Tag: فریزر

  • ماں کی لاش تقریباً تین سال فریزر میں رکھنے والے بیٹے کو دو سال چار ماہ قید

    ماں کی لاش تقریباً تین سال فریزر میں رکھنے والے بیٹے کو دو سال چار ماہ قید

    برطانیہ میں ایک شخص کو اپنی 89 سالہ ماں کی لاش تقریباً تین سال تک گھر کے ایک فریزر میں رکھنے اور اس دوران ان کے نام پر 78 ہزار پاؤنڈ سے زیادہ کے سرکاری وظائف وصول کرنے پر دو سال چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    بی بی سی کے مطابق 60 سالہ کرسٹوفر فلپس نے اپنی والدہ سلویا فلپس کی موت مارچ 2023 میں ہونے کے بعد ان کی موت کی اطلاع متعلقہ اداروں کو نہیں دی۔ اس کے بجائے اس نے ان کی لاش کو گھر کے ایک بڑے فریزر میں رکھا اور تقریباً تین سال تک یہ ظاہر کرتا رہا کہ ان کی والدہ زندہ ہیں۔

    یہ واقعہ ویلز کے شہر پورٹکاؤل میں پیش آیا۔ کرسٹوفر اپنی والدہ کے ساتھ اسی گھر میں رہتا تھا اور ان کی دیکھ بھال بھی کرتا تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وہ اپنی والدہ کے انتقال سے چند ماہ پہلے اپنی ملازمت چھوڑ کر ان کی مکمل دیکھ بھال کرنے لگا تھا۔

    بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کرسٹوفر نے عدالت میں اپنی والدہ کی تدفین روکنے اور دھوکا دہی کے الزامات کا اعتراف کیا۔ اس نے محکمہ برائے کام اور پنشن اور مقامی کونسل کو اپنی والدہ کی موت سے آگاہ نہیں کیا اور ان کے نام پر ملنے والی رقم وصول کرتا رہا۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ کرسٹوفر نے اپنی والدہ کی موت کے بعد مجموعی طور پر 78,190 پاؤنڈ 92 پنس وصول کیے۔ اس رقم میں سرکاری پنشن، پنشن کریڈٹ، معذوری یا نگہداشت سے متعلق الاؤنس، سردیوں میں ایندھن کے اخراجات کے لیے دی جانے والی رقم، مہنگائی کے دوران دی گئی امداد اور مکان کے کرائے سے متعلق مالی مدد شامل تھی۔

    بی بی سی کے مطابق کرسٹوفر نے اپنی والدہ کے انتقال کے بعد ایک بڑا فریزر خریدا اور ان کی لاش کو گھر کے رہنے والے کمرے میں رکھ دیا۔ اس دوران وہ ان کی لاش کے ساتھ ایسے ہی پیش آتا رہا جیسے وہ زندہ ہوں۔

    عدالت کو بتایا گیا کہ لاش کے قریب گلاب کے پھول اور سالگرہ کا ایک کارڈ بھی رکھا گیا تھا۔ کارڈ پر ’’ممی کے نام، کرسٹوفر اور ٹینا کی طرف سے‘‘ لکھا تھا۔ ٹینا ان کے خاندان کے کتے کا نام تھا۔ لاش کو ایک چیتے کے نقش والے کمبل سے ڈھانپا گیا تھا۔

    کرسٹوفر نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی والدہ کو جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔ اس کے وکیل کے مطابق وہ ان کی لاش کے پاس بیٹھتا اور ان سے ایسے بات کرتا تھا جیسے وہ ابھی زندہ ہوں۔ وہ ان کے ساتھ ٹیلی ویژن پروگراموں، گھڑ دوڑ اور روزمرہ کی دوسری باتوں پر گفتگو کرتا تھا۔

