Tag: قائد اعظم

  • پاکستان کے قومی پرچم کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منطوری کیسے ہوئی؟ قائد اعظم نے 11 اگست والے خطاب میں کیا کہا؟

    پاکستان کے قومی پرچم کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے اجلاس میں منطوری کیسے ہوئی؟ قائد اعظم نے 11 اگست والے خطاب میں کیا کہا؟

    آئین ساز اسمبلی کے دوسرے دن کا اجلاس 11 اگست 1947 بروز سوموار صبح 10 بجے عارضی چیئرمین جوگندر ناتھ منڈل کی صدارت میں شروع ہوا۔ چار ارکان جو گزشتہ دن اپنی اسناد پیش نہیں کر سکے تھے۔ انہوں نے اپنی اسناد پیش کرکے حاضری کے رجسٹر پر دستخط کرکے آئین ساز اسمبلی کے ارکان بن گئے۔

    اسمبلی کی کارروائی کے ایجنڈے میں پہلا اسم آئین ساز اسمبلی کے صدر کا انتخاب تھا۔ اس انتخاب میں قائداعظم محمد علی جناح کے سامنے کسی نے بھی فارم نہیں بھرا۔ اس لیے قائداعظم محمد علی جناح بلا مقابلہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کے پہلے صدر منتخب ہوگئے۔

    صدر کے انتخاب میں سات ارکان غیاث الدین پٹھان، حمیدالحق چوہدری، عبدالقاسم خان، لیاقت علی خان، خواجہ ناظم الدین، محمد ایوب کھوڑو اور مولانا شبیر احمد عثمانی کی جانب سے قائداعظم محمد علی جناح کے تجویز کنندہ کے طور پر سامنے آئے، جبکہ سات ارکان نے تائید میں دستخط کیے۔ جو اس طرح ہیں۔ ابو المحمود، محمد حبیب اللہ، نور محمد، سردار عبدالرب خان نشتر، خان افتخار حسین خان، سردار بہادر خان اور غضنفر علی خان۔

    عارضی چیئرمین نے اس موقع پر اعلان کرتے ہوئے قائداعظم کے بلا مقابلہ صدر اسمبلی منتخب ہونے کا اعلان کیا، انہیں اسپیکر کی کرسی پر بیٹھنے کی گزارش کرتے ہوئے خود ڈائس سے نیچے اتر آئے اور جناح نے صدر اسمبلی کی نشست سنبھالی، جس کے بعد لیاقت علی خان، کرن شنکر رائے، محمد ایوب کھوڑو، جوگندر ناتھ منڈل، عبدالقاسم خان اور بیگم جہاں آرا شاہنواز نے تقاریر کرتے ہوئے انہیں مبارکبادیں دیں۔

    اس کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی مشہور 11 اگست والی آئین ساز اسمبلی کی تقریر کی، جو اس وقت بھی سنسرشپ کا شکار ہوئی تھی۔ ان کی یہ تقریر اقلیتوں کے حقوق اور پاکستان کے مستقل کے بارے میں ان کی سیاسی بصیرت کو ظاہر کرتی ہے۔ جناح صاحب کی تقریر کا مکمل متن پیش کیا جاتا ہے۔

    جناب صدر (قائداعظم محمد علی جناح): اپنی پہلی صدر کے طور پر انتخاب پر میں آپ کا دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہوں، آپ نے مجھے بہت بڑے اعزاز سے نوازا ہے، یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو کوئی خودمختار اسمبلی کسی کو دے سکتی ہے۔ میں ان رہنماؤں کا بھی شکر گزار ہوں جنہوں نے میری خدمات کو سراہا اور میرے حوالے سے اپنے ذاتی خیالات کا اظہار کیا۔

    مجھے پوری امید ہے کہ آپ کے ساتھ اور تعاون سے ہم اس آئین ساز اسمبلی کو دنیا کے لیے ایک مثال بنائیں گے۔ آئین ساز اسمبلی کو بنیادی طور پر دو اہم کام سرانجام دینے ہوں گے۔ پہلا انتہائی اہم اور مشکل کام، جو ہمارے ذمے ہے، وہ پاکستان کے مستقبل کے آئین کو ترتیب دینا اور دوسرا پاکستان کے مکمل خود مختار وفاقی قانون ساز ادارے کے طور پر کام کرنا ہے۔ ہمیں پاکستان کی وفاقی قانون ساز اسمبلی کے لیے عبوری آئین کو اپنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنی ہوگی۔

    آپ بھی جانتے ہیں کہ نہ صرف ہم خود بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ پوری دنیا اس بے مثال اور بے نظیر انقلاب پر حیران ہے، جس میں اس برصغیر میں دو آزاد اور خود مختار حکومتیں وجود میں آئی ہیں۔

    اس بے مثال واقعے کی اس سے پہلے دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ عظیم الشان برصغیر، جہاں ہر قسم کے لوگ رہتے ہیں، وہاں یہ منصوبہ لایا گیا جو ایک شاندار کارنامہ ہے۔ سب سے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ ہم نے یہ سب کچھ اپنے عظیم کردار کی وجہ سے ارتقا کے اصولوں کے تحت پرامن طریقے سے حاصل کیا ہے۔

