Tag: طلاق

  • طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے؟ عورت کے لیے خلع حاصل کرنا کتنا مشکل عمل ہے؟

    طلاق اور خلع میں کیا فرق ہے؟ عورت کے لیے خلع حاصل کرنا کتنا مشکل عمل ہے؟

    پاکستانی معاشرے میں خاندانی نظام کو درپیش اہم ترین مسائل میں سے ایک طلاق اور خلع کا بڑھتا ہوا رجحان ہے۔
    طلاق، جو کہ شوہر کا یکطرفہ اختیار ہے، جبکہ خلع عورت کا وہ قانونی و شرعی حق ہے جس کے ذریعے وہ عدالت یا شوہر کی رضامندی سے علیحدگی حاصل کرتی ہے۔
    طلاق اور خلع دونوں ہی عمل سماجی اور مذہبی حساسیت رکھتے ہیں، جن کی بنیاد پر محض دو افراد نہیں بلکہ خاندانوں کے ملاپ اور رشتوں کا خاتمہ منحصر ہے۔
    یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ طلاق یا خلع، دونوں صورتوں میں شوہر اور بیوی کو جوڑنے والا شرعی اور قانونی رشتہ یعنی نکاح ختم ہو جاتا ہے۔
    شوہر یہ رشتہ ختم کرنا چاہے تو طلاق دیتا ہے اور بیوی کے پاس اس تعلق کو ختم کرنے کے لیے خلع لینے کا قانونی راستہ موجود ہے۔ اسلامی قانون کے تحت طلاق اور خلع نکاح کے خاتمے کی دو الگ الگ صورتیں ہیں مگر نتیجہ ایک ہی ہے، وہ ہے زوجین کی علیحدگی۔

    پاکستان میں خلع کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کہ یہ خواتین کے قانونی حقوق کے ارتقاء کی عکاسی کرتا ہے، اگرچہ معاشرتی سطح پر اسے اب بھی روایتی اقدار کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ ہمارا معاشرہ جسے مردوں کا معاشرہ کہا جاتا ہے، یہاں سماجی پابندیاں اور مشرقی روایات غالب ہیں اور کئی پریشانیوں اور الجھنوں کے باوجود بیشتر خواتین خلع کا راستہ اپنانے سے گریز کرتی ہیں۔
    حالاں کہ اگر بیوی علیحدگی چاہے تو وہ خلع کے ذریعے نکاح ختم کروا سکتی ہے۔

    پاکستان میں رائج قوانین کے مطابق بیوی ‘ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964’ کے تحت فیملی کورٹ میں خلع کی درخواست دے سکتی ہے، قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے۔

    عدالت درخواست موصول ہونے کے بعد شوہر کو طلب کرتی ہے اور دونوں فریقین کو سنا جاتا ہے۔
    اسلامی اصولوں کے مطابق عدالت صلح کی کوشش بھی کرتی ہے، لیکن اگر یہ ممکن نہ ہو تو نکاح ختم کر دیا جاتا ہے۔
    قانونی ماہرین کے مطابق خواتین کے لیے آسانیاں موجود ہیں، مشکل اور طویل قانونی جنگ کا تاثر بالکل غلط ہے۔

    عورت ‘ڈیسولوشن آف میرج ایکٹ 1939’ کی شق 2 کے تحت درخواست دائر کرتی ہے اور خلع حاصل کرنے کا عمل ایک سے دو ماہ میں مکمل ہو جاتا ہے اور اس دوران بار بار عدالتوں کے چکر لگانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آتی۔
    قانونی ماہرین کے مطابق اس ضمن میں ایک اور تاثر بھی موجود ہے کہ عورت کو خلع کے لیے اپنے الزامات کے ساتھ شواہد بھی پیش کرنا ہوں گے،
    حالاں کہ خلع کے لیے بیوی پر وجوہات ثابت کرنے کا بوجھ بھی نہیں ہوتا۔

    درخواست میں وجوہات ضرور بیان کی جاتی ہیں، قانون کہتا ہے کہ عورت کو دو سال سے اخراجات نہیں دیے جا رہے یا بیوی کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، شوہر ازدواجی تعلقات قائم نہیں کر رہا تب بھی وہ خلع لینے کا حق رکھتی ہے۔

    اگر شوہر لاپتا ہے اور چار برس گزر چکے ہیں، شوہر کو عدالت سے سات سال کی قید کی سزا سنا دی گئی ہو یا شوہر بدسلوکی کرتا ہے تو یہ بھی خلع کے حصول کے لیے معقول وجوہات میں شامل ہیں۔ بلکہ عورت صرف یہ بھی کہہ دے کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تب بھی خلع کی درخواست رد نہیں کی جا سکتی۔

    ابتدائی مرحلے میں شوہر کو نوٹس جاری کر دیا جاتا ہے۔ عدالتی نوٹس پر شوہر عدالت میں پیش نہ ہو تو اخبار میں اشتہار شائع ہوگا، پھر بھی شوہر نہ آنا چاہے تو یکطرفہ کارروائی کے تحت خلع کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے۔

    اگلے مرحلے میں قانونی تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے عدالت کی ڈگری کو مقامی یونین کونسل میں جمع کرایا جاتا ہے، یو سی کی جانب سے 90 دن میں مفاہمت کی کوشش کی جائے گی۔
    پھر بھی مفاہمت نہ ہو سکے تو یونین کونسل شادی کے خاتمے کی سند جاری کرے گی۔ فیملی قوانین سے متعلق وکلا کہتے ہیں کہ درخواست دائر کرنے کا عمل بھی بہت آسان ہے۔ عورت کے پاس نکاح نامہ نہ بھی ہو تو صرف بیان حلفی، قومی شناختی کارڈ، شوہر کے گھر کا پتہ معلوم ہو تو خلع کی درخواست دائر کی جا سکتی ہے۔