Tag: فورڈ

  • گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    گاڑیاں بنانے والی امریکی کمپنی فورڈ کو مصنوعی ذہانت کے بجائے انجینئر دوبارہ بھرتی کیوں کرنا پڑے؟

    امریکہ کی معروف گاڑیاں بنانے والی کمپنی فورڈ نے اعتراف کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر ضرورت سے زیادہ انحصار کرنے کا فیصلہ کمپنی کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ خودکار نظاموں سے مطلوبہ معیار حاصل نہ ہونے اور اربوں ڈالر کے نقصانات کے بعد کمپنی کو سینکڑوں تجربہ کار انجینئر دوبارہ ملازمت پر رکھنا پڑے، جس کے بعد گاڑیوں کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔

    فورڈ کے اعلیٰ حکام کے مطابق کمپنی نے گزشتہ تین برسوں کے دوران 350 سے زائد سینئر اور تجربہ کار انجینئرز کو دوبارہ بھرتی کیا۔ کمپنی کے اندر انہیں غیر رسمی طور پر ‘گرے بیئرڈز’ یعنی سفید داڑھی والے ماہرین کہا جاتا ہے، کیونکہ ان کے پاس کئی دہائیوں کا عملی تجربہ موجود ہے۔ ان انجینئرز کو دوبارہ اس لیے لایا گیا تاکہ وہ ان خامیوں کی نشاندہی کر سکیں جو مصنوعی ذہانت پر مبنی خودکار نظام بروقت پکڑنے میں ناکام رہے تھے۔

    فورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر کمار گلہوترا نے برطانوی نشریاتی ادارے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ کمپنی معیار کی جانچ کے لیے مسلسل خودکار نظاموں پر انحصار بڑھا رہی تھی، لیکن اس سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ ان کے مطابق کمپنی نے دوبارہ تکنیکی ماہرین کو شامل کیا جو پیداواری عمل شروع ہونے سے پہلے ہی پرزوں اور ڈیزائن میں موجود ممکنہ خرابیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔

    کمپنی نے گزشتہ چند برسوں میں فیکٹریوں میں مصنوعی ذہانت پر مبنی معائنہ اور جانچ کے نظام متعارف کرائے تھے تاکہ پیداوار تیز ہو اور معیار بھی بہتر بنایا جا سکے۔ تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ پیچیدہ انجینئرنگ مسائل میں مصنوعی ذہانت انسانی تجربے اور فیصلے کا مکمل متبادل ثابت نہیں ہو سکی۔ کئی ایسے نقائص سامنے آئے جنہیں صرف برسوں کے تجربے کے حامل انجینئر ہی سمجھ سکتے تھے۔

    فورڈ کے نائب صدر برائے وہیکل ہارڈویئر انجینئرنگ چارلس پون نے اعتراف کیا کہ کمپنی نے یہ سمجھ لیا تھا کہ صرف مصنوعی ذہانت متعارف کرا دینے اور اس میں ڈیزائن سے متعلق معلومات شامل کرنے سے خود بخود اعلیٰ معیار کی گاڑیاں تیار ہونے لگیں گی۔ لیکن بعد میں احساس ہوا کہ مصنوعی ذہانت کی کامیابی کا انحصار بھی اسی معلومات پر ہوتا ہے جو اسے تربیت کے دوران فراہم کی جاتی ہے۔ اگر تجربہ کار انجینئرز کی مہارت اور برسوں کا عملی علم نظام میں منتقل نہ کیا جائے تو مصنوعی ذہانت بہترین نتائج نہیں دے سکتی۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں کمپنی نے اپنے ان انجینئرز کے تجربے کو وہ اہمیت نہیں دی جو کئی مختلف ماڈلز اور منصوبوں پر کام کر چکے تھے۔ ان کے جانے کے بعد ان کا ادارہ جاتی علم بھی ضائع ہو گیا، جس کے باعث مصنوعی ذہانت کو تربیت دینے والے نظام کمزور معلومات پر انحصار کرتے رہے اور ڈیزائن کی خامیوں کو بروقت پکڑنے میں ناکام رہے۔

    کمپنی کے مطابق دوبارہ بھرتی کیے گئے انجینئرز کو صرف معیار بہتر بنانے کی ذمہ داری نہیں دی گئی بلکہ انہیں نوجوان انجینئرز کی تربیت، مصنوعی ذہانت کے لیے بہتر ڈیٹا تیار کرنے اور خودکار نظاموں کو مزید مؤثر بنانے کا کام بھی سونپا گیا۔

