کراچی کا ضلع ملیر ایک وقت میں شہر کا ‘فوڈ باسکٹ’ سمجھا جاتا تھا، جہاں سے سبزیاں، پھل، اناج اور دیگر زرعی اجناس بڑی مقدار میں شہر کی منڈیوں تک پہنچتی تھیں۔ ملیر کے سرسبز باغات، کھیت اور زرعی زمینیں نہ صرف مقامی معیشت کا اہم حصہ تھیں بلکہ کراچی کی غذائی ضروریات پوری کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی تھیں۔ تاہم مقامی کاشت کاروں اور زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں میں مختلف عوامل کے باعث ملیر کی زراعت شدید زوال کا شکار ہو گئی ہے۔
ملیر کے کاشت کار سعید بلوچ نے ساگا ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ملیر میں وسیع پیمانے پر سبزیاں، آم، امرود، چیکو، کھجور اور دیگر فصلیں کاشت کی جاتی تھیں، لیکن آج صورتحال یہ ہے کہ زراعت آخری سانسیں لے رہی ہے۔ ان کے مطابق زرعی زمینوں کے بڑے حصے پر ہاؤسنگ اسکیمیں، صنعتی یونٹس اور دیگر تعمیرات قائم ہو چکی ہیں جس سے کاشت کے لیے دستیاب رقبہ مسلسل کم ہو رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملیر میں زرعی سرگرمیوں کو متاثر کرنے والے اہم عوامل میں پانی کی قلت، زرعی زمینوں کی غیر زرعی استعمال میں تبدیلی اور ماحولیاتی آلودگی شامل ہیں۔ ماضی میں ملیر کے بیشتر علاقوں کو دریائے سندھ کے نظام اور مقامی آبی گزرگاہوں سے پانی ملتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ ساتھ آبپاشی کے لیے دستیاب پانی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ پانی کی قلت کے باعث بہت سے کاشت کار زراعت چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ملیر اور اس کے گردونواح میں بڑے پیمانے پر ریت نکالنے کی سرگرمیوں نے بھی ماحول اور زراعت کو متاثر کیا ہے۔ ماہرین ماحولیات کے مطابق بے ہنگم ریت نکالنے سے زمین کی ساخت، زیر زمین پانی کے ذخائر اور قدرتی ماحولیاتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان اثرات کی شدت اور دائرۂ کار کے تعین کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔
کاشت کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض صنعتی علاقوں سے خارج ہونے والا دھواں اور آلودگی فصلوں اور باغات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ اگرچہ مختلف صنعتوں کے اثرات ہر علاقے میں یکساں نہیں ہوتے، لیکن ماحولیاتی آلودگی کو زرعی پیداوار میں کمی کی ایک اہم وجہ قرار دیا جاتا ہے۔
زرعی ماہرین کے مطابق کراچی جیسے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہر میں زرعی زمینوں کا تحفظ ایک بڑا چیلنج بنتا جا رہا ہے۔ ملیر میں آبادی اور تعمیرات کے پھیلاؤ نے زرعی رقبے کو مسلسل محدود کیا ہے، جس کے نتیجے میں مقامی زرعی پیداوار میں کمی واقع ہوئی ہے۔
مقامی کاشت کاروں کا مطالبہ ہے کہ زرعی زمینوں کے تحفظ، آبپاشی کے پانی کی فراہمی اور ماحولیاتی ضوابط پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ ملیر کی باقی ماندہ زراعت کو بچایا جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو کراچی کا یہ تاریخی زرعی علاقہ مستقبل میں اپنی زرعی شناخت مکمل طور پر کھو سکتا ہے۔

