Tag: طورخم بارڈر

  • طورخم بارڈر کی دس ماہ سے بندش، لنڈی کوتل اور طورخم کی معیشت مفلوج، ہزاروں افراد بے روزگار

    طورخم بارڈر کی دس ماہ سے بندش، لنڈی کوتل اور طورخم کی معیشت مفلوج، ہزاروں افراد بے روزگار

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی کشیدگی کے باعث طورخم بارڈر، جو دونوں ممالک کے درمیان واقع سب سے اہم اور مصروف سرحدی گزرگاہ ہے، گزشتہ تقریباً دس ماہ سے مختلف اوقات میں بندش اور تجارتی سرگرمیوں کی معطلی کا شکار ہے، جس کے باعث لنڈی کوتل اور طورخم کی معیشت شدید بحران سے دوچار ہو گئی ہے۔ سرحدی تجارت متاثر ہونے سے نہ صرف لنڈی کوتل بازار بلکہ طورخم مارکیٹ بھی تقریباً مکمل طور پر بند ہو چکی ہے، جبکہ قومی خزانے کو بھی اربوں روپے کے محصولات سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔

    یہ سرحدی گزرگاہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں واقع ہے اور پاکستان کے شہر لنڈی کوتل کو افغانستان کے صوبہ ننگرہار کے شہر جلال آباد سے ملاتی ہے۔

    مقامی تاجر میاں امان نے بتایا کہ بارڈر بند ہونے کے بعد بازار میں خریداروں کی آمد نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق پہلے مقامی افراد کے ساتھ ساتھ افغان شہری بھی خریداری کے لیے آتے تھے، مگر اب بیشتر دکانیں دن کے وقت ہی بند ہو جاتی ہیں کیونکہ کاروبار تقریباً ختم ہو چکا ہے۔

    ہول سیل تاجر رحمان علی کا کہنا ہے کہ سرحدی تجارت معطل ہونے سے ان کی فروخت میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کے رک جانے سے تاجروں کو لاکھوں روپے کے نقصانات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں اور کاروباری سرگرمیاں شدید متاثر ہیں۔

    مقامی ریسٹورنٹ مالک ذوالفقار شینواری نے بتایا کہ پہلے روزانہ بڑی تعداد میں گاہک آتے تھے اور کئی دنبے ذبح کیے جاتے تھے، لیکن اب گاہکوں کی کمی کے باعث دو سے تین دنبوں کا گوشت فروخت کرنا بھی مشکل ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان سے جانوروں کی آمد بند ہونے کے باعث مٹن کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے کاروبار مزید متاثر ہوا ہے۔

    تاجروں کے مطابق بارڈر کی بندش کے باعث تقریباً 2,500 مزدور بے روزگار ہو چکے ہیں، جبکہ 3,000 کے قریب ٹیکسی ڈرائیور بھی روزگار سے محروم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لنڈی کوتل بازار اور طورخم مارکیٹ کی بندش سے ہزاروں خاندان معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔

    مقامی تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ طورخم بارڈر کو جلد از جلد مستقل بنیادوں پر کھولا جائے تاکہ پاک، افغان تجارت بحال ہو، ہزاروں افراد کا روزگار دوبارہ بحال ہو، مقامی معیشت کو سہارا ملے اور قومی خزانے کو ہونے والے اربوں روپے کے نقصان کا سلسلہ بھی روکا جا سکے۔