    اس اسمبلی میں ہمارے ذمے لگائے گئے پہلے کام کے حوالے سے، میں اس وقت اپنی پہلی تقریر میں کسی سوچے سمجھے منصوبے کی بات نہیں کروں گا، لیکن میں کچھ باتیں آپ کے ساتھ ضرور شیئر کروں گا۔ پہلی اور سب سے اہم بات جس پر میں زور دینا چاہتا ہوں، یہ یاد رکھیں کہ آپ اب ایک خود مختار قانون ساز ادارے کے ارکان ہیں اور آپ کے پاس بہت زیادہ اختیارات ہیں۔

    لہٰذا اب آپ پر بہت زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ اپنے فیصلے کیسے کرتے ہیں۔ میں اپنی پہلی رائے آپ کے سامنے یہ پیش کرنا چاہتا ہوں، جس سے بلاشبہ آپ بھی متفق ہوں گے کہ حکومت کا پہلا فرض امن و امان قائم رکھنا ہے تاکہ اس کے عوام کی جان، مال اور مذہبی عقائد کا ریاست کی طرف سے مکمل تحفظ ہو۔

    دوسری بات جو میں آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، جس سے اس وقت پورا ہندوستان دوچار ہے، میں یہ نہیں کہتا کہ دوسرے ممالک اس مرض سے آزاد ہیں، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ہماری حالت دوسروں کے مقابلے میں بہت زیادہ خراب ہے۔ یہ لعنت ہے رشوت اور اقربا پروری کی۔ کرپشن ہمارے لیے زہر قاتل ہے، جس کا ہمیں انتہائی سختی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔ مجھے امید ہے کہ آپ اس اسمبلی میں جتنی جلد ہو سکے اس سلسلے میں (رشوت اور اقربا پروری کے خاتمے کے لیے) مناسب قدم اٹھائیں گے۔

    بلیک مارکیٹنگ ایک دوسری وبا ہے۔ خیر، مجھے معلوم ہے کہ چور بازاری کرنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں، انہیں رائج عدالتی تصورات کے مطابق سزا بھی دی جاتی ہے اور ان پر کچھ جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ اب جب ہمیں مسلسل خوراک اور روزمرہ کی ضروری اشیا کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، تب آپ کو اس دیوہیکل دیو کو سامنا کرنا ہوگا۔ جو شخص بلیک مارکیٹنگ کرتا ہے، میں سمجھتا ہوں کہ وہ سنگین جرم کا مرتکب ہوتا ہے۔

    بلیک مارکیٹنگ کرنے والے افراد انتہائی ہوشیار اور چالاک ہوتے ہیں، جب وہ چور بازاری میں ملوث ہوں تو انہیں سخت ترین سزا دینی چاہیے۔ کیونکہ وہ کھانے پینے اور استعمال کی ضروری اشیا کی موثر نظام کے پورے ضابطے کو درہم برہم کر دیتے ہیں۔ ان کی حرص کی وجہ سے لوگ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

    ایک بات جس نے مجھے پریشان کیا ہے، وہ ہے اقربا پروری۔ بہت سی خوبیوں اور برائیوں کے ساتھ اقربا پروری اور بے ایمانی بھی ہمیں ورثے میں ملی ہے۔ اس برائی کا ہمیں بے رحمی سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

    میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میں کسی بھی قسم کی اپنوں نوازی، اقربا پروری یا کسی بھی قسم کا اثر براہ راست یا بالواسطہ برداشت نہیں کروں گا۔ جہاں بھی مجھے معلوم ہوا کہ ایسا رواج رائج ہے، کم ہو یا خواہ زیادہ، لیکن میں ہرگز قبول نہیں کروں گا۔

    مجھے معلوم ہے کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں، جو ہندوستان کی تقسیم کو قبول نہیں کر رہے، وہ پنجاب اور بنگال کی تقسیم سے بالکل ہی متفق نہیں ہیں۔ اس متعلق بہت کچھ کہا گیا ہے، لیکن اب جب یہ تقسیم ہو گئی ہے، تو اس کے بعد ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم بھی اسے قبول کریں اور انتہائی ادب و احترام کے ساتھ اس معاہدے کی پاسداری کریں۔ یہ اب حتمی ہے اور ہم سب اس پر عمل کرنے کے لیے پابند ہیں۔

    یاد رکھیں، جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس شاندار انقلاب سے پہلے کوئی روایت نہیں ملتی۔ جب دو فریقوں میں ایک برادری اکثریت میں ہو اور دوسری اقلیت میں ہو تو اس وقت ان دونوں فریقوں میں موجود فرق اور احساسات کو بھی سمجھا جا سکتا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے پاس اس عمل کے علاوہ کوئی دوسری راہ موجود تھی؟ تقسیم ناگزیر تھی۔ پاکستان اور ہندوستان دونوں ملکوں میں ایسے گروہ موجود ہیں، جو شاید اس سے متفق نہ ہوں، جنہیں شاید یہ پسند نہ ہو، مگر میری رائے میں اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی دوسرا حل موجود نہیں تھا۔

