Tag: عابدہ پروین

  • آج 20 اپریل کو برصغیر کی عظیم صوفی گلوکارہ، عابدہ پروین کا جنم دن

    آج 20 اپریل کو برصغیر کی عظیم صوفی گلوکارہ، عابدہ پروین کا جنم دن

    برصغیر کی عظیم صوفی گلوکارہ، عابدہ پروین 20 اپریل 1956 کو لاڑکانہ کے علی گوہر آباد میں ایک موسیقار گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ماسٹر غلام حیدر ایک سریلی آواز کے راگی تھے اور لاڑکانہ میں موسیقی کا اسکول چلاتے تھے، جبکہ ان کی والدہ ممتاز بیگم بھی گایا کرتی تھیں۔ ان کا خاندان لاڑکانہ سے خیرپور، سکھر اور مٹیاری سے ہوتا ہوا آخر کار حیدرآباد میں جا بسا۔

    عابدہ کو موسیقی کی ابتدائی تعلیم اپنے والد سے ملی، جس کے بعد انہوں نے لاڑکانہ کے استاد مہر علی خان سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ 1972 میں حیدرآباد کی ایک تقریب میں ریڈیو پاکستان کے پروڈیوسر شیخ غلام حسین نے ان کی آواز سنی اور انہیں ریڈیو پر گانے کی دعوت دی۔ موسیقی کے اس سفر میں ان کی تربیت اور رہنمائی استاد محمد جمن، استاد نیاز حسین، استاد سلامت علی خان، ماسٹر محمد ابراہیم اور نامور براڈکاسٹر اللہ بخش بخاری جیسی عظیم شخصیات نے کی۔ لیکن ان کے تلفظ اور ادائیگی کو سنوارنے میں سب سے بڑا اور بنیادی کردار شیخ غلام حسین کا رہا۔

    فنی سفر کا آغاز اور کامیابیاں

    عابدہ پروین نے اپنے فنی سفر کا آغاز 1972 میں ریڈیو پاکستان حیدرآباد کے پروگرام ‘شوقیہ گانے والے’ سے کیا۔ ریڈیو پر ان کی پہلی ریکارڈ شدہ کلام عبدالغفور مفتون ہما یونی کا ‘تیرے زلف کے بند کمند ڈالے’ تھا۔ انہوں نے بہت تھوڑے عرصے میں بڑی مقبولیت حاصل کی۔ ریڈیو کے بعد انہیں ٹیلی ویژن پر متعارف کرانے کا سہرا ممتاز مرزا کے سر جاتا ہے، جنہوں نے 1979 میں انہیں پی ٹی وی کے پروگرام ‘سندھ سینگار’ میں موقع دیا۔ 1986 میں سلطانہ صدیقی کے پروگرام ‘آواز و انداز’ میں ان کا گایا ہوا اردو غزل ‘جب سے تو نے مجھے دیوانہ بنا رکھا ہے’ اور ‘یار دی گھڑولی’ نے انہیں ملک کے کونے کونے میں مشہور کر دیا۔

    عابدہ اپنے مخصوص مردانہ انداز، غزل اور کافی کے امتزاج اور اسٹیج پر بے مثال پرفارمنس کی وجہ سے منفرد پہچان رکھتی ہیں۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی، سچل سرمست، بابا فرید، بلی شاہ، شیخ ایاز اور استاد بخاری سمیت کئی صوفی اور جدید شاعروں کو گایا ہے۔

    ذاتی زندگی، عالمی پذیرائی اور ایوارڈز

    1975 میں عابدہ پروین نے اپنے محسن اور میوزک پروڈیوسر شیخ غلام حسین سے شادی کی (جو ان کی دوسری شادی تھی)۔ شیخ غلام حسین کی مسلسل رہنمائی نے انہیں عروج پر پہنچایا۔ 1996 میں شوہر کی وفات کے بعد وہ کراچی چھوڑ کر اپنے بچوں (ایک بیٹا سارنگ لطیف اور دو بیٹیاں سندھو اور پرہ) کے ساتھ اسلام آباد منتقل ہو گئیں۔

    عابدہ پروین نے امریکہ، برطانیہ، فرانس، جرمنی، جاپان، بھارت اور کینیڈا سمیت دنیا کے کئی ممالک میں اپنے فن کا جادو جگایا ہے۔ سال 2000 میں نیویارک کے ایک پارک میں ان کی پرفارمنس کے دوران صوفیانہ کلام کے سحر میں انگریز بھی وجد میں آ کر ناچنے اور بے ہوش ہونے لگے تھے۔ انہیں ‘راگ کی رانی’ اور ‘ام کلثوم’ جیسے خطاب ملے ہیں۔

    حکومت پاکستان اور مختلف اداروں کی طرف سے انہیں کئی اعزازات ملے ہیں، جن میں شامل ہیں:

    سچل سرمست ایوارڈ (1980)

    سہنی ایوارڈ (1980 – سندھ گریجویٹس ایسوسی ایشن)

    پرائیڈ آف پرفارمنس (1982)

    ستارہ امتیاز (2005)

