گھوٹکی سے تعلق رکھنے والے بااثر مہر سردار خاندان کے رہنما، سردار علی گوہر خان مہر نے 57 برس کی عمر میں دوسری شادی کر لی ہے۔ شادی کی تقریب میں مہر برادری کے چیف، سردار محمد بخش مہر، علی گوہر مہر کے بیٹے حاجی خان مہر اور بھائی علی نواز مہر کی عدم موجودگی نے خاندانی اختلافات کی خبروں کو مزید تقویت دی ہے۔
فیملی ذرائع کے مطابق علی نواز مہر نے بھی اپنی ہم عمر خاتون سے شادی کی ہے، جس پر خاندان میں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ تاہم مہر خاندان میں اختلافات کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ ماضی میں بھی اندرونی تنازعات خبروں کا حصہ بنتے رہے ہیں۔
سردار علی گوہر مہر کو گھوٹکی کی سیاست کا ایک مضبوط اور بااثر کردار سمجھا جاتا ہے۔ وہ بظاہر سخت مزاج تصور کیے جاتے ہیں اور تین مرتبہ سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں۔ یکم ستمبر 1968 کو پیدا ہونے والے علی گوہر مہر نے پہلی بار 1993 میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے، جس کے بعد 1993 سے 1996 تک ایم پی اے رہے۔
بعد ازاں 1997 سے 1999 تک وہ پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر اسی حلقے سے دوبارہ رکن سندھ اسمبلی منتخب ہوئے۔
علی گوہر مہر کی سیاسی حکمتِ عملی کو اکثر بدلتے حالات کے مطابق قرار دیا جاتا ہے، اور وہ زیادہ تر حکمران جماعت کے ساتھ رہنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں وہ ضلع گھوٹکی کے ناظم منتخب ہوئے اور 2001 سے 2005 تک اس عہدے پر فائز رہے، جبکہ 2006 میں دوبارہ ضلع ناظم منتخب ہو گئے۔
اسی عرصے میں ان کے مرحوم بھائی، سردار علی محمد خان مہر، سندھ کے وزیرِ اعلیٰ بھی رہے۔ مہر برادری کی سرداری اگرچہ سردار محمد بخش مہر کے پاس ہے، تاہم والد کے انتقال کے وقت ان کی کم عمری کے باعث سرداری نظام کی عملی ذمہ داریاں علی گوہر مہر ہی سنبھالتے رہے۔

2013 سے 2018 تک علی گوہر مہر پاکستان پیپلز پارٹی کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن رہے، مگر بعد میں فریال تالپور سے اختلافات کے باعث سیاسی فاصلے پیدا ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ مہر خاندان کے دبئی کے حکمران خاندان سے قریبی تعلقات ہیں، اور متحدہ عرب امارات کے حکمران شکار کے لیے گھوٹکی کے صحراؤں کا رخ کرتے رہے ہیں، جہاں مہر خاندان ان کی میزبانی کرتا ہے۔
پیپلز پارٹی سے اختلاف کے بعد مہر خاندان دو دھڑوں میں تقسیم ہو گیا۔ سردار محمد بخش مہر پارٹی کے ساتھ رہے، جبکہ علی گوہر مہر نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ بعد ازاں سیاسی تعلقات میں بہتری آئی، جس میں محمد بخش مہر اور بلاول بھٹو زرداری کے روابط کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔
2018 سے 2023 تک علی گوہر مہر گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (GDA) کے ٹکٹ پر ایم پی اے رہے، مگر بعد میں معاملات بہتر ہونے پر دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے۔
اب ایک بار پھر مہر خاندان میں تقسیم کی خبریں گردش کر رہی ہیں، تاہم اس مرتبہ وجہ سیاسی نہیں بلکہ کم عمر خاتون سے شادی کو قرار دیا جا رہا ہے۔