     مجھے پختہ یقین ہے کہ مستقبل میں تاریخ بھی اس تقسیم کے حق میں فیصلہ صادر کرے گی۔ آگے چل کر وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے حقیقی تجربات سے بھی یہ ثابت ہو جائے گا کہ ہندوستان کے آئینی بحران کا اس سے بہتر کوئی دوسرا حل موجود نہیں تھا۔ متحدہ ہندوستان کا نظریہ کبھی بھی نہیں چل سکتا تھا، میرے خیال میں اس سے ہم بڑی تباہی کی طرف دھکیل دیے جاتے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ نظریہ، ہندوستان کو متحد رکھنے کا، درست ہو، ہو سکتا ہے کہ درست نہ بھی ہو، اس کا پتا آنے والے وقت میں چلے گا۔ بہرحال یہ ممکن نہیں تھا کہ ایک یا دوسری ریاست میں اقلیتوں کا معاملہ اس طرح نہ اٹھایا جاتا۔ یہ ناگزیر تھا، اس کے علاوہ کوئی دوسرا حل موجود نہیں ہے۔

    اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ آگے کیا کیا جائے؟ اب اگر ہم پاکستان کی اس عظیم مملکت کو آسودہ اور خوشحال بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں پوری طرح عوام، خاص طور پر غریبوں کی بہتری اور بھلائی پر توجہ دینی چاہیے۔ اگر آپ ماضی کو بھول کر، کدورتوں کو دفن کرکے، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے آگے بڑھیں گے تو آپ یقینی طور پر کامیاب ہوں گے۔

    اگر آپ اپنا ماضی بھول کر، سب ایک ہو کر متحدہ جذبے کے ساتھ کام کریں، پھر خواہ آپ میں سے ہر ایک فرد کا تعلق کسی بھی برادری سے ہو، خواہ ماضی میں آپ کے تعلقات کیسے بھی رہے ہوں، خواہ کسی بھی رنگ اور نسل کا ہو، کسی بھی ذات یا مذہب سے ہو، وہ اس ریاست کا برابر کے حقوق کا حقدار، عزت نفس اور ذمہ داریوں والا شہری ہے۔ اگر آپ ایسا کریں گے تو پھر کوئی بھی آپ کو ترقی کی بلندیوں تک پہنچنے سے نہیں روک سکتا۔

    میں اس بات پر زیادہ زور نہیں دے سکتا۔ ہمیں اس جذبے کے ساتھ کام شروع کرنا چاہیے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اکثریت اور اقلیت، ہندو اور مسلمان ہونے والی ہر طرح کی کشیدگی ختم ہو جائے گی، کیونکہ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو ان میں پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سنی موجود ہیں، اسی طرح ہندوؤں میں برہمن، ویش، کھتری، بنگالی اور مدراسی موجود ہیں، جو فرق ختم ہو جائے گا۔

    حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ مجھ سے پوچھیں گے تو ہندوستان کی آزادی اور خودمختاری حاصل کرنے کی راہ میں یہی سب سے بڑی رکاوٹ تھی، ورنہ ہم بہت پہلے آزاد ہو چکے ہوتے۔ دنیا کی کوئی طاقت، خاص طور پر چالیس کروڑ افراد پر مشتمل قوم پر فتح حاصل نہیں کر سکتی۔ اگر ہمارے درمیان یہ تفرقات نہ ہوتے تو کوئی بھی ہمیں اتنے عرصے تک غلام نہ بنا سکتا تھا۔ (تالیاں)۔

    لہٰذا ہمیں اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ آپ آزاد ہیں۔ آپ اپنے مندروں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے آزاد ہیں، آپ اس ریاست پاکستان کی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے آزاد ہیں۔ پھر خواہ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب، ذات یا عقیدے سے ہو، اس کا ریاست کے کاروبار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ کچھ عرصہ پہلے انگلینڈ کے حالات بھی آج کے ہندوستان کے حالات کے مقابلے میں اس سے بھی زیادہ خراب تھے۔ رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فرقے ایک دوسرے کا قتل عام کر رہے تھے۔ اتنی حد تک کہ اس وقت بھی کچھ ریاستیں موجود ہیں، جہاں بعض خاص طبقات کے خلاف تعصب اور پابندیاں موجود ہیں۔

    خدا کا شکر ہے کہ ہمیں ایسے دن نہیں دیکھنے پڑے۔ ہم اس سفر کی ابتدا ایسے وقت میں کرنے جا رہے ہیں جب ہمارے درمیان کوئی تفرقہ موجود نہیں، دو فریقوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ مختلف ذاتوں اور عقائد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ ہم اپنی شروعات اس بنیادی اصول کے تحت کر رہے ہیں کہ ہم سب اس ریاست کے شہری ہیں اور برابر کے شہری ہیں۔ (تالیاں)۔

    انگلینڈ کے لوگوں کو بھی وقت گزرنے کے ساتھ مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، وہ بھی اپنے اوپر ریاست کی طرف سے عائد کردہ بوجھ اور ذمہ داریاں پوری کرکے آگ کے اس مرحلے سے گزر گئے۔ اب آپ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت وہاں نہ پروٹسٹنٹ موجود ہیں اور نہ ہی کیتھولک۔ وہاں اب صرف ایک چیز موجود ہے کہ اب ہر شخص ایک شہری ہے، ہر ایک برطانیہ کا برابر کا شہری ہے اور تمام شہریوں کی مملکت میں برابر حیثیت ہے۔

    میں سمجھتا ہوں کہ اب ہمیں ایک نصب العین کا تعین کرتے ہوئے یہ سوچنا پڑے گا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی اعتبار سے اس مملکت کے برابر کے شہری کی حیثیت سے ہندو، ہندو نہیں رہیں گے اور مسلمان، مسلمان نہیں رہیں گے، مذہبی معنوں میں نہیں کیونکہ یہ ذاتی عقیدے کا معاملہ ہے۔

