Tag: قاتل

  • انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قاتل کیس میں ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

    انقلابی شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے قاتل کیس میں ان کے لے پالک بیٹے کو سزائے موت

    ڈاکٹر آکاش انصاری کا اصل نام اللہ بخش انصاری تھا۔ وہ 25 دسمبر 1956ء کو ضلع بدین کے گاؤں اَبل وسی میں لاڑ کے معروف مقامی شاعر الہڈنی بدینوی کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ جنت خاتون بھی ایک لوک دانشورہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی کے کلام کی حافظہ تھیں۔

    ڈاکٹر آکاش نے ابتدائی تعلیم بدین سے حاصل کی اور 1984ء میں لیاقت میڈیکل کالج سے ایم بی بی ایس کی ڈگری مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ عرصہ بدین میں بطور ڈاکٹر پریکٹس کی۔ کالج کے زمانے ہی سے وہ ایک قومی اور ترقی پسند شاعر کے طور پر مشہور ہو چکے تھے۔

    اسی دور میں انہوں نے بائیں بازو کی سیاست میں حصہ لیا اور عوامی تحریک میں پندرہ برس تک ڈپٹی سیکریٹری اور سیکریٹری جنرل کے طور پر خدمات انجام دیں۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے دور میں قومی اور انقلابی شاعری کرنے کے جرم میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔

    بعد ازاں جب چار جماعتوں نے مل کر عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی بنیاد رکھی تو عوامی تحریک بھی اس میں شامل ہوئی۔ اے این پی کے مرکزی صدر خان عبدالولی خان بنے جبکہ سندھ کا جنرل سیکریٹری ڈاکٹر آکاش انصاری کو مقرر کیا گیا۔

    1992ء میں رسول بخش پلیجو سے اختلافات کے باعث انہوں نے عوامی تحریک سے علیحدگی اختیار کی اور 1995ء میں صحافت کے میدان میں قدم رکھا۔ انہوں نے روزنامہ ”سوال“ جاری کیا، جس کے چیف ایڈیٹر وہ خود تھے جبکہ حسن درس اس کے ایڈیٹر تھے۔ یہ اخبار جنرل پرویز مشرف کے دور میں سن 2000ء میں بند کر دیا گیا۔

    2002ء میں ڈاکٹر آکاش نے رورل ڈیولپمنٹ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ 2004ء میں انہوں نے امریکہ کی ایسٹرن واشنگٹن یونیورسٹی سے جدید تعلیمی نظام میں ڈپلومہ کیا اور اس کے بعد بدین کے ساحلی علاقے میں تعلیم اور دیہی ترقی کے لیے ایک سماجی تنظیم ”بدین رورل ڈیولپمنٹ“ قائم کی، جس کے تحت متعدد منصوبے مکمل کیے گئے۔ ان کے قائم کردہ اسکولوں میں سے دو اسکولوں کو اب ہائی اسکول کا درجہ حاصل ہو چکا ہے۔

    ان کی شاعری کے دو مجموعے ”کیسے رہوں جلاوطن“ (آٹھ ایڈیشن) اور ”ادھورے ادھورے“ (چار ایڈیشن) شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا انگریزی ترجمہ An Elegy for the Brave Heart of Tomorrow (2022) کے عنوان سے ڈاکٹر سحر گل نے کیا۔

    ڈاکٹر آکاش انصاری کے سینکڑوں قومی اور رومانوی گیت سندھ کے تقریباً تمام نامور گلوکاروں نے گائے ہیں۔

    15 فروری 2025ء کو مبینہ طور پر قاسم آباد، حیدرآباد میں ان کے گھر میں ڈاکٹر آکاش انصاری کو قتل کر کے ان کی لاش کو آگ لگا دی گئی۔ اس قتل کا الزام ان کے منہ بولے بیٹے پر عائد کیا گیا، جس کے خلاف مقدمہ عدالت میں پیش ہوا۔ آج عدالت نے ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس میں ملوث ملزم کو سزائے موت سنا دی ہے۔