Tag: غنویٰ بھٹو

  • یکم جون 1962 کو پیدا ہونے والی غنویٰ بھٹو کی میر مرتضیٰ بھٹو سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی؟

    یکم جون 1962 کو پیدا ہونے والی غنویٰ بھٹو کی میر مرتضیٰ بھٹو سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی؟

    ذوالفقار علی بھٹو کے بڑے بیٹے میر مرتضیٰ بھٹو کی زندگی بہت سخت اور تکلیف دہ گزری۔ 1979 میں اپنے والد کی پھانسی کے بعد انہیں جلاوطنی دیکھنی پڑی۔ جنرل ضیا کے خلاف مسلح مزاحمتی جدوجہد کے لیے پاکستان لبریشن آرمی سے الذوالفقار تک کے سفر کے دوران سوویت یونین کی حامی افغان حکومت سمیت کرنل قذافی، حافظ الاسد، یاسر عرفات، فلسطین کے پاپولر فرنٹ کے جارج حبش اور عالمی سطح پر دہشت کی علامت بننے والے کارلوس تک سے تعلقات بنانے پڑے۔

    اس عرصے میں میر مرتضیٰ اور ان کے بھائی شاہنواز پر جنرل ضیا کے دور میں کئی قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ اوپر سے 1985 میں انہیں اپنے بازو، خوبصورت بھائی اور الذوالفقار کے آپریشنل چیف کمانڈر شاہنواز بھٹو کی جدائی کا صدمہ بھی برداشت کرنا پڑا۔ وقت کی ستم ظریفی یہ تھی کہ میر مرتضیٰ اپنے بھائی شاہنواز کی لاش کو کندھا دے کر آبائی قبرستان گڑھی خدا بخش بھٹو میں دفنانے بھی نہ جا سکے۔

    بھائی شاہنواز کی جدائی کے بعد اسی سال انہیں کابل میں اپنی افغان نژاد بیوی فوزیہ کی بے وفائی بھی دیکھنی پڑی، جس سے انہوں نے محبت کی شادی کی تھی۔ اس بیوی سے پیدا ہونے والی ننھی بیٹی فاطمہ کی ذمہ داری بھی ان کے کندھوں پر آ گئی۔

    اوپر سے طویل افغان خانہ جنگی کے باعث افغانستان کے حالات خراب ہوئے، دنیا کی دو سپر پاورز امریکہ اور روس کے درمیان جنیوا معاہدہ اور افغانستان سے روسی فوجوں کی واپسی کے بعد افغان حکومت نے میر مرتضیٰ پر دباؤ ڈالا کہ وہ فوری طور پر افغانستان میں قائم اپنی مبینہ تنظیم الذوالفقار کا ہیڈکوارٹر بند کر کے ساتھیوں سمیت ملک چھوڑ دیں۔

    ایسی پریشانی کی حالت میں مرتضیٰ اپنی دودھ پیتی بیٹی فاطمہ کو لے کر شام کے دارالحکومت دمشق پہنچے۔ مرتضیٰ کے پریشانی کے وہ دن دیکھنے کے قابل تھے، جب انہیں ایک طرف اپنے جلاوطن ساتھیوں کو سنبھالنا پڑتا تھا اور دوسری طرف معصوم بیٹی فاطمہ کی دیکھ بھال بھی کرنی پڑتی تھی۔

    انہی دنوں دمشق کے ایک ہوٹل کی لفٹ میں مرتضیٰ کی ملاقات غنویٰ سے ہوئی۔ غنویٰ نے بتایا کہ وہ ایک چرچ اسکول میں تدریس کے ساتھ ساتھ ڈانسنگ اور فزیکل انسٹرکٹر بھی ہیں۔ بنیادی طور پر وہ لبنان کے دارالحکومت بیروت کی رہائشی ہیں، مگر لبنان کی خانہ جنگی کے باعث ان دنوں دمشق میں مقیم ہیں۔

    میر مرتضیٰ نے فوراً انہیں کچھ اور نہیں بتایا، صرف اتنا کہا کہ اگر وہ ان کی بیٹی فاطمہ کی دیکھ بھال کے ساتھ اسے تعلیم بھی دیں گی تو وہ ان کے شکر گزار رہیں گے۔ غنویٰ نے فاطمہ کی معصومیت دیکھ کر ہامی بھر لی۔

    ابتدا میں فاطمہ کو اپنے ساتھ مانوس کرنے میں غنویٰ کو مشکل پیش آئی، مگر کچھ عرصے میں ہی انہوں نے اسے اپنا بنا لیا۔ فاطمہ اور غنویٰ کی قربت نے آخرکار میر مرتضیٰ کو بھی متاثر کیا۔ انقلابی جدوجہد جیسی خشک زندگی نے انہیں جیون ساتھی تلاش کرنے پر مجبور کیا۔

    آخر وہ دن بھی آیا جب مرتضیٰ نے غنویٰ کو شادی کی پیشکش کی۔ غنویٰ نے اس سلسلے میں انہیں اپنے والد سے بات کرنے کو کہا۔ غنویٰ کے والد عبود عطاوی بنیادی طور پر لبنانی انجینئر تھے اور غنویٰ کی والدہ کافیہ ایک استادہ ہونے کے ساتھ عربی کی بہترین شاعرہ بھی تھیں۔