    خیر، میں آپ کا مزید وقت نہیں لینا چاہتا۔ آپ سب نے مجھے اعزاز بخشا ہے، اس کے لیے ایک دفعہ پھر میں آپ سب کا شکر گزار ہوں۔ میں ہمیشہ عدل اور انصاف کے سنہری اصولوں سے رہنمائی لیتا رہوں گا۔ جیسا کہ سیاسی زبان میں کہا جاتا ہے کہ تعصب، بدخواہی یا دوسرے لفظوں میں طرف داری یا اقربا پروری کو قریب آنے بھی نہیں دوں گا۔ آپ سب کا تعاون اور ساتھ میرے ساتھ رہا تو بہت جلد میں پاکستان کو دنیا کی عظیم ترین قوموں کی صف میں دیکھنے کے لیے منتظر ہوں۔

    مندرجہ بالا تقریر میں جناح صاحب نے اتحاد، برابری اور مذہبی آزادی کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان کو ایک وفاقی اور جمہوری ریاست کے طور پر ابھارنے کا تصور کیا، جہاں تمام شہریوں کے ساتھ ان کے مذہب، ذات اور نسل کا فرق رکھے بغیر برابری کا سلوک کیا جائے گا، مندرجہ بالا تقریر میں انہوں نے اس بات کو دہرایا کہ پاکستان کے تمام شہریوں کو ان کے مذہبی پس منظر سے قطع نظر، قومی معاملات میں حصہ لینے کے برابر حقوق اور مواقع حاصل ہوں گے۔

    قائداعظم محمد علی جناح نے اقتصادی ترقی کی اہمیت اور ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے عوام اور سیاست دانوں پر زور دیا کہ وہ ایک خوشحال اور ترقی یافتہ قوم کی تعمیر کے لیے مل کر کام کریں، جہاں ہر شہری عزت اور وقار کی زندگی گزار سکے۔ ان کی 11 اگست والی تقریر نے پاکستان کے آئین اور رہنما اصولوں کی بنیاد رکھی۔

    مندرجہ بالا تقریر کرنے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح نے امریکی اور آسٹریلوی حکومتوں کے غیر اسگالی کے پیغامات پڑھ کر سنائے۔

    اس کے بعد ایجنڈا آئٹم نمبر دو کے تحت لیاقت علی خان نے وفاق پاکستان کے جھنڈے کے بارے میں قرارداد پیش کی کہ پاکستان کے جھنڈے کا رنگ گہرا سبز اور سفید ہوگا۔ اس کی شکل مستطیل ہوگی۔ سفید رنگ پورے جھنڈے کا 25 فیصد ہوگا، جو سرے کی طرف ہوگا۔ سبز رنگ کے مرکز میں ایک پہلے تاریخ والا ہلالی چاند ہوگا، جس کے اندر پانچ کونوں والا ستارہ ہوگا۔

    مندرجہ بالا قرارداد پیش کرنے کے بعد لیاقت علی خان نے پاکستان کے جھنڈے کو آئین ساز اسمبلی میں لہرایا اور تمام ارکان کو دکھایا۔ ان کی یہ تصویر بہت زیادہ مشہور ہوئی۔ جو آج دن تک استعمال ہوتی ہے۔ اس موقع پر لیاقت علی خان نے ایک تقریر بھی کی، جس میں انہوں نے تجویز کردہ پرچم اور پرچم کے کردار کے بارے میں بات کی۔

    اس موقع پر مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن بھیم سین سچر نے قرارداد میں ترمیم پیش کرتے ہوئے کہا کہ سات ارکان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، جو چوبیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ اس ایوان میں پیش کرے۔ جس پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن دھریندر ناتھ دتا نے بھی بھیم سین سچر کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا پرچم ایسا ہونا چاہیے جس میں ہم اقلیتوں کی بھی بھرپور نمائندگی ہونی چاہیے۔

    اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے ارکان کا موقف تھا کہ پاکستان کا جھنڈا مذہبی بنیادوں پر ترتیب دیا جا رہا ہے۔ جبکہ مسلم لیگ کے جھنڈے ہی کو پاکستان کا جھنڈا قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے لیاقت علی خان نے کہا کہ چاند اور تارے ہر کسی کی مشترکہ ملکیت ہیں۔

    جس پر مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے ایک دوسرے رکن کرن شنکر رائے نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو پھر سورج بھی تمام انسانوں کا مشترکہ ورثہ ہے، پھر سورج کو جھنڈے میں کیوں شامل نہیں کیا جاتا۔ جواب الجواب دیتے ہوئے لیاقت علی خان نے کہا کہ سورج کی روشنی جلانے والی، جبکہ چاند کی روشنی فرحت بخشنے والی ہے، اور میں ایسا پرچم چاہتا ہوں جو ہمیں ہموار روشنی دے کر ہمیں فرحت بخشے۔ تھوڑی بحث و مباحثے کے بعد بھیم سین سچر کی ترمیم مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے موجودہ قومی پرچم کی منظوری پاکستان کی آئین ساز اسمبلی سے لے لی گئی۔

