کراچی کی لانڈھی کیٹل کالونی میں ایک ڈیری فارم پر درجنوں مویشی ہلاک ہونے کی اطلاع سامنے آئی ہے۔ فارم انتظامیہ کے مطابق ابتدائی طور پر 18 بھینسیں اور گائیں ہلاک ہو گئیں۔ بتایا گیا ہے کہ فارم پر موجود جانوروں نے بھوسی اور چارے پر مشتمل ایسی فیڈ کھائی جو ممکنہ طور پر زہریلی تھی، جس کے بعد مویشیوں کی حالت بگڑ گئی اور کئی جانور ہلاک ہو گئے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے واقعات عموماً آلودہ یا خراب فیڈ کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔ اگر بھوسی یا چارہ نمی میں رکھا جائے تو اس میں فنگس پیدا ہو سکتی ہے۔ یہ فنگس ایسے زہریلے مادے پیدا کرتی ہے جنہیں مائیکو ٹاکسن کہا جاتا ہے۔ یہ مادے جانوروں کے جگر اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں اور شدید صورت میں جانوروں کی موت کا سبب بن سکتے ہیں۔
مویشیوں کی فیڈ میں آلودگی کئی وجوہات سے پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات فیڈ کو غیر مناسب حالات میں ذخیرہ کیا جاتا ہے، جس سے نمی اور فنگس پیدا ہو جاتی ہے۔ بعض صورتوں میں فیڈ ملز سے آنے والی خوراک میں بھی آلودگی ہو سکتی ہے۔ اگر فیڈ کی بروقت جانچ نہ کی جائے تو زہریلے مادے مویشیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔
ڈیری فارم انتظامیہ کے مطابق زہریلی فیڈ سے متاثر 20 جانوروں کو ہنگامی طور پر ذبح کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ ایسے جانوروں کا گوشت کتنا محفوظ ہوتا ہے جنہوں نے زہریلی فیڈ کھائی ہو۔
ماہرین کے مطابق بعض ٹاکسن جانور کے جسم میں منتقل ہو سکتے ہیں اور جگر، خون یا گوشت میں موجود رہ سکتے ہیں۔ خاص طور پر افلاٹاکسن کو انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھا جاتا ہے۔ اگر ایسا گوشت استعمال کیا جائے تو ممکنہ طور پر کئی صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جن میں فوڈ پوائزننگ، الٹی اور متلی، جگر کو نقصان اور بعض ٹاکسن کی صورت میں طویل مدت میں کینسر کا خطرہ بھی شامل ہے۔
زہریلے مادے عموماً جانور کے جسم کے چند حصوں میں زیادہ جمع ہوتے ہیں، جن میں جگر، گردے اور خون شامل ہیں۔ اسی لیے ویٹرنری اصولوں کے مطابق ایسے کیسز میں گوشت کو لیبارٹری ٹیسٹ کے بغیر فروخت نہیں کیا جانا چاہیے۔
لانڈھی کیٹل کالونی کا یہ واقعہ مویشیوں کی فیڈ کے معیار، ذخیرہ کرنے کے طریقوں اور ٹیسٹنگ کے نظام سے متعلق اہم سوالات اٹھاتا ہے۔ پاکستان میں مویشیوں کی فیڈ کے معیار اور اس کی جانچ کا نظام ابھی مکمل طور پر مؤثر نہیں سمجھا جاتا۔ ماہرین طویل عرصے سے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ فیڈ ملز کی باقاعدہ لائسنسنگ، ٹاکسن کی لیبارٹری ٹیسٹنگ اور فیڈ کے ذخیرہ کرنے کے معیارات کو سخت بنایا جائے۔
ماہرین کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف مویشیوں کو تحفظ دے سکتے ہیں بلکہ انسانی خوراک کے نظام کو بھی محفوظ بنانے میں مددگار ہو سکتے ہیں۔ لانڈھی کیٹل کالونی میں پیش آنے والا یہ واقعہ اسی ضرورت کو ایک بار پھر واضح کرتا ہے۔