    اس کے ساتھ ساتھ فورڈ نے 40 ماہرین پر مشتمل ایک الگ سافٹ ویئر کوالٹی ایشورنس ٹیم بھی قائم کی ہے، جبکہ ایک لاکھ سے زائد نئے خودکار اے آئی ٹیسٹ بھی شامل کیے گئے ہیں تاکہ سافٹ ویئر اور ڈیزائن میں موجود باریک خامیوں کی بروقت نشاندہی کی جا سکے۔

    ان اقدامات کے بعد کمپنی کے معیار میں نمایاں بہتری آئی۔ جے ڈی پاور کی 2026 کی ابتدائی معیار کی سالانہ رپورٹ میں فورڈ کو عام صارفین کے لیے گاڑیاں بنانے والے برانڈز میں پہلی پوزیشن حاصل ہوئی۔ یہ گزشتہ 16 برسوں میں پہلی مرتبہ ہے کہ فورڈ اس درجہ بندی میں سرفہرست آیا ہے۔ اس سروے میں نئی گاڑی خریدنے والے صارفین سے پہلے 90 دن کے دوران پیش آنے والے مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق فورڈ نے ہر 100 گاڑیوں پر 152 مسائل کا ریکارڈ بنایا، جو دیگر بڑے برانڈز کے مقابلے میں بہتر رہا۔ کمپنی کے مقبول ماڈلز ایف 150، مسٹینگ اور سپر ڈیوٹی مسلسل دوسرے سال بھی اپنے اپنے شعبوں میں بہترین قرار پائے۔

    تاہم کمپنی کے لیے تمام مشکلات ختم نہیں ہوئیں۔ فورڈ اب بھی امریکہ میں سب سے زیادہ گاڑیاں واپس بلانے والی کمپنی ہے۔ صرف 2026 کے دوران کمپنی نے 51 مرتبہ مختلف ماڈلز واپس منگوائے، جن کی تعداد ایک کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ بنتی ہے۔ کمپنی کے حکام کا کہنا ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مسائل پرانے پیداواری فیصلوں اور سابقہ خودکار نظاموں سے متعلق تھے، نہ کہ حالیہ اصلاحات سے۔

    گزشتہ چند برسوں میں فورڈ نے اپنے ملازمین کی تعداد میں بھی نمایاں کمی کی تھی۔ 2020 کے بعد کمپنی تقریباً پانچ ہزار 300 تنخواہ دار ملازمتیں ختم کر چکی ہے، جبکہ امریکی آٹو صنعت میں مجموعی طور پر 20 ہزار سے زیادہ دفتری ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔

    فورڈ کے چیف ایگزیکٹو جم فارلے نے یہ بھی کہا تھا کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں امریکہ میں دفتری ملازمتوں کے تقریباً نصف حصے کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم اب کمپنی کا حالیہ تجربہ اس خیال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے کیونکہ صرف مصنوعی ذہانت پر انحصار مطلوبہ نتائج نہیں دے سکا۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ فورڈ کا تجربہ ان کمپنیوں کے لیے اہم سبق ہے جو انسانی مہارت کو مکمل طور پر مصنوعی ذہانت سے بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ اگرچہ اے آئی رفتار، تجزیے اور خودکار عمل میں نمایاں مدد فراہم کرتی ہے، لیکن انسانی تجربہ، عملی مشاہدہ اور پیچیدہ حالات میں فیصلہ سازی اب بھی ایسی صلاحیتیں ہیں جنہیں مکمل طور پر مشینوں کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔

    ادھر امریکہ میں مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث ملازمین کی تربیت کا مسئلہ بھی اہم بنتا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں اوپن اے آئی، اینتھروپک، ایمیزون اور مائیکروسافٹ سمیت کئی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے امریکی کارکنوں کو اے آئی کے دور کے مطابق نئی مہارتیں سکھانے کے لیے 50 کروڑ ڈالر کے ایک غیر منافع بخش منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    تاہم فورڈ کا تجربہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صرف نئی تربیت ہی کافی نہیں، بلکہ اداروں کو یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کن تجربہ کار ملازمین کی مہارت کسی بھی قیمت پر ضائع نہیں ہونی چاہیے۔

    فورڈ نے واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کا استعمال بند نہیں کرے گی، بلکہ آئندہ اسے انسانی نگرانی اور تجربے کے ساتھ ملا کر استعمال کیا جائے گا۔ کمپنی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی ایک مؤثر ذریعہ ضرور ہے، لیکن بہترین نتائج اسی وقت حاصل کیے جا سکتے ہیں جب مشینوں کی رفتار اور انسانوں کے تجربے کو ایک ساتھ استعمال کیا جائے۔