Tag: صدا

  • کیسریا بالما، محبت، ہجر اور صحرا کی صدیوں پرانی صدا

    کیسریا بالما، محبت، ہجر اور صحرا کی صدیوں پرانی صدا

    صحرائے تھر کا مشہور اور مقبول لوک گیت کیسریا بالما آؤ رے، پدھارو مانرے دیس محض ایک نغمہ نہیں بلکہ محبت، جدائی، انتظار اور وصال کی پوری تہذیبی تاریخ اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ یہ گیت صدیوں سے استاد گویوں، لوک فنکاروں اور عام دیہاتی لوگوں کی زبان پر یکساں طور پر زندہ ہے۔

    تھر کے دیہات میں جب کوئی اپنا عزیز پردیس سے واپس بلانا ہو، یا کسی پردیسی سے محبت کا اظہار کرنا ہو، تو الفاظ خود بخود کیسریا بالما کے سروں میں ڈھل جاتے ہیں۔

    اس گیت کو سنتے ہوئے یہ احساس شدت سے ابھرتا ہے کہ محبت کا ساتواں سر کیسے گایا جاتا ہے۔ دل کے ساز پر راگ کیسے آگ بن کر دہک اٹھتا ہے۔ صحرا میں نکلے پورے چاند کی روشنی، ریت کے ٹیلوں پر بکھرا سکوت اور دل میں اترتا حسن کیوں عمر بھر یاد رہ جاتا ہے۔ ہجر کے بستر پر دکھوں کی چادر اوڑھ کر سونا، انتظار کی تپش میں جلتی آنکھوں کے خواب اور ان خوابوں کا ٹوٹ جانا، یہ سب کیفیتیں اس لوک گیت کے ہر بول میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہیں۔

    کیسریا بالما کا انترا پورے گیت کی جان سمجھا جاتا ہے۔ روایت کے مطابق اس انترا سے پہلے لوک دوہے، چھند اور مختلف شاعروں کے فراقیہ اشعار گائے جاتے ہیں۔ یہ اشعار صحرا کی رات کی ٹھنڈک اور دن کی تپش، دونوں کو ایک ساتھ اپنے اندر سمیٹے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب صحرا سے دور بیٹھا کوئی شخص اس گیت کی دھن سنتا ہے تو اس کی آنکھوں میں ریت کے ٹیلے، اڑتی دھول اور لمبے سفر تیرنے لگتے ہیں۔

    دل چاہتا ہے کہ وہ دوڑ کر اس دھرتی کی طرف لوٹ جائے جہاں محبت اور قربانی کو زندگی کی سب سے بڑی قدر سمجھا جاتا ہے۔

    اس گیت کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے راجپوت روایتوں کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ ایک رائے کے مطابق کیسریا بالما کا تعلق راجپوتوں کی رسم ساکا سے ہے۔ تاریخ میں ساکا اس اجتماعی عمل کو کہا جاتا تھا جس میں انتہائی مشکل حالات میں مرد میدانِ جنگ میں آخری دم تک لڑنے کا عہد کرتے تھے، جب کہ عورتیں دشمن کے ہاتھ آنے سے پہلے جوہر کی رسم ادا کرتی تھیں۔

    جوہر عام طور پر رات کے وقت انجام دیا جاتا تھا، خواتین اپنی شادی کا لباس پہن کر اس رسم کو ادا کرتیں اور برہمن پجاری وید کے منتر پڑھتے تھے۔ مرد حضرات جوہر کے بعد راجپوتانیوں کی راکھ اپنے ماتھے پر لگا کر زعفرانی لباس پہنتے اور دشمن کے خلاف نکل پڑتے تھے۔

    اسی زعفرانی رنگ اور قربانی کے تصور کو کیسریا کہا گیا۔ جوہر اور کیسریا کے امتزاج کو ساکا کے نام سے جانا جاتا تھا۔

