Tag: قرض

  • پاکستان نے قرض لینے والے ممالک کی قیادت سنبھال لی

    پاکستان نے قرض لینے والے ممالک کی قیادت سنبھال لی

    خود بھاری قرض کے بوجھ تلے دبے ملک کو اب دوسرے قرض لینے والے ممالک کے لیے بہتر راستہ تلاش کرنے میں مدد دینے کی ذمہ داری ملی ہے۔ 12 اکتوبر 2026 کو پاکستان نے بنکاک میں قرض لینے والے ممالک کے فورم، بوروئرز پلیٹ فارم، کی گورننگ کونسل کی چیئرمین شپ سنبھالی۔

    وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے دوران پاکستان کی جانب سے یہ ذمہ داری قبول کی۔

    بوروئرز پلیٹ فارم اقوام متحدہ کی حمایت سے قائم ہونے والا فورم ہے، جسے اقوام متحدہ کے ادارے برائے تجارت و ترقی، انکٹاڈ، کی معاونت حاصل ہے۔ یہ فورم ترقی پذیر ممالک کو اکٹھا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے تجربات بانٹیں، قرضوں کا انتظام بہتر بنائیں اور عالمی مالیاتی مباحث میں اپنی آواز زیادہ مؤثر انداز میں پیش کریں۔

    کئی دہائیوں سے قرض دینے والے ممالک پیرس کلب جیسے گروپوں کے ذریعے اپنے مؤقف کو مشترکہ طور پر ترتیب دیتے رہے ہیں۔ دوسری جانب، قرض لینے والے ممالک اکثر اپنی مالی مشکلات کا تنہا سامنا کرتے رہے ہیں۔

    یہ پلیٹ فارم انہیں ایک ایسا فورم فراہم کرتا ہے جہاں وہ ایک دوسرے سے سیکھ سکیں، قرض لینے کے خطرات سمجھ سکیں اور تکنیکی معاونت حاصل کر سکیں۔

    اس اقدام کی بنیاد 2025 میں اقوام متحدہ کی ترقی کے لیے مالی وسائل کی فراہمی سے متعلق کانفرنس میں منظور کیا گیا سیویلا کمنٹمنٹ تھا۔ اس پلیٹ فارم کا افتتاح 15 اپریل 2026 کو واشنگٹن میں ہوا، جس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیریس نے بھی شرکت کی۔

    ابتدا میں مصر نے اس عمل کی قیادت کی، جبکہ پاکستان نائب چیئرمین تھا۔ اکتوبر میں گورننگ کونسل کے پہلے اجلاس تک 31 ترقی پذیر ممالک باضابطہ طور پر اس فورم میں شامل ہو چکے تھے۔

    یہ پلیٹ فارم رکن ممالک کے قرض معاف نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کے لیے قرضوں کی مشترکہ واپسی کا معاہدہ طے کرے گا۔ اس کا مقصد عملی تعاون ہے۔ یہ ممالک کو مناسب قرضوں کا انتخاب کرنے، ادائیگیوں کی منصوبہ بندی کرنے، مالی معاملات میں شفافیت بڑھانے اور ترقی کے لیے سرمایہ حاصل کرنے کے بہتر طریقے تلاش کرنے میں مدد دے گا۔

    ایسے تعاون کی ضرورت واضح ہے۔ انکٹاڈ نے اپریل میں پلیٹ فارم کے افتتاح کے موقع پر بتایا کہ 54 ممالک، جہاں 3 ارب 40 کروڑ افراد رہتے ہیں، صحت یا تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کے سود اور واپسی پر زیادہ خرچ کرتے ہیں۔

    جب حکومتوں کی آمدنی کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگیوں پر خرچ ہو جائے تو اسکولوں، ہسپتالوں اور عوامی سہولتوں کے لیے کم رقم بچتی ہے۔

    پاکستان کی اپنی صورت حال بھی اس ذمہ داری کی اہمیت واضح کرتی ہے۔ وزارت خزانہ کے قرضوں سے متعلق سالانہ جائزے پر مبنی رپورٹوں کے مطابق، جون 2026 کے آخر میں پاکستان کا مجموعی سرکاری قرض تقریباً 86.7 ٹریلین روپے، یعنی 312 ارب ڈالر تھا۔

     اس میں تقریباً 59.4 ٹریلین روپے اندرونی قرض اور لگ بھگ 98 ارب ڈالر بیرونی سرکاری قرض شامل تھا۔ اس طرح سرکاری قرض کا بڑا حصہ اندرونی قرض پر مشتمل ہے۔

