیں۔

    ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد انہوں نے لاڑکانہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

    ڈاکٹر بلقیس ملک بیان کرتی تھیں کہ انہی دنوں انہوں نے ایک خواب دیکھا، جس میں غریب عورتیں اور بچے ان سے کہہ رہے تھے: ‘کیا واقعی آپ ہمیں چھوڑ کر جا رہی ہیں؟’

    اس خواب نے ان کا فیصلہ بدل دیا، اور انہوں نے لاڑکانہ نہ چھوڑنے کا عزم کر لیا۔

    اس کے بعد انہوں نے اپنی پوری زندگی سندھ کے غریب عوام، خصوصاً خواتین اور بچوں کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔

    انہوں نے کبھی شادی نہیں کی اور نہ ہی دوبارہ اپنے آبائی خاندان کے پاس واپس گئیں۔

    محترمہ بینظیر بھٹو انہیں اپنی والدہ کی طرح احترام دیتی تھیں۔

    جنرل ضیا الحق کے دور میں جب بینظیر بھٹو کو سینٹرل جیل سکھر میں قید کے دوران طبیعت خراب ہوئی تو حکومت نے سرکاری ڈاکٹروں کو معائنے کے لیے بھیجا، مگر انہوں نے علاج کرانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ڈاکٹر بلقیس ملک سے ہی معائنہ کروائیں گی۔

    بالآخر مارشل لا حکومت نے ڈاکٹر بلقیس ملک کو لاڑکانہ سے سکھر بلایا، جہاں انہوں نے بینظیر بھٹو کا علاج کیا۔

    ڈاکٹر بلقیس ملک ہزاروں لیڈی ڈاکٹروں کی استاد، رہنما اور مربی رہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد آج دنیا کے مختلف ممالک میں خدمات انجام دے رہے ہیں، مگر انہوں نے کبھی کسی سے کوئی ذاتی فائدہ حاصل نہیں کیا۔

    سرکاری ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے لاڑکانہ کی سچل کالونی میں ایک پلاٹ خرید کر ایک فلاحی اسپتال قائم کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے آغا خان ٹرسٹ سمیت مختلف اداروں سے خط و کتابت بھی کی، مگر یہ خواب ان کی زندگی میں پورا نہ ہو سکا۔

    اگرچہ انہوں نے شادی نہیں کی، لیکن انہوں نے محمد طلحہ ملک اور غفرانہ ملک کی پرورش کی اور اپنی تمام جائیداد اور اثاثے انہی دونوں کے نام کر دیے۔

    لاڑکانہ کے عوام کی یہ مسیحا صفت شخصیت، پروفیسر ڈاکٹر بلقیس ملک یکم جولائی 2023 کو 94 برس کی عمر میں لاڑکانہ میں انتقال کر گئیں۔

    انہوں نے اپنی پوری زندگی ذاتی آسائشوں کے بجائے خدمتِ انسانیت کے لیے وقف رکھی اور خصوصاً سندھ کی خواتین اور بچوں کی صحت کے شعبے میں ایسی خدمات انجام دیں جنہیں طویل عرصے تک یاد رکھا جائے گا۔