    بھاٹ، چارن اور منگنہار جیسے لوک فنکاروں نے ان واقعات کو اپنی رزمیہ شاعری میں محفوظ کیا۔ یہی رزمیہ اور فراقیہ روایت آگے چل کر کیسریا بالما جیسے لوک گیتوں میں ڈھل گئی، جہاں محبوب کو بلانا محض ذاتی خواہش نہیں بلکہ وفا، عہد اور قربانی کی علامت بن گیا۔

    کچھ محققین اس لوک گیت کو صحرائے تھر کی مشہور رومانوی داستان ڈھولا مارو سے بھی جوڑتے ہیں۔ ڈھولا مارو تھر کی منظوم داستانوں میں سب سے زیادہ معروف سمجھی جاتی ہے۔

    اس داستان میں محبت، جدوجہد، تلاش اور انسانی وجود کی کشمکش کو اس انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ آج کے دور میں بھی اس کی معنویت کم نہیں ہوئی۔ اس روایت میں مارو اپنے محبوب ڈھولا کو پکارتی ہے اور صحرا کی وسعت، روایات اور خوشی و غم کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اسے اپنے دیس آنے کی دعوت دیتی ہے۔

    لفظ بالم کا مطلب پیارا یا محبوب ہے، جبکہ کیسریا زرد، زعفرانی پیلے، نارنجی اور بھگوا رنگ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ زعفران کے اندرونی باریک ریشوں کو کیسر کہا جاتا ہے، جو خوشبو، رنگ اور قدروقیمت کے حوالے سے خاص اہمیت رکھتے ہیں۔

    زعفران کا پودا قد میں چھوٹا ہوتا ہے، اس کے پتے چنبیلی سے مشابہ اور جڑ پیاز کی مانند گول ہوتی ہے۔ اس کے پھول کے درمیان تین یا چار باریک ریشے ہوتے ہیں جو پانی میں ڈالنے سے فوراً رنگ چھوڑ دیتے ہیں۔ طب میں بھی زعفران صدیوں سے استعمال ہوتا آ رہا ہے۔

    کارونجھر کے علاقے میں ایک مقامی بیل کیسوڑو کہلاتی ہے، جس کے خوبصورت پیلے پھولوں کو کیسریا گل بھی کہا جاتا ہے۔ لوک گیت میں آیا ہوا کیسریا پھول زعفران ہو یا کیسوڑو، اس پر محققین کی آرا مختلف ہیں، مگر گیت میں گوری کا بالم کیسریا کہلانا اسے رنگ، خوشبو اور تقدس کی علامت بنا دیتا ہے۔

    یہاں محبوب کا رنگ محبوبہ کے وجود میں سرایت کر جاتا ہے اور کامنی اپنے کیسریا پیا کے رنگ میں رنگی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

    آج بھی صحرائے تھر میں دیہاتی خواتین فطری خوبصورتی کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ جب وہ پیروں میں جھانجھر، ہاتھوں میں جھمکے، کانوں میں بالیاں، ناک میں نتھنی، گلے میں ہار اور ماتھے پر بندیا سجا کر یہ گیت گاتی ہیں تو منظر ایسا ہوتا ہے جیسے چودھویں کا چاند بھی اپنی روشنی پر نادم ہو جائے۔

    پتلی کمر والی صحرائی عورتیں اپنی پریت سے عشق اور وفا کی علامت بن کر کیسریا بالما گاتی ہیں اور یہ صدا نسل در نسل سفر کرتی رہتی ہے۔

    کیسریا بالما کا کوئی ایک حتمی پس منظر طے کرنا آسان نہیں، مگر یہی اس کی اصل طاقت ہے۔ یہ گیت تاریخ، دیومالا، محبت اور انسانی جذبوں کے سنگم پر کھڑا ہے۔ شاید اسی لیے یہ نغمہ آج بھی صحرا کی خاموش راتوں میں، دور دیس میں بیٹھے دلوں میں اور ہر اس شخص کے اندر زندہ ہے جو محبت کو فاصلے سے ناپنے کے بجائے انتظار سے پہچانتا ہے۔

