Tag: قائد اعظم

  • مسٹر اینڈ مسز جناح کی کہانی

    مسٹر اینڈ مسز جناح کی کہانی

    اس نے اپنی موت کا دن خود منتخب کیا تھا، اسی لیے وہ اسی دن مری جس دن اس کی سالگرہ تھی۔ اس کے تکیے کے نیچے ہمیشہ نیند کی گولیاں رکھی ہوتی تھیں۔ کانجی کے مطابق رتی نے اپنی زندگی کا اختتام خود نیند کی گولیاں کھا کر کیا۔

    مرتے وقت بھی، آخری لمحوں میں، اس نے کانجی سے کہا تھا کہ اگر میں مر جاؤں تو میری بلیوں کا خیال رکھنا، انہیں کسی کو مت دینا۔ رتی اس دن بے حد خوش ہوتی تھی جس دن اس کی بلی کے ہاں نئے بچے پیدا ہوتے تھے۔

    رتی جناح کی دیوانی عاشق تھی۔ جناح کے نام اس نے جو خطوط لکھے، وہ درد اور محبت کی انتہا ہیں۔ ان خطوط کو پڑھتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ایک خط میں رتی جناح کو لکھتی ہے: ‘اے میرے محبوب! جیسی محبت میں نے تم سے کی ہے، ویسی محبت بہت کم مردوں کے نصیب میں آتی ہے۔

    ‘میں التجا کرتی ہوں کہ جس حادثے کی ابتدا محبت سے ہوئی تھی، اس کا انجام بھی محبت سے ہو۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ اگر میری محبت کی شدت میں ذرا سی بھی کمی آ جاتی تو شاید میں تمہارے ساتھ رہ پاتی۔

    ‘میں نے بہت تکلیف برداشت کی ہے، اس لیے کہ میں نے بہت شدت سے محبت کی ہے۔ میرے کرب کی گہرائی میری محبت کے برابر ہے۔’

    جناح سے جدائی کے بعد رتی اکثر آسکر وائلڈ کو پڑھا کرتی تھی۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوتی تو پاس بیٹھے لوگوں سے کہتی کہ مجھے اس کے اشعار پڑھ کر سناؤ۔

    جناح سے ناراضی کے بعد تاج ہوٹل کا وہ کمرہ، جہاں وہ رہتی تھی، اس کی تنہائی، محبت اور درد کا گواہ بن گیا۔ وہ اپنی بلیوں کے ساتھ وہیں رہتی تھی۔ سارا دن اسی ہوٹل کے کمرے میں گزرتا، جہاں نہ کوئی مصروفیت تھی اور نہ کوئی ہم نشین۔

    جب وہ اس کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر بہت اکتا جاتی تو سروجنی نائیڈو کے کمرے میں چلی جاتی۔ ابتدا میں سروجنی اسے وقت دیتی تھی، مگر آہستہ آہستہ وہ بھی اس سے تھک گئی اور اس کی آمد اسے خوش نہ کرتی تھی۔ یہی وہ رتی تھی جو ہندوستان کے سیکولر رہنما جناح کی عاشق اور بیوی تھی۔

    ہوٹل کے کمرے میں بلی کے بچے رتی کے ساتھ سوتے تھے۔ ان میں سے ایک بلی کا بچہ جب اس نے پدماجا کو بھیجا تو وہ خود ریلوے اسٹیشن تک گئی۔ پدماجا کو لکھے خط میں اس نے کہا کہ جس بلی کے بچے کو میں تمہارے پاس بھیج رہی ہوں وہ سب سے زیادہ ذہین ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں، میں ان ننھی، چمکتی آنکھوں سے جدا ہو رہی ہوں۔

    اسی خط میں اس نے لکھا کہ اسے کبھی اکیلا مت سلانا، یہ تنہائی کا احساس برداشت نہیں کر پائے گا۔ یہ کبھی اکیلا نہیں سویا۔ اسے اُبلی ہوئی مچھلی اور روسٹ مرغی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر کھلانا۔

    شملہ میں، جب وہ جناح کے ساتھ تھی، واپسی کے وقت اس کی ایک بلی کمرے سے گم ہو گئی۔ جناح بمبئی روانہ ہونے کی جلدی میں تھا، مگر رتی بلی کے بغیر جانے کو تیار نہ تھی۔ جناح اسے وہیں ہوٹل میں چھوڑ کر چلا گیا اور رتی بلی کو تلاش کرتی رہی۔

