مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسی آگ کی لپیٹ میں ہے جس کا ایندھن عرب ممالک کا تیل اور سرمایہ ہے، مگر اس کا کنٹرول کہیں اور بیٹھا ہے۔ یہ صرف میزائلوں کی جنگ نہیں، بلکہ ایک عالمی ”خونی بزنس“ بھی ہے، جس میں طاقتور ممالک اپنے مفادات سمیٹ رہے ہیں، جبکہ خلیجی ریاستیں عملاً گراؤنڈ زیرو بن چکی ہیں۔
ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران کی جارحانہ حکمت عملی کے درمیان عرب ممالک کا وہ بھرم ٹوٹ چکا ہے کہ وہ محفوظ ہیں۔ تیل کے کنویں خطرے میں ہیں، اسٹاک مارکیٹیں دباؤ کا شکار ہیں، اور واشنگٹن سے لے کر تہران تک ایک نیا طاقت کا کھیل جاری ہے۔ اب سوال صرف دفاع کا نہیں، بلکہ اس پیچیدہ سفارتی جال سے نکلنے کا ہے، جہاں دوست اور دشمن کی سرحدیں دھندلا چکی ہیں۔
یورپ اور برطانیہ بھی اس کشمکش میں خاموش کردار ادا کر رہے ہیں۔ خفیہ آپریشنز، جنگی طیاروں کی نقل و حرکت، اور نئی صف بندیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ یہ تنازع اب علاقائی نہیں رہا۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ایک طرف کھڑے ہیں، جبکہ ایران اپنی حکمت عملی کے ساتھ جواب دے رہا ہے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نقصان صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں۔ اربوں ڈالر دفاعی نظام پر خرچ ہو رہے ہیں۔ ہوائی اڈوں کی بندش، تجارتی سرگرمیوں میں تعطل، اور اسٹاک مارکیٹوں سے سرمائے کا انخلا خلیجی معیشتوں کو شدید دھچکا دے رہا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو خطے کی معاشی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔
ایران کے حملے صرف انفراسٹرکچر تک محدود نہیں رہے، بلکہ خلیجی ریاستوں کے اس تاثر کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ دنیا کے محفوظ ترین کاروباری مراکز ہیں۔ اب یہ ممالک ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ یا تو وہ کھل کر کسی فریق کا ساتھ دیں، یا غیر جانبدار رہ کر اپنے شہروں کو خطرے میں ڈالیں۔
گزشتہ برسوں میں عمان، قطر اور سعودی عرب نے سفارتی کوششوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی تھی، مگر حالیہ پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ بڑی طاقتیں کسی بھی وقت حالات کو بدل سکتی ہیں۔ خلیجی سیکیورٹی ماڈل، جو امریکی فوجی اڈوں پر انحصار کرتا تھا، اب سوالیہ نشان بن چکا ہے۔
عرب ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا وہ اس جنگ کا حصہ بنیں یا اس سے دور رہیں۔ غزہ کی صورتحال پہلے ہی عوامی جذبات کو متاثر کر چکی ہے۔ اگر عرب ممالک ایران کے خلاف کھل کر سامنے آتے ہیں تو داخلی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ دوسری طرف، کسی بھی بڑی جنگ کے نتیجے میں عدم استحکام، مہاجرین کا دباؤ اور شدت پسندی جیسے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں۔
امریکہ کے اندر بھی اس جنگ پر اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ سفارتی عملے کی واپسی اور فوجی نقصانات نے سیاسی دباؤ کو بڑھا دیا ہے۔ بعض امریکی رہنماؤں کے بیانات نے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا کر دی ہے، جس کے جواب میں عرب میڈیا اور حکومتوں کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
اس تمام صورتحال نے ایک حقیقت واضح کر دی ہے۔ فائدہ اس جنگ سے وہ اٹھا رہا ہے جو دور بیٹھ کر فیصلے کر رہا ہے، چاہے وہ ہتھیار بیچنے والے ہوں یا عالمی منڈیوں کو کنٹرول کرنے والے۔ طاقت اب صرف دولت کا نام نہیں، بلکہ اثر و رسوخ اور کنٹرول کا نام ہے۔
عرب ممالک کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ امریکی دفاعی چھتری پر انحصار اب پہلے جیسا محفوظ نہیں رہا۔ بقا کا راستہ شاید دوسروں کی جنگ کا حصہ بننے میں نہیں، بلکہ اپنی آزاد دفاعی اور سیاسی شناخت کو مضبوط کرنے میں ہے۔
اگر آج فیصلہ نہ کیا گیا، تو آنے والی نسلیں شاید صرف خالی تیل کے کنوؤں اور تباہ شدہ شہروں کی تاریخ ہی پڑھیں گی۔

