Tag: قوم پرستی

  • صدام حسین: اقتدار، مزاحمت، روپوشی اور انجام

    صدام حسین: اقتدار، مزاحمت، روپوشی اور انجام

    بیسویں صدی کی عرب اور مشرق وسطیٰ کی تاریخ میں چند شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے صرف اپنے ملک نہیں بلکہ پورے خطے کی سیاست، جنگ، معیشت اور عالمی طاقتوں کے توازن کو متاثر کیا۔ صدام حسین انہی متنازع اور اثرانداز کرداروں میں شامل تھے۔

    کچھ حلقوں کے نزدیک وہ عرب خودمختاری اور مغربی بالادستی کے خلاف مزاحمت کی علامت تھے۔ کچھ کے لیے وہ ایک سخت گیر آمر، جنگوں کے معمار اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ذمہ دار تھے۔ صدام حسین کی زندگی دراصل اقتدار، خوف، قومی وقار، غلط فیصلوں اور بالآخر تنہائی کی داستان ہے۔

    یہ کہانی ایک فرد کی نہیں بلکہ ایک پورے نظام کے عروج اور زوال کی ہے۔ غربت سے اقتدار تک اور پھر روپوشی سے پھانسی تک، صدام حسین کا سفر جدید عرب تاریخ کے سب سے تاریک ابواب میں شمار ہوتا ہے۔

    ابتدائی زندگی: محرومی سے اقتدار کے خواب تک

    صدام حسین 28 اپریل 1937 کو عراق کے قصبے الاعوجہ میں پیدا ہوئے جو تکریت کے قریب واقع ہے۔ ان کے والد ان کی پیدائش سے پہلے وفات پا چکے تھے۔ شدید معاشی اور سماجی دباؤ کے باعث والدہ نے کچھ عرصہ انہیں نانا کے گھر چھوڑ دیا۔

    یہ غیر محفوظ اور محرومی سے بھرا بچپن صدام کی شخصیت میں سختی، بداعتمادی اور طاقت کے ذریعے بقا کے تصور کو گہرا کرتا گیا۔ ان کی پرورش زیادہ تر چچا خیر اللہ طلفاح نے کی جو عرب قوم پرست اور سخت نظریات کے حامل تھے۔

    اسی ماحول نے صدام کے ذہن میں طاقت، ریاستی بالادستی اور قومی وقار کے تصورات کو مضبوط کیا۔ تعلیم میں وہ نمایاں نہ تھے مگر اقتدار کی خواہش کم عمری میں ہی نمایاں ہو چکی تھی۔

    بعث پارٹی اور سیاست میں داخلہ

    انیس سو پچاس کی دہائی میں عراق سیاسی انتشار، فوجی بغاوتوں اور نظریاتی کشمکش کا شکار تھا۔ 1957 میں صدام حسین نے بعث عرب سوشلسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔

    1959 میں وزیر اعظم عبدالکریم قاسم پر قاتلانہ حملے میں مبینہ شمولیت کے بعد انہیں عراق چھوڑنا پڑا۔ وہ شام اور مصر میں رہے جہاں سیاسی روابط مضبوط کیے اور پارٹی کے اندر اپنی حیثیت مستحکم کی۔

    1968 کی بعث پارٹی بغاوت کے بعد صدام عراق واپس آئے اور تیزی سے اقتدار کے مراکز تک پہنچ گئے۔

    اقتدار کی سیڑھیاں: 1979  کا فیصلہ کن موڑ

    1968 کے بعد اگرچہ وہ صدر نہیں تھے مگر انٹیلیجنس، سیکیورٹی اداروں اور پارٹی تنظیم پر ان کا کنٹرول بڑھتا گیا۔ 1970 اور 1972 میں تیل کی قومی تحویل نے عراق کو معاشی طاقت دی اور صدام کو عوامی سطح پر مقبولیت ملی۔

    1979 میں صدر احمد حسن البکر کے استعفے کے بعد صدام حسین صدر بنے۔ اقتدار سنبھالتے ہی انہوں نے بعث پارٹی کے اندر صفائی مہم چلائی۔ درجنوں اعلیٰ رہنماؤں کو غدار قرار دے کر قتل یا قید کر دیا گیا۔

    یہی وہ مرحلہ تھا جب عراق ایک مکمل آمرانہ ریاست میں تبدیل ہو گیا۔

    ایران عراق جنگ

    1980 میں صدام حسین نے ایران پر حملہ کیا۔ ان کا خیال تھا کہ انقلاب کے بعد ایران کمزور ہے اور عراق خطے کی بڑی طاقت بن سکتا ہے۔