    رتی کو پالتو جانوروں سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ کتوں کے لیے بھی چاکلیٹ لے آتی تھی، مگر اس معاملے میں وہ خوش نصیب نہ تھی۔

    جناح سے علیحدگی کے بعد بھی وہ اپنے دل سے جناح کو نکال نہ سکی۔ جناح کی جدائی میں وہ محض ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ گئی تھی۔ جناح ایسا شخص تھا جس کے نزدیک جذبے سے زیادہ کام کی وقعت تھی۔ وہ جذبات کو نظر انداز کر سکتا تھا، مگر کام کو نہیں۔

    جناح کے اسی کام کے عشق نے اس حسین لڑکی کو اس قدر تنہا کر دیا کہ وہ راتیں اور دن بمبئی کے ہوٹلوں اور کلبوں میں گزارنے لگی۔ شادی کے بعد وہ شدید تنہائی کا شکار ہو گئی تھی۔ اس کا گھر اس کے لیے قید خانہ بن گیا تھا۔ جناح کے ساتھ سفر میں بھی ہر منزل پر ہوٹل کا کمرہ اس کی تنہائی کا منتظر ہوتا۔ جناح اپنی سیاسی مصروفیات میں گم ہو جاتا اور وہ کمرے میں قید ہو جاتی۔

    وہی جناح جو اس قدر سیکولر تھا کہ اگر کوئی اسے مولانا محمد علی جناح کہتا تو وہ اجلاس چھوڑ کر اٹھ جاتا، مگر اگر گاندھی کو مہاتما نہ کہا جاتا تو اس کے پیروکار ناراض ہو جاتے۔

    رتی نے جناح سے ایک بیٹی کو جنم دیا، جس کا اکیس مہینے تک نام تک نہ رکھا گیا۔ وہ بچی نوکروں کے سہارے پلی۔ پدماجا کے مطابق، اس معصوم بچی سے زیادہ قابلِ رحم کوئی نہ تھا، جس کے ماں باپ کے پاس اس کے لیے وقت نہ تھا۔ وہ بچی بڑی ہو کر دینا واڈیا بنی، جس نے اپنے والد کو چھوڑ کر اپنی پسند کی شادی کی۔

    رتی بے حد حسین تھی۔ موتی لال نہرو نے کہا تھا کہ وہ بمبئی کی ایک دلکش حسینہ تھی۔ جب وہ جناح کے چیمبر میں آتی تو اس کی میز پر بیٹھ کر ٹانگیں ہلاتی رہتی۔ اسے پالتو جانوروں کے ساتھ ساتھ خوش لباس رہنے کا بھی بے حد شوق تھا۔

    ایک اجلاس میں اس کے لباس پر اعتراض کیا گیا، حالانکہ جناح کو اس پر کبھی اعتراض نہ تھا۔ وہ اعتراض ایک پرچی پر لکھ کر جناح کو دیا گیا۔ جناح نے وہ پرچی رتی کو دے دی۔ رتی نے پرچی پڑھی اور فوراً اجلاس سے اٹھ کر چلی گئی۔

    رتی پنڈال میں بیٹھ کر بھی جناح کی تقاریر سنتی تھی۔ اس نے جلیانوالہ باغ کے فنڈ کے لیے گاندھی کو ایک چیک بھی بھیجا تھا، جس کی خبر اس نے جناح کو نہ دی۔

    کتاب میں لکھا ہے کہ رتی کو فاطمہ جناح پسند نہیں تھی، کیونکہ فاطمہ ایک نہایت سنجیدہ عورت تھیں، جو کبھی ملازمین سے بھی اونچی آواز میں بات نہ کرتی تھیں۔ اس کے برعکس رتی ہنگامہ، شور اور شاہ خرچی پسند کرنے والی عورت تھی، جو بات جناح کو ناپسند تھی۔

    اس میں رتی کا کوئی قصور نہ تھا۔ وہ ایک نہایت امیر اور آزاد ماحول میں پلی بڑھی تھی۔ اس کے والد کی صرف فرانس کی ریویرا میں اتنی جائیداد تھی جتنی مونا کو کے شہزادے یا بیلجیم کے بادشاہ کے پاس بھی نہ تھی، اور یہ تو یورپ کی بات تھی۔

    جناح اور رتی کی شادی عشق کی شادی تھی۔ سر دنشا پیٹٹ نے جناح پر اغوا کا مقدمہ درج کروایا، مگر عدالت میں رتی نے بیان دیا کہ جناح نے مجھے اغوا نہیں کیا، بلکہ میں نے جناح کو اغوا کیا ہے۔ جناح کی وہ مسکراہٹ رتی کو بے حد پسند تھی، جسے وہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتی تھی۔

