Tag: عالمی دن

  • انسانی حقوق کا عالمی دن: پاکستان کی صورتحال پر ایک خصوصی رپورٹ

    انسانی حقوق کا عالمی دن: پاکستان کی صورتحال پر ایک خصوصی رپورٹ

    دنیا کے ساتھ پاکستان میں بھی آج انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ یہ دن ہر سال 10 دسمبر کو اس یاد میں منایا جاتا ہے کہ 1948 میں اقوام متحدہ نے عالمی اعلامیۂ حقوقِ انسان منظور کیا تھا۔ پاکستان ان چند ابتدائی ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اس اعلامیے پر دستخط کیے۔ ہمارے آئین میں بھی ان بنیادی حقوق کی ضمانت موجود ہے۔

    لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں انسانی حقوق کی تاریخ ہمیشہ مشکل رہی ہے۔ فوجی حکومتوں کے لمبے دور نے یہاں جمہوری روایات کو کمزور کیا۔ جمہوری ادوار بھی مکمل طور پر بہتر ثابت نہیں ہوئے۔ سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیاں، گرفتاریوں اور دباؤ کے واقعات بار بار سامنے آتے رہے۔ موجودہ دور میں بھی یہی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں، خصوصاً پی ٹی آئی، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا رہی ہیں۔

    لاہور میں اپنی انتالیسویں سالانہ میٹنگ کے بعد ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سخت خدشات ظاہر کیے۔ کمیشن نے کہا کہ آئینی جمہوریت خطرے میں ہے۔ شہری آزادیوں میں کمی آرہی ہے۔ کمزور اور پسے ہوئے طبقات کے لیے حالات مزید سخت ہو رہے ہیں۔ کمیشن کا کہنا ہے کہ ملک میں جمہوری عمل، اظہارِ رائے اور سیاسی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔

    بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بھی صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق حکام اختلافِ رائے دبانے کے لیے قانون کا استعمال کر رہے ہیں۔ توہینِ شہرت، بغاوت، نفرت انگیزی اور “سائبر دہشت گردی” کے قوانین کو ناقدین کے خلاف استعمال کیا گیا۔ دوسری طرف شدت پسندی کے حملوں میں اضافہ ہوا جس نے امن و امان کے مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیا۔

    موسمیاتی تبدیلی نے عام آدمی کی مشکلات میں بھی اضافہ کیا۔ کہیں سیلاب آئے، کہیں گرمی نے روزگار اور زندگی دونوں کو خطرے میں ڈالا۔ کئی علاقوں میں درجہ حرارت پچاس ڈگری تک پہنچ گیا۔ لوگ پانی، روزگار اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رہے۔ مہنگائی میں کچھ کمی ضرور ہوئی، مگر مزدور طبقہ اب بھی بہت پیچھے ہے۔ کم آمدنی والے اور دیہاڑی دار کارکنوں کو نہ محفوظ ماحول ملا، نہ مناسب اجرت، اور نہ ہی یونین سازی کا حق۔

    اس سال انسانی حقوق کے دن کا عنوان ہے: "ہماری روزمرہ کی ضرورتیں”۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق صرف بڑے نعروں یا قوانین کا نام نہیں۔ یہ ان چھوٹی، بنیادی چیزوں میں بھی موجود ہیں جو ہماری زندگی کو سہارا دیتی ہیں—جیسے تحفظ، روزگار، پانی، صحت، انصاف اور آزادی۔ یہی ضروریات آج پاکستان میں سب سے زیادہ داؤ پر لگی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔

    لیکن ان سب کے درمیان ایک امید کی کرن بھی سامنے آئی ہے۔

    اسلام آباد میں آج ایک اہم اور خوش آئند خبر سامنے آئی۔ تھرپارکر سے تعلق رکھنے والے سماجی رہنما پِربھُو ستّیانی کو فرانکو۔جرمن ہیومن رائٹس اینڈ رول آف لاء پرائز سے نوازا گیا۔ یہ پاکستان کے لیے قابلِ فخر لمحہ ہے۔ تقریب فرانسیسی ریزیڈنس میں ہوئی جہاں ان کی خدمات کو عالمی سطح پر سراہا گیا۔

    پِربھُو ستّیانی نے ہمیشہ پسماندہ طبقات کے لیے آواز اٹھائی۔ بچوں کے حقوق کی قومی کمیشن میں ان کا کردار نمایاں رہا۔ مذہبی اقلیتوں پر لکھی گئی ان کی کتاب نے دنیا کو پاکستان کے اہم مسائل سے آگاہ کیا۔ فرانس اور جرمنی ہر سال یہ اعزاز اُن شخصیات کو دیتے ہیں جو انسانی حقوق کے لیے غیر معمولی کام کریں۔ اس سال پاکستان کا انتخاب اس بات کی علامت ہے کہ یہاں مثبت کردار ادا کرنے والے لوگ موجود ہیں اور دنیا انہیں دیکھ بھی رہی ہے۔

    پِربھُو ستّیانی کی کامیابی اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ مشکل حالات میں بھی امید کا چراغ جل سکتا ہے۔ تھرپارکر جیسے دور دراز علاقے سے اٹھنے والی ایک آواز، آج عالمی سطح پر سنی جا رہی ہے۔

    پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال پیچیدہ ضرور ہے، مگر یہ اعزاز بتاتا ہے کہ تبدیلی کی کوششیں جاری ہیں۔ انسانی حقوق صرف قوانین کا نام نہیں، بلکہ وہ روزمرہ کا سہارا ہیں، جن پر زندگی کھڑی ہوتی ہے۔ اور جب ایسے افراد سامنے آتے ہیں جو ان سہاراوں کو مضبوط بنانے کے لیے لڑتے ہیں، تو ایک بہتر مستقبل کی امید بھی روشن ہو جاتی ہے۔