Tag: قراقرم

  • ‘دنیا کی چھت’ پر نیا اسٹریٹجک محاذ

    ‘دنیا کی چھت’ پر نیا اسٹریٹجک محاذ

    جہاں دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ آپس میں گلے ملتے ہیں، اسے جغرافیے کی زبان میں ‘پامیر ناٹ’ اور عام زبان میں ‘دنیا کی چھت’ کہا جاتا ہے۔ یہ وہ پراسرار اور خاموش خطہ ہے جہاں بادل انسانوں کے قدموں تلے تیرتے ہیں اور پہاڑ آسمان سے باتیں کرتے ہیں۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ان دشوار گزار اور فلک بوس درّوں میں انسانی آہٹ بڑھتی ہے تو عالمی طاقتوں کی جغرافیائی سیاست کی بساط پر زلزلے آنے لگتے ہیں۔ 

    انیسویں صدی کے آخر میں برطانوی اور روسی سلطنتوں کے درمیان ‘گریٹ گیم’ کے دوران اسی خطے میں ایک پتلی سی پٹی کو ‘واخان کوریڈور’ کے نام سے ایک بفر زون کے طور پر تشکیل دیا گیا تھا تاکہ دونوں بڑی طاقتیں براہ راست آپس میں نہ ٹکرائیں۔ تاریخ نے ایک بار پھر خود کو دہرایا ہے، لیکن اس بار بساط کے مہرے بدل چکے ہیں۔

    اکتوبر 2026 کے ان ابتدائی دنوں میں دنیا کی اسی چھت پر ایک ایسی تاریخی اور تزویراتی ہلچل دیکھی گئی ہے جس نے خطے کے تمام بڑے دارالحکومتوں، اسلام آباد، بیجنگ، نئی دہلی، کابل، ماسکو اور واشنگٹن، میں دفاعی تھنک ٹینکس کو چوکنا کر دیا ہے۔ 

    افغان طالبان حکومت کی جانب سے بدخشان کے دور افتادہ علاقے بروغل سے شروع ہونے والی 121 کلومیٹر طویل ‘واخان شاہراہ’ کا باضابطہ افتتاح کردیا گیا ہے۔ یہ سڑک کچی اور ناپختہ ضرور ہے، لیکن یہ چین کی سرحد، زیرو پوائنٹ، تک جا پہنچی ہے۔ 

    تاریخ میں پہلی بار افغانستان اور چین کے درمیان براہ راست زمینی رابطہ قائم ہوچکا ہے، جس نے خاموش پہاڑوں کے دامن میں ایک نیا تزویراتی محاذ کھول دیا ہے۔

    عالمی جغرافیائی سیاست پر نظر رکھنے والے معروف برطانوی جریدے ‘دی ڈپلومیٹ’ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:

    ‘واخان روڈ کی تکمیل کابل کے لیے ایک علامتی فتح ضرور ہے، لیکن یہ چین کے مینوفیکچرنگ مرکز سنکیانگ کے دہانے پر سیکیورٹی کے نئے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ بیجنگ کے لیے معاشی فوائد بعد میں ہیں، عسکریت پسندی کی روک تھام پہلی ترجیح ہے۔’

    بظاہر افغان طالبان اس شاہراہ کو اپنی تجارتی خودکفالت اور پاکستان کی بندرگاہوں پر انحصار کم کرنے کے ایک سنہری موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ کابل کا دعویٰ ہے کہ یہ سڑک تقریباً 365 ملین افغانی کی لاگت سے مکمل طور پر مقامی انجینئرز نے تیار کی ہے۔ لیکن جغرافیائی سیاست کے طالب علم جانتے ہیں کہ دنیا کی اس بلند ترین چھت پر کوئی بھی سڑک محض تجارتی مال برداری کے لیے نہیں کھلتی، اس کے پیچھے گہرے سفارتی اور دفاعی مفادات کارفرما ہوتے ہیں۔

    واخان کوریڈور کا یہ نیا رخ براہ راست پاکستان کی شمالی سرحدوں، بالخصوص چترال اور گلگت بلتستان کی سیکیورٹی پر اثر انداز ہورہا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا اور فوری تحفظہ ‘سرحد پار دہشت گردی’ ہے۔ تحریک طالبان پاکستان اور بلوچستان کے عسکریت پسند گروہ، جو افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے رہے ہیں، اب اس کوریڈور کی جغرافیائی قربت کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرسکتے ہیں۔ 

    گلگت بلتستان اور چترال کی بالائی وادیوں میں عسکریت پسندوں کی ممکنہ دراندازی کو روکنا اب ہماری اولین ترجیح بن چکا ہے۔

    پاک فوج کی شمالی لائٹ انفنٹری، جس کے جوان منفی 40 ڈگری کے جان لیوا درجہ حرارت میں ان چوٹیوں پر تعینات ہیں، اب اس نئے محاذ پر ایک آہنی دیوار بن کر کھڑی ہے۔ 

    پاکستان نے نہ صرف زمینی گشت کو سخت کیا ہے بلکہ گلگت بلتستان کی دفاعی چوٹیوں پر جدید ترین تھرمل کیمرے اور ریڈار نظام نصب کردیے ہیں، کیونکہ یہ خطہ اب پاکستان کی قومی سلامتی کا ایک حساس ترین نگرانی مرکز بن چکا ہے۔

