دنیا بظاہر دائیں ہاتھ والوں کے لیے ترتیب دی گئی محسوس ہوتی ہے۔ روزمرہ کی اشیاء سے لے کر تعلیمی نظام تک، زیادہ تر ڈیزائن اور سہولتیں اسی اکثریت کو مدنظر رکھ کر بنائی گئی ہیں۔ کاپی کا اسپرنگ بائیں ہاتھ والوں کے لیے رکاوٹ بن جاتا ہے، قینچی ان کے ہاتھ میں غیر مانوس لگتی ہے، اور یہاں تک کہ کمپیوٹر کے ماؤس کی جگہ بھی ایک خاص سمت کی عادی ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا نے خاموشی سے ایک طرف کا انتخاب کر لیا ہو۔
اس کے باوجود دنیا کی تقریباً دس فیصد آبادی بائیں ہاتھ سے لکھتی ہے۔ صرف دس فیصد۔ یہ ایک چھوٹا سا عدد ہے، مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ تاریخ میں ان کی موجودگی اس تناسب سے کہیں زیادہ نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
امریکہ کے سابق صدر باراک اوباما بائیں ہاتھ سے لکھتے تھے۔ برطانیہ کے شہزادہ ولیم بھی لیفٹ ہینڈڈ ہیں۔ موسیقی کی دنیا کے لیجنڈ پال مک کارٹنی اور پاپ آئیکن شکیرا نے اپنے فن سے عالمی سطح پر شناخت بنائی۔ ٹینس کورٹ پر رافیل نڈال نے اپنی بائیں ہاتھ کی طاقت سے مخالفین کو حیران کیا۔ اور اگر پاکستان کی بات کی جائے تو وسیم اکرم کا نام اس فہرست میں نمایاں ہے، جن کی بائیں ہاتھ کی گیند بازی نے کرکٹ کی تاریخ میں ایک نئی جہت پیدا کی۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ ایک چھوٹا سا فیصد بار بار تاریخ کے اہم موڑوں پر نظر آتا ہے۔ بائیں ہاتھ والے بچپن سے ایک ایسی دنیا میں خود کو ڈھالنا سیکھتے ہیں جو ان کے مطابق نہیں بنی۔ وہ اپنی کاپی کا زاویہ بدلتے ہیں، اپنی گرفت کو ایڈجسٹ کرتے ہیں، اور معمولی چیزوں کو بھی اپنے طریقے سے اپناتے ہیں۔ شاید یہی مسلسل مطابقت انہیں مختلف انداز میں سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
فرق ہمیشہ کمزوری نہیں ہوتا۔ بعض اوقات فرق ایک نیا زاویہ ہوتا ہے۔ جو دنیا کو مختلف زاویے سے دیکھتا ہے، وہ سوال بھی مختلف اٹھاتا ہے، راستے بھی مختلف تلاش کرتا ہے، اور نتائج بھی مختلف پیدا کرتا ہے۔ شاید اسی لیے تاریخ میں تبدیلی اکثر وہ لوگ لاتے ہیں جو اکثریت کا حصہ نہیں ہوتے۔
دنیا چاہے دائیں ہاتھ والوں کے لیے بنی ہو، مگر اسے بدلنے والوں میں بائیں ہاتھ والوں کا حصہ غیر معمولی رہا ہے۔ اور شاید یہی اس کہانی کا اصل سبق ہے کہ اختلاف محض فرق نہیں، بلکہ امکان بھی ہوتا ہے۔

