سندھ حکومت نے صوبے بھر کے نجی تعلیمی اداروں کو خبردار کیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی پیشگی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی بھی دوسری مد میں اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔
حکومت نے واضح کیا ہے کہ اگر کسی اسکول نے مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اضافی فیس وصول کی ہے تو اسے فوری طور پر یہ عمل روکنا ہوگا اور والدین سے وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرنا ہوگی، بصورت دیگر متعلقہ قوانین کے تحت سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
محکمہ اسکول ایجوکیشن اینڈ لٹریسی سندھ کے ماتحت ڈائریکٹوریٹ آف انسپیکشن اینڈ رجسٹریشن آف پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کی جانب سے جاری ہدایات میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں مختلف نجی اسکولوں کے خلاف فیسوں میں غیر معمولی اضافے اور والدین سے منظور شدہ فیس کے علاوہ اضافی رقوم وصول کرنے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ ان شکایات کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کو طلب کرکے ان کا مؤقف سنا گیا اور بعد ازاں تمام نجی اسکولوں کے لیے عمومی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے تحت کسی بھی نجی اسکول کو رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس بڑھانے کی اجازت نہیں۔ اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے اداروں کے خلاف جرمانے سمیت دیگر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ڈائریکٹوریٹ نے تمام نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ اگر کسی ادارے نے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم وصول کی ہے تو وہ فوری طور پر اضافی وصولی بند کرے اور والدین کو ان کی رقم واپس کرے۔ اس کے علاوہ متعلقہ اسکولوں کو مقررہ مدت کے اندر عمل درآمد کی رپورٹ اور رقم کی واپسی کے ثبوت بھی جمع کرانے ہوں گے
ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز کی ایڈیشنل ڈائریکٹر رافعہ ملاح کے مطابق عام طور پر نجی اسکول رجسٹریشن کی تجدید کے وقت ٹیوشن فیس میں سالانہ پانچ فیصد اضافے کی درخواست دیتے ہیں۔ درخواست کا جائزہ لینے کے بعد اگر رجسٹریشن اتھارٹی منظوری دے تو ہی نئی فیس نافذ کی جا سکتی ہے۔ اس کے بغیر کسی بھی قسم کا اضافہ غیر قانونی تصور ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے والدین کی شکایات کو سنجیدگی سے لیا ہے اور واضح پیغام دیا ہے کہ کسی بھی نجی اسکول کو اپنی مرضی سے فیس بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر کوئی ادارہ ایسا کرتا ہے تو اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔
حکومت کی جانب سے جاری آگاہی مہم میں بھی نجی اسکولوں کو یاد دلایا گیا ہے کہ سالانہ فیس میں زیادہ سے زیادہ پانچ فیصد اضافہ بھی صرف اس صورت میں ممکن ہے جب اس کی باقاعدہ منظوری متعلقہ حکام سے حاصل کی گئی ہو۔ اس سے زیادہ یا منظوری کے بغیر کیا گیا کوئی بھی اضافہ قابل قبول نہیں ہوگا۔
آگاہی مہم میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے، کوئی عیاشی نہیں۔ اس لیے نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ معیاری تعلیم کو عام لوگوں کی پہنچ میں رکھنے کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور ایسے فیصلوں سے گریز کریں جن سے والدین پر غیر ضروری مالی بوجھ پڑے۔
حکومت نے نجی اسکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صرف وہی فیس وصول کریں جو ڈائریکٹوریٹ آف پرائیویٹ اسکولز سے منظور شدہ ہو۔ اس کے علاوہ کسی بھی قسم کے پوشیدہ اخراجات، اضافی چارجز یا غیر منظور شدہ رقوم والدین سے وصول نہ کی جائیں۔
سرکلر میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام نجی اسکول اپنی منظور شدہ فیس کی تفصیلات نمایاں طور پر اسکول کے نوٹس بورڈ اور استقبالیہ پر آویزاں کریں تاکہ والدین آسانی سے معلوم کر سکیں کہ ان سے وصول کی جانے والی رقم حکومتی منظوری کے مطابق ہے یا نہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ بعض والدین نے شکایت کی تھی کہ ٹیوشن فیس کے علاوہ مختلف عنوانات سے اضافی رقوم طلب کی جا رہی ہیں، جن کی باقاعدہ منظوری موجود نہیں۔ ان شکایات کے بعد حکومت نے تمام نجی تعلیمی اداروں کو متنبہ کیا ہے کہ اس قسم کی وصولیاں فوری طور پر بند کی جائیں۔
سرکلر میں سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز 2005 کے رول 7(4) اور رول 7(6) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ٹیوشن فیس یا کسی دوسری مد میں رقم وصول کرنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔
اسی طرح سندھ پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) آرڈیننس 2001 کی دفعہ 11 کے مطابق خلاف ورزی کرنے والے اداروں پر پانچ لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ سنگین خلاف ورزی کی صورت میں دفعہ 8 کے تحت اسکول کی رجسٹریشن معطل یا منسوخ بھی کی جا سکتی ہے۔
حکومت نے والدین کو بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر کسی اسکول کی جانب سے منظور شدہ فیس سے زیادہ رقم طلب کی جائے تو وہ متعلقہ حکام سے رجوع کریں۔ والدین کو شکایت درج کرانے کے لیے فارم بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ ان کے مسائل کا بروقت ازالہ کیا جا سکے۔
رافعہ ملاح نے کہا کہ نجی تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ والدین کے ساتھ منصفانہ اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں اور والدین کے درمیان اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب تمام مالی معاملات شفاف ہوں اور قوانین پر مکمل عمل کیا جائے۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں نجی اسکولوں کی فیسوں میں مسلسل اضافے کے باعث متوسط اور کم آمدنی والے خاندان شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک حکومت کی جانب سے قواعد پر سختی سے عمل درآمد نہ صرف والدین کو ریلیف دے گا بلکہ نجی تعلیمی شعبے میں شفافیت اور احتساب کو بھی فروغ ملے گا۔
والدین نے بھی سندھ حکومت کے اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ فیسوں سے متعلق قوانین پر یکساں عمل درآمد یقینی بنایا جائے، تمام نجی اسکولوں کی نگرانی کی جائے اور ایسے اداروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے جو حکومتی منظوری کے بغیر فیسوں میں اضافہ یا مختلف عنوانات سے اضافی رقوم وصول کرتے ہیں۔

