Tag: قراردادِ پاکستان

  • سندھ اسمبلی سے پہلی بار قراردادِ پاکستان پاس کرانے والے جی ایم سید کا یومِ پیدائش 17 جنوری: ‘جب میں سائیں جی ایم سید سے ملا’

    سندھ اسمبلی سے پہلی بار قراردادِ پاکستان پاس کرانے والے جی ایم سید کا یومِ پیدائش 17 جنوری: ‘جب میں سائیں جی ایم سید سے ملا’

    میری سیاسی وابستگی اپنی جگہ، لیکن اس مختصر زندگی میں یہ خواہش ضرور رہی کہ نامور اور قد آور سیاسی رہنماؤں اور شخصیات سے بالمشافہ ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل ہو۔

    اب تک مجھے ذوالفقار علی بھٹو، سائیں جی ایم سید، محترمہ بینظیر بھٹو، میر مرتضیٰ، نواب اکبر بگٹی، ولی خان، نواب خیر بخش مری، میر شیر محمد مری المعروف جنرل شیروف، سردار عطا اللہ مینگل، رسول بخش پلیجو، شہید فاضل راہو، بشیر خان قریشی، کامریڈ جام ساقی، ڈاکٹر خالد محمود سومرو سمیت کئی بڑی سیاسی شخصیات سے ملنے کا موقع ملا۔

    سائیں جی ایم سید سے ملنے کی خواہش بھی دل میں تھی۔

    یہ 1981 کا سال تھا۔ میں مارشل لا ریگولیشن 13 اور 33 کے تحت گرفتار تھا۔ کیس سمری ملٹری کورٹ لاڑکانہ میں زیرِ سماعت تھا۔ کبھی قمبر جیل اور کبھی لاڑکانہ جیل میں رکھا جاتا۔ کیس کی سماعت کے دوران کبھی کبھار پولیس عارضی حوالگی پر تعلقہ تھانہ لاڑکانہ کے لاک اپ میں بھی رکھتی تھی۔

    اسی تھانے کے لاک اپ میں میرا بستر دروازے کے بالکل ساتھ تھا۔ ان دنوں تعلقہ تھانے کے ایس ایچ او شاہ محمد سنجراڻي تھے۔ ایک رات پولیس ایک قدآور، خوبصورت نوجوان کو گرفتار کر کے لائی اور لاک اپ میں بند کر دیا۔ چونکہ میرا بستر دروازے کے قریب تھا، اس لیے اس نئے آنے والے کی خیریت دریافت کرنے والا بھی میں ہی تھا۔ میں نے ہاتھ بڑھا کر اسے بستر پر بیٹھنے کو کہا۔

    حال احوال کے بعد اس نوجوان نے بتایا: ‘میرا نام بشیر قریشی ہے، میں زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام کا طالب علم ہوں، پولیس نے مجھے چانڈکا میڈیکل کالج سے گرفتار کیا ہے، جیئے سندھ سے تعلق ہے۔

    بس پھر بشیر خان اور میں جیل کی زبان میں ‘ہنڈی وال’ یعنی قریبی دوست بن گئے۔ بشیر خان جلد ہی سیشن کورٹ سے ضمانت پر رہا ہو گیا، مگر جو محبت، عزت، احترام اور دوستی کا رشتہ بنا، وہ اس کی شہادت تک قائم رہا۔

    قید کے دنوں ہی میں میں نے بشیر خان سے سائیں جی ایم سید سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ اس نے کہا: ‘خیر سے رِہا ہو جاؤ، پھر سَن (جی ایم سید کا آبائی گاؤں) چلیں گے۔’

    بشیر خان تو جلد آزاد ہو گیا، مگر مجھے سمری ملٹری کورٹ نے ایک سال قیدِ با مشقت کی سزا سنا دی۔ میں ڈسٹرکٹ جیل لاڑکانہ اور لانڈھی جیل کراچی میں رہا اور مارچ 1983 میں رہائی نصیب ہوئی۔

    جون 1983 میں میں جامشورو اسٹیشن سے مسافر ٹرین میں لاڑکانہ جا رہا تھا۔ جب ٹرین سَن ریلوے اسٹیشن پر رکی تو اچانک سائیں جی ایم سید سے ملنے کا خیال آیا۔ فوراً ٹرین سے اتر گیا۔ ان دنوں سائیں جی ایم سید سن میں نظر بند تھے، مگر ملاقات پر پابندی نہیں تھی، صرف سن سے باہر جانے کے لیے ہوم ڈیپارٹمنٹ کی اجازت ضروری تھی۔

    میں نے ٹانگے والے سے کہا: ‘سائیں جی ایم سید کے پاس جانا ہے۔’

    اس نے بتایا کہ سائیں کبھی دریائے سندھ والی اوطاق میں بھی ہوتے ہیں، مگر اس وقت شدید گرمی ہے، اس لیے حویلی والی اوطاق میں ہوں گے۔