    رتی کے خاندان کو پارسی برادری نے اپنے قبیلے سے خارج کر دیا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے محبوب جناح کے ساتھ کھڑی رہی، جسے وہ پیار سے ‘جے’ کہا کرتی تھی۔

    اس شادی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ دولہا اپنی دلہن کے لیے انگوٹھی لانا بھول گیا۔ جناح کے ایک قریبی دوست نے اپنی ہیرے کی انگوٹھی اتار کر دے دی، جو رتی کو پہنائی گئی۔

    یہ تمام باتیں اور اس سے کہیں زیادہ تفصیلات شیلا ریڈی نے اپنی کتاب “مسٹر اینڈ مسز جناح” میں قلم بند کی ہیں۔ یہ کتاب ایک طرف جناح اور رتی کی محبت کی سوانح عمری ہے، تو دوسری طرف ان دونوں کی ذاتی زندگی اور اس دور کی سیاست کا جامع بیان بھی۔ یہ 472 صفحات پر مشتمل کتاب ہے جس میں برصغیر کی آزادی، کانگریس کی سیاست اور اس زمانے کے سیاسی تضادات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

  • 25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    بانیِ پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو جھِرک (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا جو ایک تاجر تھے۔ قائدِ اعظم نے ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے اور لنکنز اِن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ کم عمری میں ہی ممتاز بیرسٹر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

    سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا اور ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے بڑے حامی رہے، اسی وجہ سے آپ کو ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ کہا گیا۔ 1913 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1930 کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے تصور کو قوت دی۔ 1937
    میں مسلم لیگ نے آپ کو ‘قائدِ اعظم’ کا خطاب دیا۔
    23 مارچ 1940 کو لاہور میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور قائدِ اعظم اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر برس کے قریب تھی اور صحت کمزور ہو چکی تھی۔

    بیماری اور آخری ایام

    25 مئی 1948 کو ڈاکٹروں نے آرام کی غرض سے کوئٹہ میں قیام کا مشورہ دیا۔ یکم جولائی 1948 کو کراچی آ کر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، مگر چھ جولائی کو طبیعت بگڑ گئی اور دوبارہ کوئٹہ جانے کا کہا گیا۔ اس سفر میں نہ کوئی سرکاری ڈاکٹر ساتھ تھا اور نہ مناسب پروٹوکول، فاطمہ جناح خود اپنے بھائی کو کوئٹہ لے گئیں۔

    14 جولائی 1948 کو ڈاکٹروں کے مشورے پر زیارت منتقل کیا گیا۔ 21 جولائی کو فاطمہ جناح نے حکومت کے ذمہ داران کو اطلاع دی کہ قائدِ اعظم کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طبی مدد درکار ہے، مگر خاطر خواہ اقدام نہ ہو سکا۔

    اس وقت پاکستان میں پی آئی اے موجود نہ تھی۔ صرف اورینٹ ایئر لائنز تھی، جس کی زیارت کے لیے فوری پرواز دستیاب نہ تھی۔ بالآخر کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش اپنی ذاتی کوششوں سے 23 جولائی کو کوئٹہ پہنچے اور مزید ڈاکٹروں اور نرس مس ڈنہم کو بھی بلایا گیا۔ فاطمہ جناح شب بیداری کے ساتھ تیمارداری کرتی رہیں، مگر افاقہ نہ ہوا۔

    قائدِ اعظم نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کراچی واپس لے جایا جائے۔ ایک موقع پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان عیادت کے لیے زیارت آئے۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب ‘میرا بھائی’ میں لکھتی ہیں کہ ملاقات کے بعد قائدِ اعظم نے کہا: ‘فاطی! تم سمجھتی ہو وہ میری عیادت کو آئے تھے؟ وہ تو یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں کب مروں گا۔’

    کراچی واپسی اور انتقال

    قائدِ اعظم کو کوئٹہ ایئر بیس سے ایئر فورس کے ‘وائکنگ’ طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا۔ جہاز میں ڈاکٹر الٰہی بخش، فاطمہ جناح، اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر، امین اور اسٹاف نرس مس ڈنہم موجود تھے۔

    ماڑی پور ایئر بیس پر صرف ان کے برطانوی ملٹری سیکریٹری کرنل جیفری نولز ایک پرانی ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے۔ بدقسمتی سے راستے میں ایمبولینس کا ایندھن ختم ہو گیا اور وہ کچرے کے ڈھیر کے پاس کافی دیر کھڑی رہی۔