    1

    کیسریا بالم آؤ نے، پدھارو مانرے دیس

    پدھارو مانرے دیس،

    کیسریا بالم آؤ نے، پدھارو مانرے دیس

    ساون آون کہے گیو کر گیو قول انیک

    گنتے گنتے گھٹ گئی  مانری انگڑیاں ری ریکھ

    کانگا سب تن کھائیو، چن چن کھایو ماس،

    دو نیناں مت کھائیو، مویے پیا ملن کی آس

    ساجن یہ  مت جانیئے تو بچھڑے موہے چین

    جیسے جل بن مچھلی تڑپت ہے دن رین

     

    ساجن آیا اے سکھی، سو تاں منوہار کراں،

    تھال بھراں گج موتیاں را، اوپر نین دھراں۔

    جو میں ایسا جانتی پریت کیئے دکھ ہو،

    نگر ڈھنڈھورا پیٹتی کہ پریت نا کرئے کو۔

    ساجن ہم تم ایک ہیں،  جوکہن سنن میں دو،

    من کو من سے تولئیے، کبھی دو من نا ہو

    ترجمہ :

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو  میرے دیس

    پدھارو میرے دیس،

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو میرے دیس

    ساون میں آ نے کا  کہہ کر  کر گیا وعدے انیک

    گنتے گنتے مٹ گئی رے میری انگلیوں کی ریکھ

    ارے کوا سب تن کھاؤ رے ، چن چن کھاؤ ماس،

    دو آنکھیں نہیں کھانا رے، مجھے پیا ملن کی آس

    ساجن یہ  نہیں سمجھنا، تیری جدائی موہے چین

    جیسے پانی  بن مچھلی،  تڑپتی  ہے دن رین

    ساجن آیا ہےسکھی،  کیسے استقبال کروں،

    تھال  بھرے  ساچے موتی ، اوپر نین دھروں۔

    جو میں ایسا جانتی پریت کیے دکھ ہوئے،

    نگر ڈھنڈورا پیٹتی کہ پریت نا کیجو کوئے ۔

    ساجن ہم تم ایک ہیں، جو کہنے سننے میں دو،

    من کو من سے تولیے ، کبھی  دو من نہ ہو

     

    2

    کیسریا بالم آؤ رے، پدھارو رے مانرے دیس

    مانرے من را ساچا، آؤ رے، پدھارو رے مانرے دیس

    آون جاون کہے گیو کرے گیو قول انیک

    گنتے گنتے گس گئی مانرے انگڑیاں ری ریکھ

    سورج تھانے پوجساں بھر موتیڑاں کو تھال،

    آج موڑا اوگجو   مانرو بالم  رمے شکار

    ترجمہ :

    کیسریا بالم آؤ رے پدھارو رے میرے دیس

    میرے من کے ساچے، آؤ رے پدھارو رے میرے دیس

    آنے جانے کا کہہ کر گیا کیے وعدے انیک

    گنتے گنتے مٹ گئی میرے انگلیوں کی ریکھ

    سورج تیری پوجا کروں گی بھر موتیاں کا تھال،

    آج دیر سے طلوع ہونا میرا بالم  کھیلے شکار

    3

    کیسریا بالما، آئو رے ، پدھارو رے مانرے دیس

    تجھ بن موہے چین نا آوے کیوں بیٹھ رہیو پردیس

    کیسریا بالما، آئو رے ، مانرے دیس

    ساون آیا بھول گیا نا آپ آیا نہ کو سندیس

    کیسریا بالما، آئو رے ، مانرے دیس

    ترجمہ :

     

    کیسریا بالم، آؤ رے، پدھارو رے میرے دیس

    تجھ بن مجھے چین نہیں آئے کیوں بیٹھ گئے ہو پردیس

    کیسریا بالم، آؤ رے، میرے دیس

    ساون آیا بھول گئے نا آئے نا کوئی سندیس

    کیسریا بالم، آؤ رے، میرے دیس