    مندرجہ بالا کارروائی کے بعد کچھ دوسری قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔ جن میں اسمبلی کے قواعد و ضوابط بنانے کے لیے، اسمبلی کے صدر کے اختیارات کا تعین کرنے کے لیے، اور اسمبلی میں خالی ہونے والی نشستوں کے انتخاب کے لیے طریقہ کار طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ سردار عبدالرب خان نشتر نے ایک دوسری قرارداد پیش کرتے ہوئے ایک پارلیمانی کمیٹی کی تجویز پیش کی، جو شاہی ریاستوں اور قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والوں سے مذاکرات کرکے ان کی آئین ساز اسمبلی میں شمولیت یقینی بنائے۔ یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔ آخری قرارداد مغربی پنجاب سے تعلق رکھنے والے رکن غضنفر علی خان نے پیش کی، جس کے مطابق اسمبلی کے ارکان کی تنخواہیں طے کرنے کا اختیار اسمبلی کے صدر کو ہونا چاہیے۔ یہ قرارداد بھی منظور کر لی گئی۔

    آخر میں قائداعظم محمد علی جناح نے اسمبلی کا اجلاس 12 اگست 1947 کی صبح 10 بجے تک ملتوی کر دیا۔

  • مسٹر اینڈ مسز جناح کی کہانی

    مسٹر اینڈ مسز جناح کی کہانی

    اس نے اپنی موت کا دن خود منتخب کیا تھا، اسی لیے وہ اسی دن مری جس دن اس کی سالگرہ تھی۔ اس کے تکیے کے نیچے ہمیشہ نیند کی گولیاں رکھی ہوتی تھیں۔ کانجی کے مطابق رتی نے اپنی زندگی کا اختتام خود نیند کی گولیاں کھا کر کیا۔

    مرتے وقت بھی، آخری لمحوں میں، اس نے کانجی سے کہا تھا کہ اگر میں مر جاؤں تو میری بلیوں کا خیال رکھنا، انہیں کسی کو مت دینا۔ رتی اس دن بے حد خوش ہوتی تھی جس دن اس کی بلی کے ہاں نئے بچے پیدا ہوتے تھے۔

    رتی جناح کی دیوانی عاشق تھی۔ جناح کے نام اس نے جو خطوط لکھے، وہ درد اور محبت کی انتہا ہیں۔ ان خطوط کو پڑھتے ہوئے آنکھیں بھیگ جاتی ہیں اور دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے۔ ایک خط میں رتی جناح کو لکھتی ہے: ‘اے میرے محبوب! جیسی محبت میں نے تم سے کی ہے، ویسی محبت بہت کم مردوں کے نصیب میں آتی ہے۔

    ‘میں التجا کرتی ہوں کہ جس حادثے کی ابتدا محبت سے ہوئی تھی، اس کا انجام بھی محبت سے ہو۔ میں تم سے محبت کرتی ہوں۔ اگر میری محبت کی شدت میں ذرا سی بھی کمی آ جاتی تو شاید میں تمہارے ساتھ رہ پاتی۔

    ‘میں نے بہت تکلیف برداشت کی ہے، اس لیے کہ میں نے بہت شدت سے محبت کی ہے۔ میرے کرب کی گہرائی میری محبت کے برابر ہے۔’

    جناح سے جدائی کے بعد رتی اکثر آسکر وائلڈ کو پڑھا کرتی تھی۔ جب وہ زیادہ بیمار ہوتی تو پاس بیٹھے لوگوں سے کہتی کہ مجھے اس کے اشعار پڑھ کر سناؤ۔

    جناح سے ناراضی کے بعد تاج ہوٹل کا وہ کمرہ، جہاں وہ رہتی تھی، اس کی تنہائی، محبت اور درد کا گواہ بن گیا۔ وہ اپنی بلیوں کے ساتھ وہیں رہتی تھی۔ سارا دن اسی ہوٹل کے کمرے میں گزرتا، جہاں نہ کوئی مصروفیت تھی اور نہ کوئی ہم نشین۔

    جب وہ اس کمرے میں بیٹھ بیٹھ کر بہت اکتا جاتی تو سروجنی نائیڈو کے کمرے میں چلی جاتی۔ ابتدا میں سروجنی اسے وقت دیتی تھی، مگر آہستہ آہستہ وہ بھی اس سے تھک گئی اور اس کی آمد اسے خوش نہ کرتی تھی۔ یہی وہ رتی تھی جو ہندوستان کے سیکولر رہنما جناح کی عاشق اور بیوی تھی۔

    ہوٹل کے کمرے میں بلی کے بچے رتی کے ساتھ سوتے تھے۔ ان میں سے ایک بلی کا بچہ جب اس نے پدماجا کو بھیجا تو وہ خود ریلوے اسٹیشن تک گئی۔ پدماجا کو لکھے خط میں اس نے کہا کہ جس بلی کے بچے کو میں تمہارے پاس بھیج رہی ہوں وہ سب سے زیادہ ذہین ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو ہیں، میں ان ننھی، چمکتی آنکھوں سے جدا ہو رہی ہوں۔

    اسی خط میں اس نے لکھا کہ اسے کبھی اکیلا مت سلانا، یہ تنہائی کا احساس برداشت نہیں کر پائے گا۔ یہ کبھی اکیلا نہیں سویا۔ اسے اُبلی ہوئی مچھلی اور روسٹ مرغی کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے بنا کر کھلانا۔

    شملہ میں، جب وہ جناح کے ساتھ تھی، واپسی کے وقت اس کی ایک بلی کمرے سے گم ہو گئی۔ جناح بمبئی روانہ ہونے کی جلدی میں تھا، مگر رتی بلی کے بغیر جانے کو تیار نہ تھی۔ جناح اسے وہیں ہوٹل میں چھوڑ کر چلا گیا اور رتی بلی کو تلاش کرتی رہی۔