    فاطمہ جناح اپنے دوپٹے سے مکھیاں ہٹاتی رہیں۔ بعد ازاں دوسری ایمبولینس منگوا کر انہیں گورنر ہاؤس پہنچایا گیا، مگر حالت نہ سنبھل سکی۔
    بالآخر 11 ستمبر 1948 کی رات 10 بج کر 20 منٹ پر پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح انتقال فرما گئے۔

  • سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں واقعہ ڈھورونارو شہر کی ریلوے سٹیشن، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ریلوے کے ذریعے سفر کیا۔
    جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا۔ جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن ، جو قیام پاکستان سے پہلے انگریز سرکار کے زیر قیادت قائم ہوا، ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل مقام ہے۔

    یہ ریلوے سٹیشن نہ صرف ٹرانسپورٹ کا ایک اہم مرکز تھا بلکہ اس کے ارد گرد کے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا بھی ایک بڑا سلسلہ تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں، جب ہندوستان کے بڑے شہروں کے درمیان سفر کرنے کا کوئی اور متبادل نہیں تھا، اس وقت اس ڈھورونارو ریلوے سٹیشن نے مال و متاع اور تجارت کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔
    یہ سٹیشن مونا باؤ سے میر پورخاص تک ریلوے لائن کا حصہ تھا، جو اس علاقے میں لوگوں کے آمد و رفت کی ایک سہولت فراہم کرتا تھا۔ یہاں نہ صرف مقامی لوگ بلکہ دور دراز کے علاقے سے بھی لوگ روزگار کی تلاش میں آتے تھے۔ ڈھورونارو کا کاروباری مرکز بننے کے پیچھے یہاں قائم ہونے والی فیکٹریوں کا بھی بڑا ہاتھ تھا، جو مقامی لوگوں کو ملازمت فراہم کرتی تھیں۔

    ڈھورونارو کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار اس ریلوی سٹیشن کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس سٹیشن کے ذریعے سفر کیا اور یہاں مختصر خطاب بھی کیا۔ اس واقعے نے اس جگہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا۔ یہ ان کی قیادت کا ایک لمحہ تھا، جس نے لوگوں کی قومی تحریک میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔

    اس سٹیشن کی تاریخی حیثیت اس کے ڈھانچے، طرز تعمیر اور یہاں کی وہ یادیں ہیں جو لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں۔ آج بھی، یہ سٹیشن نہ صرف اپنے ماضی کی کہانیوں کو سناتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کی تاریخ سے جوڑتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کی روحانیت اور قومی جذبہ موجود ہے، جو ملک کے اتحاد اور سلامتی کی علامت ہے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن کی شاندار تاریخ ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ یہ صرف ایک ٹرانزٹ پوائنٹ نہیں ہے، بلکہ ایک اہم ثقافتی اور معاشیاتی مرکز تھا، جو آج بھی اپنے ماضی کے آثار کی گواہی دیتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جو ہمیں ہمارے قومی ورثے کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔

    یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق ڈھورونارو ایک زمانے میں تجارت و کاروبار کا بڑا مرکز تھا، یہ شہر بئراجی اور صحرائی علائقوں کے مکینون کی ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا، ہندوستان سے تجارت کے لیے لوگ ریل گاڑی کے ذریعے ڈھورونارو آتے تھے۔

    مقامی سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت محمد ہاشم مہر نے ساگا ڈجیٹل کو بتایا کہ ڈھورونارو سندھ کا تاریخی، ٹقافتی، اور تجارتی شہر تھا، ایک دور تھا کہ یہاں فیکٹریاں ڈھورونارو کا تعارف تھیں، دور دراز سے لوگ روزگار کیلئے یہاں آتے تھے۔ ڈھورونارو سے جڑی ناقابل فراموش تاریخ ہے۔

    محمد ہاشم نے مزید بتایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ریل گاڑی کے زریعے ڈھورونارو پہنچے تھے، جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    مقامی سینئر صحافی عارف قریشی نے ساگا ڊیجيٹل کو بتایا کہ دھورونارو ایک دور میں مچھلی، کپاس اور مرچی کا مرکز تھا، وہ دور شہر اور پسگردائی کی خوشحالی کا دور تھا۔ آج بھی ماروی ایکسپریس کھوکھروپار سے ميرپورخاص چلتی ہے، لیکن مقرر اوقات پر گاڑی کے نہ آنے اور بوگیان کم ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