    عدالت میں بتایا گیا کہ کرسٹوفر اور اس کی والدہ کا تعلق انتہائی قریبی تھا۔ سلویا نے کرسٹوفر کو اس وقت گود لیا تھا جب وہ صرف دو سال کا تھا۔ دونوں تقریباً 50 سال تک ایک ہی گھر میں رہے۔ کرسٹوفر 2008 سے اپنی والدہ کی دیکھ بھال بھی کر رہا تھا۔

    ماہر نفسیات نے عدالت کو بتایا کہ کرسٹوفر اپنی والدہ کی موت کے وقت شدید اور طویل غم کی کیفیت کا شکار تھا۔ ماہر کے مطابق اسے اپنی والدہ کی موت قبول کرنے میں دشواری تھی، وہ مسلسل ان کی یاد میں رہتا تھا اور عام زندگی کی طرف واپس نہیں آ پا رہا تھا۔ ماہر نے اس کے محدود سماجی تعلقات اور والدہ پر اس کے انحصار کا بھی ذکر کیا۔

    تاہم عدالت نے مالی فائدہ حاصل کرنے کے معاملے کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔ جج ٹریسی لائیڈ کلارک نے کہا کہ کرسٹوفر نے طویل عرصے تک اپنی والدہ کی موت چھپائی اور اس دوران ان کی پنشن اور دیگر سرکاری رقوم حاصل کرتا رہا۔ عدالت نے اس عمل کو جرم کی سنگینی میں اضافے کا سبب قرار دیا۔

    عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ کرسٹوفر نے اپنی والدہ کی موت کے بعد بھی ان کے طبی نسخے حاصل کیے اور طبی عملے کو ان کی صحت اور موجودگی کے بارے میں گمراہ کیا۔ جب ڈاکٹر اور طبی عملہ ان سے رابطہ کرنا چاہتے تو وہ مختلف بہانے بناتا رہا اور کہتا رہا کہ وہ ملاقات یا طبی معائنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

    پولیس کو سلویا فلپس کی لاش فروری 2026 میں ملی۔ اس وقت طبی عملے کی جانب سے ان کی خیریت کے بارے میں تشویش ظاہر کی گئی تھی۔ اس کے بعد پولیس نے معاملے کی تحقیقات شروع کیں اور گھر سے لاش برآمد ہوئی۔ سلویا کی موت کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہوئی۔

    استغاثہ کا کہنا تھا کہ کرسٹوفر نے جان بوجھ کر اپنی والدہ کی موت چھپائی تاکہ سرکاری رقوم وصول کرتا رہے۔ دوسری جانب دفاع نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ ذہنی طور پر انتہائی کمزور حالت میں تھا اور اپنی والدہ سے گہری وابستگی کے باعث ان کی موت قبول نہیں کر سکا۔

    عدالت نے بالآخر اسے دو سال چار ماہ قید کی سزا سنائی۔ اس کے علاوہ اس سے حاصل کی گئی رقم کی واپسی کے لیے بھی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

    جنوبی ویلز پولیس کی افسر کلیئر لیمَرٹن نے اس واقعے کو انتہائی افسوس ناک قرار دیا۔ ان کے مطابق کرسٹوفر نے اپنی والدہ کی موت چھپائی اور ایک طویل عرصے تک مالی فائدہ حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب سلویا کے عزیز انہیں مناسب طریقے سے سپرد خاک کر سکے ہیں اور امید ہے کہ اس سے انہیں کچھ سکون ملے گا۔

    یہ واقعہ برطانیہ میں ذہنی صحت، تنہائی، بزرگ افراد کی دیکھ بھال اور سرکاری مالی امداد کے نظام سے متعلق کئی سوالات بھی اٹھاتا ہے۔ عدالت میں سامنے آنے والی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف مالی دھوکا دہی تک محدود نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے ایک ایسے شخص کی ذہنی کیفیت بھی تھی جو اپنی والدہ کی موت کو قبول نہیں کر پا رہا تھا۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ ذہنی مشکلات کے باوجود طویل عرصے تک سرکاری رقم وصول کرنے کا عمل قانون کی نظر میں ایک سنگین جرم ہے۔