    رتی کو پالتو جانوروں سے بے پناہ محبت تھی۔ وہ کتوں کے لیے بھی چاکلیٹ لے آتی تھی، مگر اس معاملے میں وہ خوش نصیب نہ تھی۔

    جناح سے علیحدگی کے بعد بھی وہ اپنے دل سے جناح کو نکال نہ سکی۔ جناح کی جدائی میں وہ محض ہڈیوں کا پنجر بن کر رہ گئی تھی۔ جناح ایسا شخص تھا جس کے نزدیک جذبے سے زیادہ کام کی وقعت تھی۔ وہ جذبات کو نظر انداز کر سکتا تھا، مگر کام کو نہیں۔

    جناح کے اسی کام کے عشق نے اس حسین لڑکی کو اس قدر تنہا کر دیا کہ وہ راتیں اور دن بمبئی کے ہوٹلوں اور کلبوں میں گزارنے لگی۔ شادی کے بعد وہ شدید تنہائی کا شکار ہو گئی تھی۔ اس کا گھر اس کے لیے قید خانہ بن گیا تھا۔ جناح کے ساتھ سفر میں بھی ہر منزل پر ہوٹل کا کمرہ اس کی تنہائی کا منتظر ہوتا۔ جناح اپنی سیاسی مصروفیات میں گم ہو جاتا اور وہ کمرے میں قید ہو جاتی۔

    وہی جناح جو اس قدر سیکولر تھا کہ اگر کوئی اسے مولانا محمد علی جناح کہتا تو وہ اجلاس چھوڑ کر اٹھ جاتا، مگر اگر گاندھی کو مہاتما نہ کہا جاتا تو اس کے پیروکار ناراض ہو جاتے۔

    رتی نے جناح سے ایک بیٹی کو جنم دیا، جس کا اکیس مہینے تک نام تک نہ رکھا گیا۔ وہ بچی نوکروں کے سہارے پلی۔ پدماجا کے مطابق، اس معصوم بچی سے زیادہ قابلِ رحم کوئی نہ تھا، جس کے ماں باپ کے پاس اس کے لیے وقت نہ تھا۔ وہ بچی بڑی ہو کر دینا واڈیا بنی، جس نے اپنے والد کو چھوڑ کر اپنی پسند کی شادی کی۔

    رتی بے حد حسین تھی۔ موتی لال نہرو نے کہا تھا کہ وہ بمبئی کی ایک دلکش حسینہ تھی۔ جب وہ جناح کے چیمبر میں آتی تو اس کی میز پر بیٹھ کر ٹانگیں ہلاتی رہتی۔ اسے پالتو جانوروں کے ساتھ ساتھ خوش لباس رہنے کا بھی بے حد شوق تھا۔

    ایک اجلاس میں اس کے لباس پر اعتراض کیا گیا، حالانکہ جناح کو اس پر کبھی اعتراض نہ تھا۔ وہ اعتراض ایک پرچی پر لکھ کر جناح کو دیا گیا۔ جناح نے وہ پرچی رتی کو دے دی۔ رتی نے پرچی پڑھی اور فوراً اجلاس سے اٹھ کر چلی گئی۔

    رتی پنڈال میں بیٹھ کر بھی جناح کی تقاریر سنتی تھی۔ اس نے جلیانوالہ باغ کے فنڈ کے لیے گاندھی کو ایک چیک بھی بھیجا تھا، جس کی خبر اس نے جناح کو نہ دی۔

    کتاب میں لکھا ہے کہ رتی کو فاطمہ جناح پسند نہیں تھی، کیونکہ فاطمہ ایک نہایت سنجیدہ عورت تھیں، جو کبھی ملازمین سے بھی اونچی آواز میں بات نہ کرتی تھیں۔ اس کے برعکس رتی ہنگامہ، شور اور شاہ خرچی پسند کرنے والی عورت تھی، جو بات جناح کو ناپسند تھی۔

    اس میں رتی کا کوئی قصور نہ تھا۔ وہ ایک نہایت امیر اور آزاد ماحول میں پلی بڑھی تھی۔ اس کے والد کی صرف فرانس کی ریویرا میں اتنی جائیداد تھی جتنی مونا کو کے شہزادے یا بیلجیم کے بادشاہ کے پاس بھی نہ تھی، اور یہ تو یورپ کی بات تھی۔

    جناح اور رتی کی شادی عشق کی شادی تھی۔ سر دنشا پیٹٹ نے جناح پر اغوا کا مقدمہ درج کروایا، مگر عدالت میں رتی نے بیان دیا کہ جناح نے مجھے اغوا نہیں کیا، بلکہ میں نے جناح کو اغوا کیا ہے۔ جناح کی وہ مسکراہٹ رتی کو بے حد پسند تھی، جسے وہ دنیا کی ہر چیز سے زیادہ عزیز رکھتی تھی۔

    رتی کے خاندان کو پارسی برادری نے اپنے قبیلے سے خارج کر دیا، مگر اس کے باوجود وہ اپنے محبوب جناح کے ساتھ کھڑی رہی، جسے وہ پیار سے ‘جے’ کہا کرتی تھی۔