    ان کے گائے ہوئے چند لازوال کلاموں میں ‘پرچن شال پنہوار’، ‘گھنڈ کھول دیدار وکھاؤ’، ‘یار دی گھڑولی’، ‘دامن لگیاں مولا’ اور ‘سندھ میری ماں’ شامل ہیں جو آج بھی ہر دل عزیز ہیں۔

    حوالہ: سندھیانا انسائیکلوپیڈیا

    انتخاب: ذوالفقار علی بھٹی

  • عمرکوٹ: نیوچھور کے 10 سالہ کلاسیکل گلوکار شاہ زین عاطف اسلم، عابدہ پروین سے ملاقات کا خواں

    عمرکوٹ: نیوچھور کے 10 سالہ کلاسیکل گلوکار شاہ زین عاطف اسلم، عابدہ پروین سے ملاقات کا خواں

    سندھ کے ضلع عمرکوٹ کے شہر نیوچھور سے ایک ایسی آواز ابھر رہی ہے جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے میں اپنی پہچان بنا رہی ہے۔ یہ آواز ہے 10 سالہ گلوکار شاہ زین کی، جس نے اپنی کم عمری کے باوجود اپنی دلکش اور سریلی گائیکی سے لوگوں کے دل جیت لیے ہیں۔

    شاہ زین کی آواز میں ایک فطری مٹھاس اور سادگی پائی جاتی ہے، جو سننے والے کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے۔ ان کی گائیکی میں بناوٹ یا مصنوعی پن کے بجائے ایک معصومیت جھلکتی ہے، جو شاید ان کی اصل طاقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب وہ کوئی گانا گاتے ہیں تو سننے والے صرف سنتے ہی نہیں بلکہ اس کیفیت کو محسوس بھی کرتے ہیں۔

    سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ٹیلنٹ کو سامنے آنے کے لیے ایک پلیٹ فارم درکار ہوتا ہے، شاہ زین کی ویڈیوز تیزی سے لوگوں تک پہنچ رہی ہیں۔ ان کی گائیکی پر مبنی مختصر ویڈیوز مختلف پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہیں، جہاں صارفین نہ صرف انہیں سراہ رہے ہیں بلکہ ان کے روشن مستقبل کے لیے دعائیں بھی دے رہے ہیں۔ کئی لوگوں نے ان کی آواز کو قدرتی صلاحیت کا بہترین نمونہ قرار دیا ہے۔

    شاہ زین کا یہ سفر کسی بڑے شہر یا جدید میوزک اکیڈمی سے شروع نہیں ہوا، بلکہ ایک سادہ سے ماحول سے پروان چڑھا ہے۔ مقامی تقریبات، چھوٹی محافل اور علاقے کے سماجی پروگرامز میں گاتے گاتے وہ آج اس مقام تک پہنچے ہیں جہاں ان کا نام سندھ کے مختلف شہروں میں جانا پہچانا جا رہا ہے۔ اب انہیں مختلف تقریبات میں بطور خاص مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ اپنی آواز سے سامعین کو محظوظ کرتے ہیں اور خوب داد سمیٹتے ہیں۔

    ان کے والد نواز علی کا کردار اس سفر میں نہایت اہم ہے۔ وہ نہ صرف اپنے بیٹے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں بلکہ اس کی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کے لیے ہر ممکن کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ اگر ایسے بچوں کو بروقت رہنمائی اور مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ مستقبل میں ملک کے بڑے فنکار بن سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومتی اور ثقافتی ادارے ایسے ابھرتے ہوئے ٹیلنٹ کو پہچانیں اور انہیں آگے بڑھنے کے لیے سہولیات فراہم کریں۔

    موسیقی سے وابستہ افراد بھی شاہ زین کی آواز کو سن کر متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں ایک قدرتی صلاحیت موجود ہے، جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔ اگر اس صلاحیت کو باقاعدہ تربیت، کلاسیکل بنیادوں اور جدید موسیقی کے امتزاج کے ساتھ پروان چڑھایا جائے تو وہ مستقبل میں ایک نمایاں گلوکار کے طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔

    علاقہ مکینوں کے لیے شاہ زین صرف ایک گلوکار نہیں بلکہ امید کی ایک علامت بن چکے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ایک چھوٹے سے شہر کا بچہ اپنی آواز کے ذریعے اتنی پہچان حاصل کر سکتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹیلنٹ کسی جگہ یا وسائل کا محتاج نہیں ہوتا۔ تاہم، وہ حکومت سے یہ مطالبہ بھی کر رہے ہیں کہ ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں، تاکہ وہ اپنی صلاحیتوں کو مزید بہتر انداز میں پیش کر سکیں۔

    شاہ زین کی کہانی دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کے چھوٹے شہروں اور دور دراز علاقوں میں بے شمار باصلاحیت بچے موجود ہیں، جو صرف ایک موقع اور رہنمائی کے منتظر ہیں۔ اگر ان کی صلاحیتوں کو بروقت پہچان لیا جائے اور انہیں آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے تو یہی بچے مستقبل میں ملک کا نام روشن کر سکتے ہیں۔