کیا واقعی دنیا میں ایسے قوانین موجود ہیں جو سننے میں ناقابل یقین لگتے ہیں؟ قانون عام طور پر نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے بنایا جاتا ہے، مگر بعض اوقات یہ اپنے پیچھے ایسی کہانیاں چھوڑ جاتا ہے جو حیران بھی کرتی ہیں اور سوچنے پر بھی مجبور کرتی ہیں۔
اٹلی کے شہر وینس میں کبوتروں کو دانہ ڈالنے پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ یہ قانون کسی عجیب پابندی کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عملی ضرورت ہے۔ ماہرین کے مطابق کبوتروں کی بڑی تعداد تاریخی عمارتوں کو نقصان پہنچاتی ہے، ان کے فضلے میں موجود تیزاب قدیم پتھروں کو متاثر کرتا ہے۔ اسی لیے شہر نے اپنے ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ قدم اٹھایا۔
جاپان میں 2008 میں متعارف کرایا گیا ‘میٹابو لا’ بھی کم دلچسپ نہیں۔ اس قانون کے تحت 40 سے 74 سال کی عمر کے افراد کے لیے کمر کے سائز کی حد مقرر کی گئی ہے۔ اگر کوئی شخص اس حد سے تجاوز کرے تو کمپنیوں اور مقامی انتظامیہ کو صحت کے حوالے سے اقدامات کرنا پڑتے ہیں۔ اس کا مقصد موٹاپے سے جڑی بیماریوں جیسے دل کے امراض اور ذیابیطس کو کم کرنا ہے۔
سنگاپور میں چیونگم کی فروخت اور درآمد پر پابندی بھی ایک معروف مثال ہے۔ یہ قانون 1990 کی دہائی میں متعارف کرایا گیا، جب چیونگم عوامی مقامات، ٹرینوں اور دروازوں پر چپکا دی جاتی تھی، جس سے صفائی اور شہری نظام متاثر ہوتا تھا۔ آج بھی اس قانون کی خلاف ورزی پر جرمانہ ہو سکتا ہے، اگرچہ طبی چیونگم پر کچھ نرمی دی گئی ہے۔
سوئٹزرلینڈ میں شور سے متعلق قوانین خاصے سخت ہیں۔ کچھ اپارٹمنٹس میں رات 10 بجے کے بعد شور کرنے پر پابندی ہوتی ہے، اور بعض جگہوں پر ٹوائلٹ فلش کرنے کو بھی ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، اگر وہ پڑوسیوں کے سکون میں خلل ڈالے۔ یہ دراصل شہری نظم و ضبط اور باہمی احترام کی ایک مثال ہے۔
آسٹریلیا کے کئی حصوں میں برقی کام سخت قوانین کے تحت آتے ہیں۔ بغیر لائسنس کے بلب تبدیل کرنا یا الیکٹریکل مرمت کرنا غیر قانونی ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ حفاظتی معیار سے جڑا معاملہ ہے۔ اس قانون کا مقصد حادثات اور آگ لگنے جیسے خطرات کو کم کرنا ہے۔
تھائی لینڈ میں کرنسی نوٹ پر پاؤں رکھنا جرم ہے۔ اس کی وجہ محض قانون نہیں بلکہ ثقافت ہے، کیونکہ نوٹ پر بادشاہ کی تصویر ہوتی ہے اور اسے بے حرمتی سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے وہاں کرنسی کو احترام کے ساتھ استعمال کرنا ضروری ہے۔
کم لوگ جانتے ہیں کہ ایسے قوانین بظاہر عجیب ضرور لگتے ہیں، مگر ان کے پیچھے اکثر کوئی نہ کوئی مضبوط سماجی، تاریخی یا حفاظتی وجہ موجود ہوتی ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتے ہیں کہ ہر معاشرہ اپنے مسائل، اقدار اور ترجیحات کے مطابق اصول بناتا ہے۔
دنیا کے یہ قوانین ہمیں حیران ضرور کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی یہ ایک اہم حقیقت بھی یاد دلاتے ہیں۔ قانون صرف الفاظ نہیں ہوتا، بلکہ ایک معاشرے کی سوچ، ترجیحات اور تاریخ کا عکس ہوتا ہے۔
ساگا ڈیجیٹل
جہاں دنیا کی کہانیاں، نئے زاویے سے سامنے آتی ہیں۔