    دوپہر کی سخت گرمی تھی، گھوڑا بھی پسینے میں شرابور تھا۔ آخرکار ٹانگہ حویلی کے سامنے رکا۔ میں زندگی میں پہلی بار سن آیا تھا۔ گرمی ایسی کہ الامان! خیر، میں اوطاق پہنچا۔ وہاں کوئی نہیں تھا، صرف ایک شخص برآمدے میں چارپائی پر لیٹا تھا۔ اس نے پوچھا: ‘کس سے ملنا ہے؟’

    میں نے کہا: ‘سائیں جی ایم سید سے۔’

    اس نے بتایا کہ سائیں ابھی ملاقاتوں کے بعد اندر حویلی گئے ہیں، آپ اندر کمرے میں جا کر بیٹھ جائیں، جیسے ہی آئیں گے ملاقات ہو جائے گی۔

    میں اس کمرے میں گیا جہاں سائیں اکثر مہمانوں سے ملتے تھے۔ سامنے دیوار پر سندھ کا پینٹنگ والا نقشہ تھا، جس کی سرحدیں زنجیروں میں جکڑی دکھائی گئی تھیں اور انگریزی میں لکھا تھا: A Nation in Chains

    ایک کونے میں پلاسٹر آف پیرس سے بنا سائیں جی ایم سید کا مجسمہ رکھا تھا۔ ایک طرف کتابوں کی الماریاں تھیں، تاریخی کتابوں سے بھری ہوئی۔ درمیان میں نصرپور کی بنی ہوئی دو چارپائیاں تھیں جن پر سندھی رلیاں بچھی تھیں۔

    میں گرمی اور تھکن سے ایک چارپائی پر بیٹھا اور پتہ ہی نہ چلا کہ نیند آ گئی۔ جب آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ساتھ والی چارپائی پر ایک بزرگ گہری نیند میں سو رہے ہیں۔ غور سے دیکھا تو سائیں جی ایم سید تھے۔

    بعد میں معلوم ہوا کہ سائیں نے مجھے سوتا دیکھا تو کہا: ‘گرمی میں کہیں دور سے آیا لگتا ہے، آرام کرنے دو۔’ اور خود بھی پاس لیٹ گئے۔

    جاگنے کے بعد میں ادب سے ان کے سامنے حاضر ہوا اور سچ سچ بتایا کہ میرا ان کی کسی تنظیم سے تعلق نہیں، بس ملاقات کی خواہش تھی۔ سائیں مسکرا کر بولے: ‘مجھے اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی میرے نظریے کا پیروکار ہے یا نہیں، تم سب میرے بچے ہو۔’

    سب سے پہلے پوچھا: ‘کھانا کھایا ہے؟’

    میں نے کہا: ‘نہیں۔’

    فوراً حکم دیا کہ مہمان کے لیے کھانا منگوایا جائے۔

    باتوں کے دوران میں نے بھٹو صاحب کے بارے میں سوال کیا۔ اس پر سائیں کے چہرے پر غصہ آیا، لمحہ بھر خاموش رہے، پھر بولے: ‘ذوالفقار علی بھٹو کے والد شاہنواز میرے دوست تھے۔ سندھ نے اپنی تاریخ میں تین ذہین انسان پیدا کیے: محمد علی جناح، پیر علی محمد شاہ راشدی اور ذوالفقار علی بھٹو۔ مگر تینوں سندھ کے لیے وہ نہ کر سکے جو کرنا چاہیے تھا۔’

    انہوں نے پنجاب کی بالادستی، 1972 کے عبوری آئین، 1973 کے آئین، بلوچ رہنماؤں کی گرفتاری اور بھٹو کی پھانسی تک پوری تفصیل بیان کی۔

    بینظیر بھٹو کے بارے میں فرمایا: ‘وہ ہماری بیٹی ہے، تعلیم یافتہ اور بہادر ہے، مگر اگر باپ کے نقش قدم پر چلی تو وہی طاقتیں اسے بھی نہیں چھوڑیں گی۔’

    بلوچوں کے بارے میں کہا: ‘اگر جتنے بلوچ مرے ہیں، ان کا آدھا بھی سندھ کے لیے سندھ نے قربان کیا ہوتا تو آج نقشہ بدل چکا ہوتا۔’

    سندھیوں کے بارے میں فرمایا: ‘سندھی ابھی اپنے دوست اور دشمن کو پہچان ہی نہیں سکے، بہت پچھتائیں گے۔’

    اتنے میں کھانا آ گیا: بکرے کا گوشت، تلی ہوئی مچھلی، بھنڈی، گندم اور چاول کی مکھن لگی روٹیاں، سفید چاول اور لسی۔ سائیں میرے ساتھ دسترخوان پر بیٹھے۔ بعد میں شربت بھی پلایا۔

    جب ٹرین کا وقت ہوا تو سائیں نے رخصت کرتے ہوئے مجھے ٹانگے تک پہنچانے کا کہا اور جیب میں کچھ رقم بھی رکھ دی۔ میں نے کہا: ‘سائیں، بہت ہو گیا۔’

    بولے: ‘رکھ لو، کام آئے گی۔’

    میں ٹانگے پر بیٹھ کر سن اسٹیشن کی طرف روانہ ہوا، مگر آج تک سائیں جی ایم سید کے ساتھ گزارے ہوئے وہ چند لمحے بھلا نہیں سکا۔