سعودی عرب کی اہم تیل پائپ لائن کی بندش اور ملک میں تیل کی تنصیبات پر مزید حملوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ہوگیا ہے۔
منگل کو عالمی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 107 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ امریکی خام تیل بھی 103 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودوں کی قیمت میں 2.37 فیصد یعنی 2.50 ڈالر کا اضافہ ہوا اور یہ 108.18 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 2.43 فیصد اضافے کے بعد 103.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
رائٹرز کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ سعودی عرب کی مشرق سے مغرب تک جانے والی اہم تیل پائپ لائن کا بند ہونا اور سعودی توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر تازہ حملے ہیں۔ اس صورتحال نے عالمی مارکیٹ میں یہ خدشات پیدا کیے ہیں کہ تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹ جلد ختم نہیں ہوگی اور بنیادی تنصیبات کی مرمت میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
سعودی عرب کی ایس- ویسٹ پائپ لائن انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے کیونکہ یہ خلیج میں تیل کی برآمدات کو آبنائے ہرمز سے بچتے ہوئے بحیرہ احمر کی جانب منتقل کرنے میں مدد دیتی ہے۔ آبنائے ہرمز اس وقت خطے میں جاری جنگ اور کشیدگی کے باعث شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رائٹرز کے مطابق جمع کو سعودی عرب میں ہونے والے حملوں کے نتیجے میں یہ پائپ لائن متاثر ہوئی تھی۔ سعودی حکام نے ان حملوں کی ذمہ داری ایران نواز عراقی جنگجوؤں پر عائد کی ہے۔ پائپ لائن کی بندش کے باعث سعودی عرب کے لیے تیل کی برآمدات کو جاری رکھنا مشکل ہوگیا ہے۔
خریداروں اور تاجروں کے مطابق اگر پائپ لائن جلد دوبارہ فعال نہ ہوئی تو سعودی عرب کے پاس برآمد کرنے کے لیے دستیاب خام تیل چند دنوں میں ختم ہوسکتا ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس حملے سے عالمی تیل کی فراہمی کا تقریباً 4 فیصد متاثر ہونے کا خطرہ ہے۔
تیل کی عالمی مارکیٹ میں تشویش اس وقت مزید بڑھ گئی جب یمن کے ایران نواز حوثی گروپ نے پیر کے روز سعودی عرب پر نئے حملے کیے۔
حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے جنوبی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط میں ایک فوجی اڈے کو درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق حملے میں فوجی طیاروں کے ہینگرز، ریڈار سسٹم، رن ویز اور گولہ بارود کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا۔
حوثیوں نے یہ حملے یمن میں سعودی فضائی کارروائیوں کے جواب میں کیے ہیں۔ خطے میں جاری جنگ کے باعث سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
ایک آزاد میکرو اکنامک تحقیقی ادارے کیپیٹل اکنامکس (Capital Economics) کے سینئر ماہر اقتصادیات حماد حسین نے رائٹرز کو بتایا کہ سعودی عرب پر حوثیوں کے تازہ حملوں سے تیل کے سرمایہ کاروں کی اس توقع پر اثر پڑ سکتا ہے کہ موجودہ جنگ کتنی شدید اور کتنے عرصے تک جاری رہ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق سعودی پائپ لائن کی بندش اور آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت میں کمی عالمی تیل کی فراہمی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتی ہے۔
پیر کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد صرف چار رہ گئی، جبکہ ایک روز پہلے یہ تعداد 10 تھی۔ جنگ شروع ہونے سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی سپلائی اسی اہم سمندری راستے سے گزرتی تھی۔
اگر آبنائے ہرمز میں تیل کی ترسیل معمول پر نہ آئی اور سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن بھی کئی ہفتوں تک بند رہی تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید بڑھ سکتی ہے۔
برینٹ 120 سے 130 ڈالر تک پہنچنے کا امکان
امریکی مالیاتی ادارے گولڈمین سیکس (Goldman Sachs)نے کہا ہے کہ سعودی تیل کی تنصیبات پر حالیہ حملے خطے میں جاری تنازع میں ایک اہم اور خطرناک اضافہ ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو برینٹ خام تیل کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
گولڈمین سیکس کے مطابق سعودی عرب کی 2 ملین بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے کی صلاحیت بھی تازہ حملوں سے متاثر ہوسکتی ہے۔ پائپ لائن کی مرمت کے بارے میں اندازے مختلف ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق مرمت جلد مکمل ہوسکتی ہے، جبکہ کچھ تخمینوں میں آٹھ ہفتے تک کا وقت بتایا گیا ہے۔
کیپیٹل اکنامکس کے ماہر حماد حسین نے خبردار کیا کہ اگر سعودی پائپ لائن کئی ہفتوں تک بند رہی اور آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بھی اضافہ نہ ہوا تو برینٹ خام تیل کی قیمت 130 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ سکتی ہے۔
دوسری جانب چین سے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق اگست میں ملک کی تیل صاف کرنے والی صنعت میں سرگرمیاں مسلسل دوسرے ماہ بڑھیں۔ چین میں تیل کی ریفائنریوں نے اگست میں تقریباً 13.91 ملین بیرل یومیہ خام تیل پراسیس کیا، جو جولائی کے مقابلے میں نمایاں زیادہ ہے۔
رائٹرز کے مطابق چین میں تیل کی ریفائنری سرگرمیوں میں اضافہ بڑی حد تک پٹرولیم مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کے باعث ہوا۔ بیجنگ نے جولائی کے وسط میں ایندھن کی برآمدات پر عائد کچھ پابندیاں نرم کی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ، سعودی تیل تنصیبات پر حملے اور آبنائے ہرمز میں کم ہوتی بحری سرگرمیاں عالمی توانائی کی مارکیٹ کے لیے بڑے خطرات پیدا کر رہی ہیں۔ اگر یہ صورتحال طویل عرصے تک برقرار رہی تو خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، جس کے اثرات دنیا بھر میں پٹرول، ڈیزل، بجلی، ٹرانسپورٹ اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

