Tag: فیشن برانڈز

  • عالمی فیشن برانڈز کی مصنوعات بنانے والی کراچی کی ٹیکسٹائل، گارمنٹ فیکٹریوں کے محنت کشوں کو درپیش مشکلات پر عالمی تحقیق

    عالمی فیشن برانڈز کی مصنوعات بنانے والی کراچی کی ٹیکسٹائل، گارمنٹ فیکٹریوں کے محنت کشوں کو درپیش مشکلات پر عالمی تحقیق

    کراچی کے ایک ٹیکسٹائل مل میں کام کرنے والے محمد حنین کے لیے گرمی صرف موسم کا مسئلہ نہیں بلکہ روزانہ کی آزمائش ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ شدید گرمی میں پسینہ بے قابو ہو جاتا ہے، سر درد شروع ہو جاتا ہے، نظر دھندلا جاتی ہے اور کئی بار چکر آنے لگتے ہیں۔

    محمد حنین کے مطابق کام روکنے یا رفتار کم کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور ایسا کرنے پر سپروائزر ڈانٹتے ہیں جبکہ ٹھیکیدار اجرت کاٹ لیتے ہیں۔

    بین الاقوامی سطح پر موسمیاتی تبدیلی کے انسانی حقوق، صحت اور محنت کشوں پر اثرات کی تحقیق کرنے والی تنظیم کلائمٹ رائٹس انٹرنیشنل کی حالیہ تحقیق میں کراچی کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کو روزمرہ بنیادوں پر درپیش انہی مسائل کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرمی اب محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک واضح محنت کش مسئلہ بن چکی ہے۔

    محمد حنین کی باتیں کراچی کے ہزاروں ٹیکسٹائل اور گارمنٹس ورکرز کی نمائندگی کرتی ہیں۔ شہر میں ہر سال بڑھتا ہوا درجہ حرارت فیکٹریوں کے اندر کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل کو مزید شدید بنا رہا ہے۔

    ورکرز ایجوکیشن اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر میر ذوالفقار علی کے مطابق ہر سال گرمی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کی قیمت مزدور اپنے جسموں سے ادا کر رہے ہیں۔

    کراچی پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے جہاں ٹیکسٹائل اور گارمنٹ فیکٹریاں ملکی برآمدات میں مرکزی کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی شہر میں لاکھوں مزدور ایسی فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں جہاں بند عمارتیں، مشینوں کی حرارت، ہوا کی کمی اور مسلسل جسمانی محنت ایک معمول بن چکی ہے۔

    حالیہ برسوں میں شدید گرمی نے ان کام کرنے والے حالات کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے جس کے اثرات مزدوروں کی صحت، آمدن اور کام کرنے کی صلاحیت پر براہ راست پڑ رہے ہیں۔

    فیکٹریوں کے اندر درجہ حرارت کی حقیقت

    کراچی میں گرمیوں کے دوران درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے۔

    تحقیق کے مطابق فیکٹریوں کے اندر یہ درجہ حرارت مزید بڑھ جاتا ہے کیونکہ بند ڈھانچے، مشینوں سے نکلنے والی حرارت اور ناقص ہوا کی نکاسی مل کر ایسا ماحول پیدا کرتی ہے جہاں جسمانی برداشت کی حدیں تیزی سے ختم ہونے لگتی ہیں۔

    مزدوروں نے بتایا کہ باہر کے مقابلے میں فیکٹری کے اندر سانس لینا زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ بعض جگہوں پر کھڑکیاں بند رکھی جاتی ہیں جس کے باعث ہوا کی گردش مکمل طور پر رک جاتی ہے۔ پنکھے اکثر ناکافی ثابت ہوتے ہیں جبکہ مناسب ٹھنڈک کا انتظام زیادہ تر فیکٹریوں میں موجود نہیں ہوتا۔