    غنویٰ بھٹو یکم جون 1962 کو عکار میں پیدا ہوئیں۔ غنویٰ کے والد عبود عطاوی مارکسسٹ انقلابی تھے اور لبنان، اسرائیل سرحد کے قریب واقع عکار کے رہنے والے تھے۔ وہ لبنانیوں کی اسرائیل مخالف مزاحمتی تحریک کے سرگرم کارکن اور بائیں بازو کے سوشلسٹ نظریات کے حامی تھے۔

    عبود عطاوی نے انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد خاندانی پیشہ زمینداری چھوڑ کر ایک لبنانی ایئرلائن میں ملازمت اختیار کی۔ ان کے خاندان نے اسرائیلی جارحیت کے دوران کئی مرتبہ اپنا آبائی گھر جلتے اور تباہ ہوتے دیکھا اور کئی مرتبہ عکار چھوڑنا پڑا۔ حالات بہتر ہونے پر واپس آتے رہے۔

    ان کی آخری طویل ہجرت 1981 میں شروع ہوئی جب لبنان خانہ جنگی میں گھِر گیا۔ بیروت، جسے کبھی مشرق وسطیٰ کی دلہن کہا جاتا تھا، اپنی خوبصورتی کھو بیٹھا تھا۔ ایک طرف اسرائیل کے حامی میجر حداد کے فلانجسٹ عیسائی گوریلا تھے اور دوسری طرف فلسطینی گوریلوں کے پاپولر فرنٹ کے جارج حبش اور یاسر عرفات کی پی ایل او کے جنگجو تھے۔ اسی دوران اسرائیلی حملے بھی لبنان کو تباہ کر رہے تھے۔

    تاریخ کا بدترین قتل عام بیروت کے صابرہ اور شتیلا کے پناہ گزین کیمپوں میں ہوا، جہاں ہزاروں بے گناہ فلسطینی نوجوان، بچے، بوڑھے اور عورتیں قتل کیے گئے۔ انہی دنوں عبود عطاوی کا خاندان لبنان چھوڑ کر دمشق منتقل ہوا، جہاں انہوں نے اپنی بیٹیوں غنویٰ، راشا، زائینا اور خولود کی بہترین پرورش کی اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلوائی۔

    غنویٰ تعلیم کے شعبے سے وابستہ ہوئیں۔ اسی شعبے نے انہیں مرتضیٰ سے ملوایا اور فاطمہ اس تعلق کا ذریعہ بنی۔

    جب مرتضیٰ نے اپنے دل کی بات عبود عطاوی کے سامنے رکھی تو انہیں یہ علم نہیں تھا کہ یہ خوبصورت نوجوان پاکستان حکومت کی مطلوب ترین فہرست میں شامل ہے اور جنرل ضیا کے ایجنٹ اس کی جان کے دشمن ہیں۔ انہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ نوجوان تیسری دنیا کے عظیم رہنما اور عرب دنیا کے ہیرو ذوالفقار علی بھٹو کا بیٹا ہے۔

    انہوں نے صرف مرتضیٰ کے اخلاق سے متاثر ہو کر اپنی بیٹی غنویٰ کا رشتہ قبول کیا۔ اس طرح 1989 کی ایک شام دمشق میں سندھ اور لبنان کا رشتہ جڑ گیا۔

    کہتے ہیں عشق اور مشک زیادہ دیر چھپتے نہیں، آہستہ آہستہ مرتضیٰ کی اصل حقیقت اور سرگرمیوں کا علم عبود عطاوی کے خاندان کو بھی ہو گیا۔ غنویٰ، ان کی والدہ اور بہنیں بہت پریشان ہوئیں۔

    بعد میں جب میر مرتضیٰ جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس آئے تو عبود عطاوی بھی پاکستان آئے۔ وہ گڑھی خدا بخش بھٹو میں ذوالفقار علی بھٹو کی قبر پر بہت روئے۔

    1993 میں جب میر مرتضیٰ بھٹو نے جلاوطنی کے دوران الیکشن لڑا تو غنویٰ نے اپنی ساس بیگم نصرت بھٹو کے ساتھ انتخابی مہم چلائی۔ بعد ازاں مرتضیٰ مستقل طور پر سندھ آ گئے اور غنویٰ بھی اپنے شوہر کے ساتھ سندھ میں آباد ہو گئیں۔ ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام ذوالفقار علی بھٹو جونیئر رکھا گیا۔

    20 ستمبر 1996 کو میر مرتضیٰ بھٹو کی شہادت کے بعد غنویٰ نے لبنان یا دمشق واپس جانے کے بجائے سندھ میں رہنے کو ترجیح دی، مگر انہیں اپنے شوہر کے قتل کا انصاف نہ مل سکا۔ اب وہ یہ معاملہ خدا کے سپرد کر چکی ہیں۔ کافی عرصے سے وہ منظرِ عام پر نہیں ہیں۔ بعض ذرائع کے مطابق وہ رشتہ داروں کے پاس لبنان میں موجود ہیں۔