    یہ جنگ آٹھ برس جاری رہی۔ لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں۔ معیشت تباہ ہوئی اور معاشرہ گہرے زخموں کا شکار ہوا۔ اسی دوران کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال اور کردوں کے خلاف انفال مہم نے صدام کی حکمرانی کو خوف پر قائم رکھا۔

    کویت پر حملہ: عالمی تنہائی کا آغاز

    1990 میں کویت پر حملہ صدام کی سب سے بڑی سیاسی اور تزویراتی غلطی ثابت ہوا۔ اس فیصلے نے امریکہ اور مغربی طاقتوں کو براہ راست عراق کے خلاف متحد کر دیا۔

    1991 کی خلیج جنگ میں عراق کو شدید شکست ہوئی مگر صدام اقتدار میں برقرار رہے۔ اس کے بعد طویل اقتصادی پابندیاں لگیں جن کا سب سے زیادہ بوجھ عام عراقی عوام نے اٹھایا۔

    2003: اقتدار کا خاتمہ اور فرار

    مارچ 2003 میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کیا۔ اس جنگ کا جواز بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا دعویٰ تھا جو بعد میں ثابت نہ ہو سکا۔

    چند ہفتوں میں بغداد سقوط کا شکار ہو گیا۔ ریاستی ڈھانچہ بکھر گیا اور دہائیوں سے قائم خوف کا نظام اچانک زمین بوس ہو گیا۔

    صدام حسین آخری بار بغداد کی سڑکوں پر نظر آئے۔ اس کے بعد وہ منظر سے غائب ہو گئے۔ اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ہی وہ طاقت بھی ختم ہو گئی جو برسوں ان کے گرد حصار بنی رہی تھی۔

    روپوشی کی زندگی

    صدام حسین نے بغداد کے بجائے تکریت اور اس کے نواحی علاقوں میں چھپنے کو ترجیح دی۔ وہ مستقل ایک جگہ نہیں رکتے تھے۔ کبھی دیہاتی گھروں میں، کبھی خفیہ کمروں میں اور کبھی زیر زمین گڑھوں میں پناہ لیتے رہے۔

    وہ محدود افراد پر ہی اعتماد کرتے تھے۔ نہ موبائل فون استعمال کرتے تھے اور نہ ریڈیو۔ پیغامات قاصدوں کے ذریعے بھجوائے جاتے تھے اور یہی انسانی روابط بالآخر ان کی گرفتاری کا سبب بنے۔

    امریکی انٹیلیجنس: انسانی سراغ کی بنیاد پر تلاش

    صدام حسین کی تلاش میں جدید ٹیکنالوجی سے زیادہ انسانی معلومات پر انحصار کیا گیا۔ سابق بعث ارکان، ڈرائیوروں، کسانوں اور قریبی افراد سے تفتیش کی گئی۔

    بالآخر ایک اندرونی نیٹ ورک سے فیصلہ کن معلومات ملیں جن کی بنیاد پر کارروائی ممکن ہوئی۔

    آپریشن ریڈ ڈان

    13 دسمبر 2003 کو امریکی فوج نے تکریت کے قریب اد دور کے علاقے میں کارروائی کی۔ ایک فارم ہاؤس کے قریب زمین میں چھپا زیر زمین گڑھا دریافت ہوا۔

    اسی گڑھے سے بکھرے بالوں، داڑھی اور تھکے ہوئے شخص کو نکالا گیا۔ وہ صدام حسین تھے۔ نہ مزاحمت ہوئی اور نہ فائرنگ۔

    یہ ایک طاقتور آمر کے انجام کی علامت تھا۔

    گرفتاری کے بعد: مقدمہ اور انجام

    گرفتاری کے بعد صدام حسین کو عراقی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ دجیل قتل عام کے مقدمے میں انہیں انسانیت کے خلاف جرائم کا مجرم قرار دیا گیا۔

    30 دسمبر 2006 کو انہیں پھانسی دے دی گئی۔

    آج، تقریباً دو دہائیوں بعد، عراق اب بھی سیاسی عدم استحکام، فرقہ وارانہ تشدد اور بیرونی مداخلت کا شکار ہے۔ صدام حسین کے خاتمے کے ساتھ ایک آمر کا باب بند ہوا، مگر ایک ایسا طاقت کا خلا پیدا ہوا جو آج تک پُر نہ ہو سکا۔

    یہ سوال اب بھی قائم ہے۔
    کیا صدام حسین کے خاتمے نے عراق کو آزادی دی، یا اسے ایک طویل بحران کے حوالے کر دیا؟۔