    جسم پر پڑنے والے اثرات

    تحقیق کے مطابق مسلسل شدید گرمی میں کام کرنے سے مزدور مختلف جسمانی مسائل کا سامنا کرتے ہیں جن میں سر درد، چکر آنا، متلی، دل کی دھڑکن تیز ہونا، حد سے زیادہ پسینہ آنا اور جسمانی کمزوری شامل ہیں۔ بعض مزدوروں نے بتایا کہ کام کے دوران نظر دھندلا جاتی ہے یا ہاتھوں میں لرزش آ جاتی ہے جس سے مشینوں کے ساتھ کام کرنا خطرناک ہو جاتا ہے۔

    کئی فیکٹریوں میں مزدوروں کے بے ہوش ہو جانے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ فوری طبی سہولت دستیاب نہ ہونے کی صورت میں مزدور ایک دوسرے کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔

    تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ شدید گرمی کے باعث جسم میں پانی کی کمی تیزی سے ہوتی ہے جس کے طویل المدتی اثرات گردوں اور دل کی صحت پر پڑ سکتے ہیں۔

    ذہنی دباؤ اور کام کی صلاحیت

    شدید گرمی مزدوروں کے لیے ذہنی دباؤ کا باعث بھی بنتی ہے۔ زیادہ درجہ حرارت میں توجہ برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے اور چڑچڑاپن، بے چینی اور غصہ عام ہو جاتا ہے۔ اس کیفیت میں کام کی رفتار اور درستگی متاثر ہوتی ہے۔

    تحقیق کے مطابق گرمی کے دنوں میں فیکٹریوں میں حادثات کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے کیونکہ مزدور ذہنی اور جسمانی طور پر تھکے ہوتے ہیں۔ غلطیوں میں اضافہ اور حفاظتی احتیاطی تدابیر پر کم توجہ چوٹ اور حادثات کا سبب بن سکتی ہے۔

    وقفے، پانی اور بنیادی سہولیات

    تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بہت سی فیکٹریوں میں صاف اور ٹھنڈے پانی تک مسلسل رسائی موجود نہیں ہوتی۔ بعض جگہوں پر پانی دھاتی ٹینکوں میں ذخیرہ کیا جاتا ہے جو دھوپ میں گرم ہو جاتا ہے، جس سے پانی گرمی میں جسم کو ٹھنڈا کرنے کے بجائے مزید نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔

    اسی طرح وقفے لینے کا نظام بھی اکثر محدود یا غیر واضح ہوتا ہے۔ سخت پیداواری اہداف کے باعث مزدور وقفہ لینے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ انہیں اجرت میں کٹوتی یا انتظامیہ کی ناراضی کا خوف ہوتا ہے۔ باتھ روم جانے پر پابندیاں یا وقت کی سخت نگرانی بھی اضافی دباؤ کا سبب بنتی ہے۔

    آمدن، غیر حاضری اور معاشی دباؤ

    کراچی کی ٹیکسٹائل اور گارمنٹ فیکٹریوں میں کام کرنے والے زیادہ تر مزدور کم آمدن پر گزارا کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں گرمی کی وجہ سے ایک یا دو دن کی غیر حاضری بھی پورے مہینے کے بجٹ کو متاثر کر سکتی ہے۔ مزدوروں کے مطابق اگر وہ گرمی کے باعث کام پر نہ آ سکیں تو اجرت کاٹ لی جاتی ہے۔

    یہ معاشی دباؤ مزدوروں کو اپنی صحت کو نظرانداز کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق بہت سے مزدور بیماری یا شدید کمزوری کے باوجود کام جاری رکھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی متبادل آمدن کا ذریعہ نہیں ہوتا۔

    قانونی فریم ورک اور عملدرآمد

    پاکستان کے لیبر قوانین میں کام کی جگہ پر صحت اور حفاظت کے اصول موجود ہیں، لیکن تحقیق کے مطابق گرمی کو ایک واضح صنعتی خطرے کے طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ اس خلا کے باعث فیکٹری مالکان پر درجہ حرارت کنٹرول کرنے یا گرمی سے بچاؤ کے خصوصی اقدامات کی واضح قانونی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔

    عملدرآمد کا نظام بھی کمزور ہے۔ معائنہ محدود ہیں اور غیر رسمی شعبے میں نگرانی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے مزدوروں کے تحفظ سے متعلق قوانین عملی طور پر مؤثر ثابت نہیں ہو پاتے۔

    عالمی فیشن برانڈز اور سپلائی چین

    تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ عالمی فیشن انڈسٹری کی بڑی کمپنیاں پاکستان سے گارمنٹس اور ٹیکسٹائل مصنوعات حاصل کرتی ہیں۔ ان برانڈز کی سپلائی چین میں شامل فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدور ہی شدید گرمی کے براہ راست اثرات برداشت کرتے ہیں۔

    اگرچہ کئی عالمی برانڈز اپنی پالیسیوں میں مزدوروں کی صحت اور حفاظت کے وعدے کرتے ہیں، لیکن زمینی سطح پر گرمی سے نمٹنے کے مؤثر اقدامات محدود نظر آتے ہیں۔ تحقیق کے مطابق بیشتر پالیسیاں عمومی نوعیت کی ہیں اور شدید گرمی جیسے مخصوص خطرات کے لیے واضح رہنمائی یا وسائل شامل نہیں ہوتے۔

    بین الاقوامی سطح پر نیا قدم

    حالیہ برسوں میں بین الاقوامی سطح پر یہ تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ شدید گرمی ایک صنعتی خطرہ ہے۔ اسی تناظر میں گارمنٹ اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کے لیے ایک بین الاقوامی فریم ورک کے تحت گرمی سے تحفظ کے اصول وضع کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں مزدوروں کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

    تحقیق کے مطابق اس فریم ورک میں درجہ حرارت کی نگرانی، تربیت، شکایتی نظام اور برانڈز کی ذمہ داریوں کو واضح کرنے جیسے نکات شامل کیے جا رہے ہیں۔ انٹرنیشنل اکارڈ نے ہیٹ اسٹریس پر ایک نیا پروٹوکول تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔

    ماضی سے حال تک: اکارڈ کا کردار

    انٹرنیشنل اکارڈ ایک قانونی طور پر پابند معاہدہ ہے جو گارمنٹس برانڈز اور ٹریڈ یونینز کے درمیان طے پایا۔ اس کی بنیاد 2013 میں بنگلہ دیش کے رانا پلازہ حادثے کے بعد رکھی گئی تھی جس میں ہزار سے زائد مزدور موت کا شکار ہوئے تھے۔

    اس کے بعد سے یہ معاہدہ بنگلہ دیش اور پاکستان میں حفاظتی پروگراموں کی حمایت کر رہا ہے۔

    ابتدا میں اکارڈ کی توجہ عمارتوں، آگ اور ساختی مسائل تک محدود رہی۔ تاہم مزدوروں کی بڑھتی ہوئی شکایات اور تحقیقاتی رپورٹس نے شدید گرمی جیسے موسمیاتی خطرات کو شامل کرنے کی ضرورت کو نمایاں کیا، جس کے بعد ہیٹ اسٹریس پروٹوکول تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

    پیداوار اور معیشت پر اثرات

    شدید گرمی مزدوروں کی صحت کے ساتھ ساتھ پیداوار اور معیشت کو بھی متاثر کرتی ہے۔ زیادہ درجہ حرارت میں کام کرنے سے رفتار کم ہو جاتی ہے جب کہ غلطیوں اور حادثات میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے فیکٹریوں کو مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

    کراچی کی فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی یہ کہانی صرف ایک شہر یا ایک صنعت تک محدود نہیں بلکہ عالمی فیشن انڈسٹری کے اس نظام کی عکاس ہے جس میں موسمیاتی تبدیلی اور انسانی محنت ایک دوسرے سے جڑ چکے ہیں۔ شدید گرمی اب محض موسم کی خبر نہیں رہی بلکہ ایک ایسا مسئلہ بن چکی ہے جو مزدوروں کی صحت، عزت اور روزگار کو براہ راست متاثر کر رہی ہے۔