فیض محل، ایک عمارت جو صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں تھی، بلکہ ایک خودمختار ریاست کی علامت تھی۔ سندھ کی ریاستِ خیرپور کے تالپور نوابوں کی رہائش گاہ، دربار، اور سیاسی مرکز، سب کچھ اسی کے اندر سمٹ آتا تھا۔
خیرپور میرس میں واقع یہ شاہی محل انیسویں صدی کے اواخر میں تعمیر ہوا۔ اسے میر فیض محمد خان تالپور دوم کے دورِ حکومت میں بنایا گیا اور انہی کے نام سے اسے ‘فیض محل’ کہا جانے لگا۔
ریاستِ خیرپور اُس زمانے میں ایک خودمختار نوابی ریاست تھی، جو تالپور میروں کے زیرِ اقتدار رہی۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد اس ریاست کا پاکستان سے الحاق کردیا گیا۔ تاہم 1955 تک اسے نیم خودمختار حیثیت حاصل رہی۔ فیض محل اسی دور کی سیاسی اور ثقافتی تاریخ کا گواہ ہے۔
محل کی تعمیر میں اینٹ، چونا اور مقامی پتھر استعمال کیا گیا۔ اس کی طرزِ تعمیر میں برطانوی نوآبادیاتی انداز اور مقامی سندھی فنِ تعمیر کا امتزاج واضح نظر آتا ہے۔ وسیع برآمدے، بلند ستون، محرابی دروازے اور کشادہ ہال اس کی شان و شوکت کی عکاسی کرتے ہیں۔ سجاوٹی جھروکے اور متوازن نقش و نگار اس دور کی جمالیاتی حس کا پتہ دیتے ہیں۔
مرکزی دربار ہال اس محل کا دل تھا۔ یہاں شاہی نشست سجتی، فیصلے ہوتے، اور مہمانوں کا استقبال کیا جاتا۔ اندرونی حصوں میں لکڑی کی نفیس نقش و نگاری، جھاڑ فانوس اور آرائشی فرنیچر شاہی زندگی کی جھلک پیش کرتے تھے۔
فیض محل محض ایک رہائش گاہ نہیں تھا۔ یہ ریاستی تقاریب، سرکاری ملاقاتوں اور درباروں کا مرکز بھی تھا۔ نوابِ خیرپور یہاں غیر ملکی مہمانوں اور برطانوی حکام کا استقبال کرتے تھے۔ محل کے اردگرد پھیلے وسیع باغات اور سبزہ زار اس کی خوبصورتی میں مزید اضافہ کرتے تھے، گویا طاقت اور وقار کے ساتھ حسن بھی یہاں موجود تھا۔
آج بھی فیض محل تالپور خاندان کی ملکیت ہے اور سندھ کے اہم تاریخی ورثے کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔ یہ عمارت صرف ماضی کی یاد نہیں، بلکہ اس دور کی خاموش گواہ ہے جب خیرپور ایک الگ ریاست تھی، اپنی شناخت کے ساتھ۔
فیض محل آج بھی کھڑا ہے، ایک تاریخ، ایک ریاست، اور ایک شاہی روایت کی یادگار کے طور پر۔