    ملک کے مجموعی بیرونی قرضے اور مالی واجبات تقریباً 139 ارب ڈالر تھے۔ ان میں حکومت، مرکزی بینک، سرکاری اداروں، بینکوں اور نجی کاروباروں کے بیرونی مالی واجبات شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ رقم پہلے ہی سرکاری قرض میں شمار ہوتی ہے، اس لیے دونوں اعداد کو جمع کرنا درست نہیں ہوگا۔

    پاکستان کے بیرونی قرض دہندگان میں عالمی بینک کے تقریباً 22 ارب ڈالر، ایشیائی ترقیاتی بینک اور متعلقہ علاقائی بینکوں کے لگ بھگ 17 ارب ڈالر، آئی ایم ایف کے 9 ارب ڈالر اور اسلامی ترقیاتی بینک کے تقریباً 2 ارب ڈالر شامل ہیں۔

    چین کی حکومت اور بینکوں کے مجموعی قرضے تقریباً 29 ارب ڈالر ہیں، جبکہ سعودی عرب کے لگ بھگ ساڑھے 5 ارب ڈالر ہیں۔ پیرس کلب کے ممالک، جن میں جاپان، فرانس، امریکہ اور دیگر یورپی ممالک شامل ہیں، کے قرضے تقریباً 6 ارب ڈالر ہیں۔

    پاکستان عالمی بانڈز اور اسلامی صکوک کے ذریعے بھی قرض لیتا ہے۔ قرض دہندگان سے متعلق یہ قریب ترین اعداد و شمار آئی ایم ایف کی جون 2025 کی قرضوں کی تفصیل پر مبنی ہیں۔

    پاکستان قرضوں کی واپسی کی مدت بڑھانے پر بھی انحصار کرتا ہے، جسے عام طور پر رول اوور کہا جاتا ہے۔ اس سے ادائیگی کے لیے کچھ مہلت ملتی ہے، لیکن قرض ختم نہیں ہوتا۔ مالی سال 2025-26 کے دوران سرکاری قرض میں اضافہ ہوا، اگرچہ معیشت کے حجم کے مقابلے میں اس کا تناسب کم ہوا۔

    اس نئے فورم کے چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان کی ترجیحات میں قرضوں کا انتظام بہتر بنانا، معاشی اصلاحات کے تجربات بانٹنا اور ترقی کے لیے مالی وسائل کے نئے ذرائع تلاش کرنا شامل ہیں۔ یہ کوششیں رکن ممالک کو بہتر فیصلے کرنے اور بار بار مالی بحرانوں میں پھنسنے کے خطرات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

    قرض اس وقت فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اسے پیداواری بنیادی ڈھانچے، برآمدات اور عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے۔ مشکلات اس وقت بڑھتی ہیں جب نئے قرض زیادہ تر پرانے قرضوں کی ادائیگی جاری رکھنے کے لیے لیے جائیں۔

    پاکستان کی چیئرمین شپ اپنے تجربات سے مفید سبق حاصل کرنے اور انہیں دوسرے ممالک کے ساتھ بانٹنے کا موقع ہے۔ اس کی کامیابی کو قرض لینے سے متعلق بہتر فیصلوں اور عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے زیادہ وسائل بچانے کی بنیاد پر پرکھنا چاہیے۔

  • جیو پولیٹیکل چوراہا 100 ارب ڈالر کا قرض، عارضی راحت اور تزویراتی تنہائی

    جیو پولیٹیکل چوراہا 100 ارب ڈالر کا قرض، عارضی راحت اور تزویراتی تنہائی

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے باریک اور خطرناک جیو پولیٹیکل چوراہے پر کھڑا ہے، جہاں دہائیوں سے چلی آ رہی ‘دوطرفہ خارجہ پالیسی’ اور امریکہ و چین کے درمیان متوازن سفارتی کارڈ کھیلنے کی صلاحیت اپنے منطقی انجام کو پہنچتی دکھائی دے رہی ہے۔

    تاریخ کا جبر دیکھیے کہ ایک طرف ملکی عسکری بقا، ایویانکس اور دفاعی سپلائی لائن کا انحصار بیجنگ پر حد سے زیادہ بڑھ چکا ہے، تو دوسری طرف معاشی طور پر سسکیاں لیتی ریاست کی سانسیں واشنگٹن، آئی ایم ایف اور مغربی مالیاتی منڈیوں کی مرہون منت ہیں۔

    اس تزویراتی تضاد نے ملکی فیصلہ سازوں کو ایک ایسے گھمبیر مخمصے میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں سے بغیر کسی بڑے نقصان کے محفوظ واپسی کا راستہ دن بہ دن دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔
    اس معاشی دلدل کا اندازہ محض ان بھیانک اعداد و شمار سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان کا کل بیرونی قرض 125 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، جس میں سے تقریباً 24 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی ہر سال سود اور اصل زر کی صورت میں کرنا پڑتی ہے۔