    اس شادی کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی تھا کہ دولہا اپنی دلہن کے لیے انگوٹھی لانا بھول گیا۔ جناح کے ایک قریبی دوست نے اپنی ہیرے کی انگوٹھی اتار کر دے دی، جو رتی کو پہنائی گئی۔

    یہ تمام باتیں اور اس سے کہیں زیادہ تفصیلات شیلا ریڈی نے اپنی کتاب “مسٹر اینڈ مسز جناح” میں قلم بند کی ہیں۔ یہ کتاب ایک طرف جناح اور رتی کی محبت کی سوانح عمری ہے، تو دوسری طرف ان دونوں کی ذاتی زندگی اور اس دور کی سیاست کا جامع بیان بھی۔ یہ 472 صفحات پر مشتمل کتاب ہے جس میں برصغیر کی آزادی، کانگریس کی سیاست اور اس زمانے کے سیاسی تضادات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

  • 25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    25 دسمبر 1876: قائدِ اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش: قائدِ اعظم کا انتقال کیسے ہوا؟

    بانیِ پاکستان محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو جھِرک (سندھ) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام پونجا جناح تھا جو ایک تاجر تھے۔ قائدِ اعظم نے ابتدائی تعلیم کراچی کے سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن گئے اور لنکنز اِن سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کی۔ کم عمری میں ہی ممتاز بیرسٹر کے طور پر پہچانے جانے لگے۔

    سیاسی زندگی کا آغاز انڈین نیشنل کانگریس سے کیا اور ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے بڑے حامی رہے، اسی وجہ سے آپ کو ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ کہا گیا۔ 1913 میں کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1930 کے بعد مسلمانوں کے لیے علیحدہ وطن کے تصور کو قوت دی۔ 1937
    میں مسلم لیگ نے آپ کو ‘قائدِ اعظم’ کا خطاب دیا۔
    23 مارچ 1940 کو لاہور میں قراردادِ لاہور منظور ہوئی، جس میں مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل آزاد ریاست کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا اور قائدِ اعظم اس کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اس وقت آپ کی عمر ستر برس کے قریب تھی اور صحت کمزور ہو چکی تھی۔

    بیماری اور آخری ایام

    25 مئی 1948 کو ڈاکٹروں نے آرام کی غرض سے کوئٹہ میں قیام کا مشورہ دیا۔ یکم جولائی 1948 کو کراچی آ کر سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا، مگر چھ جولائی کو طبیعت بگڑ گئی اور دوبارہ کوئٹہ جانے کا کہا گیا۔ اس سفر میں نہ کوئی سرکاری ڈاکٹر ساتھ تھا اور نہ مناسب پروٹوکول، فاطمہ جناح خود اپنے بھائی کو کوئٹہ لے گئیں۔

    14 جولائی 1948 کو ڈاکٹروں کے مشورے پر زیارت منتقل کیا گیا۔ 21 جولائی کو فاطمہ جناح نے حکومت کے ذمہ داران کو اطلاع دی کہ قائدِ اعظم کی حالت تشویشناک ہے اور فوری طبی مدد درکار ہے، مگر خاطر خواہ اقدام نہ ہو سکا۔

    اس وقت پاکستان میں پی آئی اے موجود نہ تھی۔ صرف اورینٹ ایئر لائنز تھی، جس کی زیارت کے لیے فوری پرواز دستیاب نہ تھی۔ بالآخر کرنل ڈاکٹر الٰہی بخش اپنی ذاتی کوششوں سے 23 جولائی کو کوئٹہ پہنچے اور مزید ڈاکٹروں اور نرس مس ڈنہم کو بھی بلایا گیا۔ فاطمہ جناح شب بیداری کے ساتھ تیمارداری کرتی رہیں، مگر افاقہ نہ ہوا۔

    قائدِ اعظم نے خواہش ظاہر کی کہ انہیں کراچی واپس لے جایا جائے۔ ایک موقع پر وزیرِ اعظم لیاقت علی خان عیادت کے لیے زیارت آئے۔ فاطمہ جناح اپنی کتاب ‘میرا بھائی’ میں لکھتی ہیں کہ ملاقات کے بعد قائدِ اعظم نے کہا: ‘فاطی! تم سمجھتی ہو وہ میری عیادت کو آئے تھے؟ وہ تو یہ دیکھنے آئے تھے کہ میں کب مروں گا۔’

    کراچی واپسی اور انتقال

    قائدِ اعظم کو کوئٹہ ایئر بیس سے ایئر فورس کے ‘وائکنگ’ طیارے کے ذریعے کراچی لایا گیا۔ جہاز میں ڈاکٹر الٰہی بخش، فاطمہ جناح، اے ڈی سی لیفٹیننٹ مظہر، امین اور اسٹاف نرس مس ڈنہم موجود تھے۔

    ماڑی پور ایئر بیس پر صرف ان کے برطانوی ملٹری سیکریٹری کرنل جیفری نولز ایک پرانی ایمبولینس کے ساتھ موجود تھے۔ بدقسمتی سے راستے میں ایمبولینس کا ایندھن ختم ہو گیا اور وہ کچرے کے ڈھیر کے پاس کافی دیر کھڑی رہی۔

    فاطمہ جناح اپنے دوپٹے سے مکھیاں ہٹاتی رہیں۔ بعد ازاں دوسری ایمبولینس منگوا کر انہیں گورنر ہاؤس پہنچایا گیا، مگر حالت نہ سنبھل سکی۔
    بالآخر 11 ستمبر 1948 کی رات 10 بج کر 20 منٹ پر پاکستان کے بانی قائدِ اعظم محمد علی جناح انتقال فرما گئے۔

  • سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ: عمرکوٹ کے ڈھورونارو ریلوے اسٹیشن، جہاں سے قائد اعظم محمد علی جناح نے بھی سفر کیا

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ میں واقعہ ڈھورونارو شہر کی ریلوے سٹیشن، جہاں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ریلوے کے ذریعے سفر کیا۔
    جہاں انہوں نے مختصر خطاب کیا۔ جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن ، جو قیام پاکستان سے پہلے انگریز سرکار کے زیر قیادت قائم ہوا، ایک تاریخی اور ثقافتی اہمیت کا حامل مقام ہے۔

    یہ ریلوے سٹیشن نہ صرف ٹرانسپورٹ کا ایک اہم مرکز تھا بلکہ اس کے ارد گرد کے علاقے میں کاروباری سرگرمیوں کا بھی ایک بڑا سلسلہ تھا۔ 20ویں صدی کے اوائل میں، جب ہندوستان کے بڑے شہروں کے درمیان سفر کرنے کا کوئی اور متبادل نہیں تھا، اس وقت اس ڈھورونارو ریلوے سٹیشن نے مال و متاع اور تجارت کے تبادلے میں اہم کردار ادا کیا۔
    یہ سٹیشن مونا باؤ سے میر پورخاص تک ریلوے لائن کا حصہ تھا، جو اس علاقے میں لوگوں کے آمد و رفت کی ایک سہولت فراہم کرتا تھا۔ یہاں نہ صرف مقامی لوگ بلکہ دور دراز کے علاقے سے بھی لوگ روزگار کی تلاش میں آتے تھے۔ ڈھورونارو کا کاروباری مرکز بننے کے پیچھے یہاں قائم ہونے والی فیکٹریوں کا بھی بڑا ہاتھ تھا، جو مقامی لوگوں کو ملازمت فراہم کرتی تھیں۔

    ڈھورونارو کی تاریخ میں ایک اہم واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح نے ایک بار اس ریلوی سٹیشن کا دورہ کیا۔ انہوں نے اس سٹیشن کے ذریعے سفر کیا اور یہاں مختصر خطاب بھی کیا۔ اس واقعے نے اس جگہ کی اہمیت میں مزید اضافہ کردیا۔ یہ ان کی قیادت کا ایک لمحہ تھا، جس نے لوگوں کی قومی تحریک میں جوش و ولولہ پیدا کیا۔

    اس سٹیشن کی تاریخی حیثیت اس کے ڈھانچے، طرز تعمیر اور یہاں کی وہ یادیں ہیں جو لوگوں کے دلوں میں بستی ہیں۔ آج بھی، یہ سٹیشن نہ صرف اپنے ماضی کی کہانیوں کو سناتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی ان کی تاریخ سے جوڑتا ہے۔ یہاں کی فضاؤں میں ایک خاص قسم کی روحانیت اور قومی جذبہ موجود ہے، جو ملک کے اتحاد اور سلامتی کی علامت ہے۔
    ڈھورونارو ریلوی سٹیشن کی شاندار تاریخ ہمیں اس بات کا احساس دلاتی ہے کہ یہ صرف ایک ٹرانزٹ پوائنٹ نہیں ہے، بلکہ ایک اہم ثقافتی اور معاشیاتی مرکز تھا، جو آج بھی اپنے ماضی کے آثار کی گواہی دیتا ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے، جو ہمیں ہمارے قومی ورثے کی اہمیت سے آگاہ کرتا ہے۔

    یہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق ڈھورونارو ایک زمانے میں تجارت و کاروبار کا بڑا مرکز تھا، یہ شہر بئراجی اور صحرائی علائقوں کے مکینون کی ذریعہ معاش ہوا کرتا تھا، ہندوستان سے تجارت کے لیے لوگ ریل گاڑی کے ذریعے ڈھورونارو آتے تھے۔

    مقامی سماجی کارکن اور کاروباری شخصیت محمد ہاشم مہر نے ساگا ڈجیٹل کو بتایا کہ ڈھورونارو سندھ کا تاریخی، ٹقافتی، اور تجارتی شہر تھا، ایک دور تھا کہ یہاں فیکٹریاں ڈھورونارو کا تعارف تھیں، دور دراز سے لوگ روزگار کیلئے یہاں آتے تھے۔ ڈھورونارو سے جڑی ناقابل فراموش تاریخ ہے۔

    محمد ہاشم نے مزید بتایا کہ قائد اعظم محمد علی جناح بھی ریل گاڑی کے زریعے ڈھورونارو پہنچے تھے، جيسلمير اور جودھپور کے راجا بھی ریل کے راستے سے ڈھورونارو آئے تھے۔
    مقامی سینئر صحافی عارف قریشی نے ساگا ڊیجيٹل کو بتایا کہ دھورونارو ایک دور میں مچھلی، کپاس اور مرچی کا مرکز تھا، وہ دور شہر اور پسگردائی کی خوشحالی کا دور تھا۔ آج بھی ماروی ایکسپریس کھوکھروپار سے ميرپورخاص چلتی ہے، لیکن مقرر اوقات پر گاڑی کے نہ آنے اور بوگیان کم ہونے کی وجہ سے مسافروں کو تکلیف سے گزرنا پڑتا ہے۔