    افغان حکام کے جوش و خروش کے برعکس، بیجنگ کا ردعمل انتہائی نپا تلا اور محتاط ہے۔ 4 اکتوبر 2026 کو ہونے والی افتتاحی تقریب میں کسی بھی بڑے چینی عہدیدار کی عدم موجودگی نے دنیا کو ایک واضح پیغام دیا ہے کہ چین سیکیورٹی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

    چینی حکومت کے قریب سمجھے جانے والے اخبار ‘گلوبل ٹائمز’ نے اپنے ایک اداریے میں واضح کیا ہے:

    ‘بیجنگ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ روابط کا خیرمقدم کرتا ہے، لیکن سنکیانگ کی سرحدوں کا تقدس ہماری ریڈ لائن ہے۔ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسے عناصر کے مکمل خاتمے کے بغیر واخان بارڈر پر بڑے پیمانے پر کسٹم انفراسٹرکچر کا قیام ممکن نہیں۔’

    اس سے بھی بڑھ کر، چین کے لیے پاکستان میں کی جانے والی اربوں ڈالر کی سی پیک سرمایہ کاری اور شاہراہ قراقرم کی تزویراتی اہمیت واخان کے اس کچے راستے سے کہیں زیادہ ہے۔ چین کبھی بھی اپنے اہم تزویراتی شراکت دار پاکستان کے تحفظات کو پس پشت ڈال کر کابل کو کوئی ایسی چھوٹ نہیں دے گا جو سی پیک کے متبادل کے طور پر ابھرے۔

    دنیا کی اس چھت پر کھلنے والے نئے محاذ نے اگر کسی دارالحکومت کو سب سے زیادہ بے چین کیا ہے تو وہ نئی دہلی ہے۔ بھارت روایتی طور پر گلگت بلتستان پر اپنا دعویٰ جتاتا رہا ہے اور اب واخان کوریڈور کے فعال ہونے سے بھارتی سفارت کاری میں ایک عجیب سی عجلت پسندی دیکھی جارہی ہے۔

    بھارت کا یہ کاغذی پروپیگنڈا محض بین الاقوامی سطح پر سی پیک کو متنازع بنانے کی ایک کوشش ہے۔ تاہم عملی طور پر بھارت اس خطے سے جغرافیائی طور پر کٹا ہوا ہے اور اس کا یہ بیانیہ صرف سفارتی بیانات تک محدود دکھائی دیتا ہے۔

    اس پورے منظرنامے میں روس کا کردار بھی ایک اہم پشت پناہ کے طور پر ابھرا ہے۔ ماسکو سے کام کرنے والی نیوز ایجنسی ‘تاس’ نے خطے کی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:

    ‘روس واخان پٹی پر سیکیورٹی کے استحکام کو وسطی ایشیا کی سلامتی کے لیے ناگزیر سمجھتا ہے۔ ہم خطے میں کسی بھی غیر علاقائی طاقت یا دہشت گرد گروہ کی موجودگی کے خلاف چین اور پاکستان کے سیکیورٹی میکانزم کی تائید کرتے ہیں۔’

    ماضی کا سوویت یونین، جو کبھی واخان کے راستے گرم پانیوں تک پہنچنے کے خواب دیکھتا تھا، آج کا روس یوکرین جنگ کے بعد چین اور پاکستان کے بلاک کے بہت قریب آچکا ہے۔ روس کی پہلی ترجیح وسطی ایشیائی ریاستوں، جیسے تاجکستان، کا تحفظ ہے، جہاں اس کے فوجی اڈے موجود ہیں۔ 

    دوسری طرف واشنگٹن اس پورے کھیل کو دور بیٹھ کر مانیٹر کررہا ہے۔ افغانستان سے نکلنے کے بعد امریکہ کے پاس خطے میں کوئی زمینی اڈہ نہیں ہے، اس لیے واخان کوریڈور میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرات اور عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے امریکہ کو آج بھی پاکستان کی فضائی حدود اور انٹیلی جنس تعاون کی ضرورت ہے۔

    واخان کوریڈور پر کھلنے والا یہ نیا محاذ خطے کی جغرافیائی سیاست میں ایک طویل مدتی شطرنج کی بازی ہے۔ افغان طالبان نے سڑک بنا کر اپنی بساط کا پہلا مہرہ چل دیا ہے، لیکن اس کھیل کے اصل کھلاڑی چین اور پاکستان اس پوزیشن میں ہیں جہاں انہوں نے دشمن کی ہر چال کو ‘شہ مات’ دے رکھی ہے۔ 

    پاکستان اور چین کا مشترکہ سیکیورٹی میکانزم، خنجراب اور واخان کے دہانے پر ہونے والی ڈیجیٹل اور عسکری نگرانی، اور شمالی لائٹ انفنٹری کی مضبوط زمینی موجودگی اس بات کی ضمانت ہے کہ دنیا کی چھت پر کھلنے والا یہ نیا محاذ پاکستان کے لیے کوئی خطرہ بننے کے بجائے مخالفین کے سفارتی عزائم کی ناکامی کا قبرستان ثابت ہوگا۔ 

    اب گیند کابل کے کورٹ میں ہے کہ وہ اس راستے کو خطے میں امن اور تجارت کا ذریعہ بناتا ہے یا جغرافیائی سیاسی مہم جوئی کا شکار ہوکر خود کو مزید تنہا کرلیتا ہے۔

    (ابراہیم صالح محمد)