Tag: صحافت

  • موسمیاتی صحافت وقت کی اہم ضرورت ہے

    موسمیاتی صحافت وقت کی اہم ضرورت ہے

    موسمیاتی تبدیلی اب صرف ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ معیشت، صحت، زراعت، پانی کے وسائل، خوراک کے تحفظ اور قومی ترقی سے جڑا ہوا ایک ہمہ جہتی بحران بن چکی ہے۔

    ماحولیاتی ماہرین کے مطابق اگر عوام کو بروقت، درست اور مستند معلومات فراہم نہ کی جائیں تو قدرتی آفات کے اثرات مزید سنگین ہو سکتے ہیں، کیونکہ معلومات کی کمی لوگوں کی بروقت تیاری، محفوظ انخلا اور احتیاطی اقدامات میں بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے صرف حکومتی پالیسیوں پر انحصار نہیں کرنا چاہیے بلکہ ذرائع ابلاغ کو بھی اپنی قومی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔ درست، تحقیق پر مبنی اور سائنسی شواہد سے مزین رپورٹنگ نہ صرف عوام میں موسمیاتی شعور پیدا کرتی ہے بلکہ پالیسی سازوں، سرکاری اداروں اور منتخب نمائندوں کی توجہ بھی ان مسائل کی جانب مبذول کراتی ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔

    ماحولیاتی ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی کے سب سے زیادہ اثرات غریب، پسماندہ، دیہی اور ساحلی آبادیوں پر پڑتے ہیں، لیکن ان کی مشکلات قومی ذرائع ابلاغ میں محدود جگہ حاصل کر پاتی ہیں۔ ان کے مطابق صحافیوں کو صرف سیلاب، بارشوں یا طوفانوں کی رپورٹنگ تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ پانی کی قلت، جنگلات کی کٹائی، حیاتیاتی تنوع، فضائی آلودگی، ساحلی کٹاؤ، زرعی بحران، قابلِ تجدید توانائی، موسمیاتی موافقت اور موسمیاتی انصاف جیسے موضوعات پر بھی مسلسل، تحقیقی اور عوامی مفاد پر مبنی رپورٹنگ کرنی چاہیے۔

    آفات سے نمٹنے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ذرائع ابلاغ، محکمہ موسمیات، قومی ادارہ برائے آفات، صوبائی ادارہ برائے آفات، جامعات اور تحقیقی اداروں کے ساتھ مؤثر روابط قائم کریں تو ہنگامی حالات میں درست اور بروقت معلومات عوام تک پہنچانا زیادہ آسان ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق غیر مصدقہ اطلاعات اور سنسنی خیز رپورٹنگ عوام میں خوف و ہراس پیدا کرتی ہے، جبکہ ذمہ دار صحافت لوگوں کو بروقت فیصلے کرنے اور اپنی جان و مال کے تحفظ میں مدد دیتی ہے۔

    ماہرین اس بات پر بھی متفق ہیں کہ پاکستان میں موسمیاتی صحافت کو باقاعدہ ایک خصوصی صحافتی شعبے کا درجہ دیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق ذرائع ابلاغ کے اداروں کو موسمیاتی شعبے قائم کرنے، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، معلوماتی صحافت، سائنسی تحقیق، سیارچہ معلومات اور جدید ڈیجیٹل ذرائع پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ موسمیاتی تبدیلی جیسے پیچیدہ موضوعات کو حقائق اور اعداد و شمار کی بنیاد پر عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔

    ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، قدرتی آفات اور خصوصاً ساحلی علاقوں کو درپیش خطرات کی رپورٹنگ کے دوران سنسنی خیزی سے گریز کرتے ہوئے متوازن، ذمہ دار اور حل پر مبنی صحافت کو فروغ دینا چاہیے تاکہ عوام میں خوف نہیں بلکہ آگاہی، تیاری اور اعتماد پیدا ہو۔

    زمینی حقیقت: مقامی صحافی کن مشکلات کا سامنا کرتے ہیں؟

    دوسری جانب سندھ کے ساحلی علاقوں میں کام کرنے والے مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی پر رپورٹنگ کرنا انتہائی دشوار اور وسائل طلب کام ہے۔ مکلی، ٹھٹھہ، کیٹی بندر، شاہ بندر اور دیگر دور دراز ساحلی علاقوں تک فوری رسائی آسان نہیں ہوتی۔ خراب سڑکیں، محدود ٹرانسپورٹ، کشتیوں پر انحصار، طویل فاصلے، خراب مواصلاتی نظام اور موسم کی سختیاں رپورٹنگ کو مزید مشکل بنا دیتی ہیں۔

    مقامی صحافیوں کے مطابق بیشتر ذرائع ابلاغ کے ادارے انہیں فیلڈ رپورٹنگ کے لیے مناسب سفری اخراجات، حفاظتی سامان، انشورنس یا جدید آلات فراہم نہیں کرتے۔ اس کے باوجود وہ محدود وسائل کے ساتھ متاثرہ علاقوں تک پہنچ کر زمینی حقائق عوام کے سامنے لانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ساحلی آبادیوں کے مسائل، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اور قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات قومی سطح پر اجاگر ہو سکیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مقامی صحافیوں کو جدید تربیت، مالی معاونت، محفوظ سفری سہولیات، ڈیجیٹل آلات اور ادارہ جاتی تعاون فراہم کیا جائے تو پاکستان میں موسمیاتی صحافت کا معیار نمایاں طور پر بہتر ہو سکتا ہے۔ یہی صحافت نہ صرف عوام میں شعور بیدار کرے گی بلکہ حکومت، ماہرین اور متاثرہ مقامی آبادیوں کے درمیان ایک مؤثر رابطے کا کردار بھی ادا کرے گی اور موسمیاتی نظم و نسق کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