    ملک کے کل بیرونی قرض کا تقریباً 30 فیصد سے زائد حصہ اکیلے چین اور اس کے مالیاتی اداروں کا ہے، جبکہ آئی ایم ایف اور دیگر کثیر الجہتی اداروں کے ساتھ طے شدہ سخت معاشی اہداف نے ملکی معیشت کا دم گھونٹ رکھا ہے۔

    ان حالات میں حال ہی میں پاکستانی وزیر خزانہ کی جانب سے امریکی محکمہ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کی ‘ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سہولت’ مانگنے کی اطلاعات اس بات کا واضح اور دوٹوک اشارہ ہیں کہ طاقت کے ایوانوں کا جھکاؤ ایک بار پھر واشنگٹن کے محور کی طرف بڑھ رہا ہے۔

    لیکن عالمی سیاست میں مفت کا کچھ نہیں ملتا۔ امریکہ کی جانب سے اس ممکنہ نقد رقم کے بدلے ایران کے معاملے میں ثالثی یا دیگر تزویراتی مطالبات کا پیش کیا جانا ایک انتہائی باریک جیو پولیٹیکل جال ہے۔ واشنگٹن کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ کبھی بھی اتنی بڑی مالی ریلیف بغیر کسی سخت تزویراتی قیمت کے فراہم نہیں کرتا۔

    جیسے جیسے مشرق وسطی اور ایران کے گرد جنگی بادل گہرے ہو رہے ہیں، امریکہ محض سفارتی سہولت کاری پر قانع نہیں رہے گا بلکہ اس رقم کے عوض عسکری لاجسٹکس، انٹیلی جنس تعاون اور فضائی حدود کا تقاضا کرے گا۔

    یہیں سے پالیسی سازوں کے ترجیحی مفادات اور ریاست کی طویل مدتی بقا کے درمیان ایک خوفناک تصادم کا آغاز ہوتا ہے۔ پاکستان کا عام شہری آئی ایم ایف کی کڑی شرائط، افراط زر اور ڈالر کی اجارہ داری سے تنگ آ کر معیشت کو چینی یوآن اور مقامی کرنسی کے تبادلے پر منتقل کرنے کے خواب دیکھتا ہے۔

    لیکن المیہ یہ ہے کہ پالیسی ساز اشرافیہ کا معاشی اور فکری نظام مغرب سے جڑا ہوا ہے۔ ان کے اثاثے، ریٹائرمنٹ کے بعد کی پناہ گاہیں اور بچوں کا مستقبل بیجنگ میں نہیں بلکہ لندن، واشنگٹن اور نیویارک میں ہے۔ یہی وہ ساختی کمزوری ہے جس کی وجہ سے مقتدرہ چاہ کر بھی مغربی بلاک کا دائرہ اثر مکمل طور پر چھوڑنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

    تاہم اس کھیل میں سب سے بڑی غلط فہمی یہ سمجھنا ہوگی کہ بیجنگ کے صبر کا پیمانہ لامحدود ہے۔ یہ درست ہے کہ پاکستان کا جیو پولیٹیکل وزن سری لنکا یا دیگر مقروض ممالک جیسا نہیں ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، اس کا اہم جغرافیہ اور ‘انڈیا کے خلاف توازن’ کا کارڈ چین کے لیے ایک لازمی تزویراتی ضرورت ہیں۔

    لیکن اس ضرورت کی بھی ایک حد ہے۔ چین ایران کا سب سے بڑا معاشی اور تزویراتی اتحادی ہے۔ اگر پاکستان نے ڈالروں کی عارضی چمک کے عوض ایران کے خلاف بننے والے امریکی عسکری یا لاجسٹک کیمپ کا حصہ بننے کی غلطی کی تو بیجنگ اسے محض ایک معمولی سفارتی لچک نہیں بلکہ اپنا حتمی ‘تزویراتی دھوکہ’ سمجھے گا۔

    اس تزویراتی بداعتمادی کا خمیازہ کتنا خوفناک ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بیجنگ اگر جے 10 سی، جے ایف 17 جیسے سرفہرست جنگی طیاروں، ایویانکس اور پیشرفتہ گائیڈڈ میزائل سسٹمز کی سپلائی لائن اور تکنیکی مدد میں ذرا سی بھی تاخیر کر دے تو پاکستانی دفاع چند ہفتوں میں سنگین دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔

    یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ نئی دہلی کو ناراض کر کے کبھی بھی پاکستان کو چین کا متبادل عسکری سامان یا دفاعی ضمانتیں فراہم نہیں کرے گا۔
    اس پورے بین الاقوامی کھیل کا سب سے المناک اور دردناک پہلو یہ ہے کہ فیصلے اب خالصتاً قومی مفاد اور طویل مدتی تزویراتی سوچ کے بجائے محض عارضی معاشی پیوند کاری اور بقا کی جنگ بن چکے ہیں۔ پاکستان کو دہائیوں سے ایک ‘سیکیورٹی سٹیٹ’ بنا کر رکھا گیا، لیکن اس کی قیمت یہ چکانی پڑی کہ اندرونی سیاسی خلفشار، شدید پولرائزیشن اور غیر مستحکم ہائبرڈ ماڈل نے ملک کو کبھی ایک خودکفیل اور پائیدار معاشی قوت بننے ہی نہ دیا۔

    جب بھی معاشی زوال نچلی سطح کو چھوتا ہے، جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کے ذریعے بیرونی امداد کا ایک عارضی ڈرپ لگا لیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا مستقل خمیازہ عوام کو بے رحم ٹیکسوں، کمر توڑ مہنگائی اور نوجوانوں کے خطرناک برین ڈرین کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

    ممکنہ سفارتی اور معاشی متبادل، بحران سے نکلنے کا روڈ میپ

    اگر پاکستان واقعی اس تزویراتی دلدل سے نکلنا چاہتا ہے تو محض بیرونی امداد اور ڈالروں کے عارضی انجکشن پر انحصار ختم کر کے درج ذیل حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

    غیر جانبدار علاقائی بلاک اور ‘توازن نو’

    پاکستان کو مشرق وسطی میں امریکی عسکری اتحاد کا حصہ بننے کے بجائے خلیجی ممالک، سعودی عرب اور قطر، کے ساتھ مل کر ایک فعال علاقائی سفارتی بلاک قائم کرنا چاہیے جو ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے غیر جانبدارانہ ثالثی کرے۔

    قرضوں کی ازسرنو ساخت

    عارضی قرض مانگنے کے بجائے چین اور پیرس کلب دونوں کے ساتھ مل کر ایک متوازی ‘ڈیٹ ریسٹرکچرنگ’ کا فریم ورک طے کیا جائے تاکہ سالانہ 24 ارب ڈالر کے بوجھ کو کم از کم اگلے پانچ سال کے لیے ہلکا کیا جا سکے۔

    مقامی کرنسی اور سی پیک 2.0 کی فعالیت

    چینی یوآن اور مقامی کرنسی میں دوطرفہ تجارت کے حجم کو محض بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی روپ دیا جائے اور سی پیک کے دوسرے مرحلے کو فعال کر کے برآمدات میں اضافہ کیا جائے۔

    اندرونی معاشی اصلاحات کا کڑوا گھونٹ

    بیرونی جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کے ذریعے پیسے کمانے کے بجائے اپنے زرعی، تجارتی اور تاجر طبقے پر یکساں ٹیکس نافذ کیا جائے اور غیر پیداواری اخراجات میں ہنگامی کٹوتیاں کی جائیں۔

    مشرق وسطی کی بدلتی صورتحال اور ایران امریکہ کشمکش دراصل اس طویل مدتی جیو پولیٹیکل کھیل کا آخری مرحلہ ثابت ہو رہی ہے۔ یہ بحران فیصلہ کرے گا کہ پاکستان کی خارجہ اور معاشی پالیسی کا اونٹ بالآخر کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

    ‘درمیان میں رہنے’ اور بیک وقت دو کشتیوں پر سوار ہونے کا وقت اب ختم ہو چکا ہے۔ اب یا تو معاشی شٹ ڈاؤن سے بچنے کے لیے امریکی شرائط کے سامنے مکمل طور پر جھکنا پڑے گا، جس کی قیمت چین کی دوری کی صورت میں دینی ہوگی، یا پھر بیجنگ کے تزویراتی دائرے میں رہتے ہوئے سخت، کڑوی اور دردناک اندرونی معاشی اصلاحات کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔

    اگر اب بھی ذاتی ترجیحات، عارضی ڈالروں کے انجکشن اور جیو پولیٹیکل بلیک میلنگ کے پرانے فارمولوں پر انحصار کیا گیا تو یاد رکھیے کہ اندرونی طور پر پکنے والا عوامی اور معاشی لاوا کسی بھی وقت اس تمام تر سیاسی و سفارتی بساط کو لپیٹ سکتا ہے۔