Tag: شیخ حمد بن خلیفہ

  • قطر کو چشمِ زدن میں عالمی معیشت، سفارت کاری اور میڈیا کی سپر پاور بنانے والے شیخ حمد بن خلیفہ

    قطر کو چشمِ زدن میں عالمی معیشت، سفارت کاری اور میڈیا کی سپر پاور بنانے والے شیخ حمد بن خلیفہ

    خلیجِ فارس کے ساحل پر آباد ایک چھوٹے سے روایتی ملک کو چشمِ زدن میں عالمی معیشت، سفارت کاری اور میڈیا کی سپر پاور بنانے والے جدید قطر کے اصل معمار اور سابق امیر، شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی، 74 برس کی عمر میں اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔ قطری شاہی عدالت، امیری دیوان، نے اتوار کی صبح ان کے انتقال کا باضابطہ اور سوگوار اعلان کیا۔

    اس قومی سانحے پر حکومتِ قطر نے ملک بھر میں چار روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے، جس کے دوران پیر سے تمام وزارتیں، تعلیمی ادارے اور سرکاری تنصیبات بند رہیں گی اور قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔ ‘فادر امیر’ کی وفات پر عالمی سطح پر رنج و غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔ پاکستان کے صدر آصف علی زرداری، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی سمیت دنیا بھر کے سربراہانِ مملکت نے قطری قیادت اور عوام سے دلی تعزیت کرتے ہوئے ان کے تاریخی وژن کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔

    ایک۔ صحرا سے صنعتی عروج تک: قطر کا سنہری دور

    شیخ حمد بن خلیفہ 1995 سے 2013 تک قطر کے مسندِ اقتدار پر متمکن رہے، اور ان کا یہ دورِ حکومت قطر کی تاریخ کا تمدنی اور معاشی اعتبار سے سنہری ترین باب شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے قطر کو محض مچھلیوں کے شکار اور موتیوں کی روایتی معیشت سے نکال کر دنیا کے سب سے بڑے سمندری قدرتی گیس کے میدان ‘نارتھ فیلڈ’ کو جدید ترین سائنسی، انجینئرنگ اور صنعتی بنیادوں پر استوار کیا۔

    انہی کے وژن کا کرشمہ تھا کہ قطر کی مائع قدرتی گیس کی پیداوار 77 ملین ٹن سالانہ کی تاریخی سطح تک جا پہنچی۔ اس انقلابی صنعتی جست نے قطر کو فی کس آمدنی کے لحاظ سے دنیا کے امیر ترین ممالک کی پہلی صف میں لا کھڑا کیا اور ملکی مجموعی قومی پیداوار کو وہ تاریخی عروج دیا جس نے خلیج کے پورے تمدنی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔

    عالمی سیاست کا مرکز اور ‘الجزیرہ’ کا صحافتی انقلاب: شیخ حمد نے قطر کو محض ایک چھوٹا جغرافیائی ملک رکھنے کے بجائے اسے عالمی سیاست کا ایک ناگزیر کھلاڑی بنا دیا۔

    صحافت کا نیا رخ:عرب دنیا کی آواز کو عالمی سطح پر پہنچانے والا اور دنیا کے مقبول ترین میڈیا نیٹ ورکس میں شمار ہونے والا ‘الجزیرہ’ نیوز چینل انہی کی فکری سرپرستی اور وژن کے تحت قائم ہوا، جس نے مشرقِ وسطیٰ کے روایتی صحافتی اور سیاسی منظرنامے کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

    ثقافت اور کھیل: قطر کو عالمی کھیلوں اور ثقافت کا مرکز بنانے اور مشرقِ وسطیٰ میں پہلے فیفا ورلڈ کپ کی 2022 میں یادگار میزبانی دلوانے کا پورا بنیادی ڈھانچہ اور فکری اساس شیخ حمد نے ہی رکھی تھی۔

    اقتدار کی رضاکارانہ منتقلی کی عرب دنیا میں منفرد تاریخ: قطر پر برسرِ اقتدار ‘آل ثانی’ خاندان سے تعلق رکھنے والے شیخ حمد بن خلیفہ نے جون 2013 میں عرب دنیا کی مروجہ سیاسی روایات کے برعکس ایک بے مثال تاریخ رقم کی۔ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں، بغیر کسی دباؤ کے، رضاکارانہ طور پر اقتدار چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور سلطنت کی باگ ڈور اپنے چوتھے بیٹے اور موجودہ امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی کے سپرد کر دی، تاکہ نوجوان قیادت نئے جذبے کے ساتھ ملک کو آگے بڑھا سکے۔

    اقتدار سے علیحدگی کے بعد ان کے بیٹے شیخ تمیم کے دورِ حکومت میں انہیں ہمیشہ ‘فادر امیر’ کے عظیم، معزز اور تاریخی مرتبے سے نوازا گیا۔ آج وہ اپنے ملک کو خوشحالی، خود مختاری اور وقار کی بلندیوں پر چھوڑ کر پورے سرکاری اعزاز اور کروڑوں انسانوں کے احترام کے ساتھ رخصت ہو گئے۔ تاریخ انہیں ہمیشہ ایک ایسے دور اندیش معمار کے طور پر یاد رکھے گی جس نے ریت کے ذروں کو سونے میں بدلنے کا ہنر سکھایا۔